بی جے پی رکن اسمبلی کے کشمیر مخالف بیان پر اسمبلی میں ہنگامہ آرائی
اشاعت کی تاریخ: 18th, February 2026 GMT
احتجاج کرنے والے ارکان اسمبلی نے کشمیریوں کو بدنام کرنے پر رندھاوا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں بی جے پی کے رکن اسمبلی وکرم رندھاوا کی طرف سے کشمیری مسلمانوں کو زمینوں پر قبضہ کرنے کو جائز قرار دینے کے متنازعہ بیان پر آج قانون ساز اسمبلی میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ذرائع کے مطابق وکرم رندھاوا نے گزشتہ روز اجلاس کے دوران دعویٰ کیا تھا کہ کشمیریوں نے جموں ڈیولپمنٹ اتھارٹی (جے ڈی اے) کی 90 فیصد اراضی پر قبضہ کر رکھا ہے۔ اس بیان پر آج ایوان میں شدید احتجاج ہوا، کئی جماعتوں کے ارکان نے اس بیان کو تفرقہ انگیز اورتوہین آمیز قرار دیا اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ جیسے ہی وقفہ سوالات ختم ہوا، عوامی اتحاد پارٹی کے رکن شیخ خورشید، کانگریس کے رکن عرفان حفیظ لون اور افتخار احمد نے یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ شیخ خورشید نے کہا کہ رندھاوا نے کشمیریوں پر زمینوں پر قبضے کا الزام لگایا اور وہ خود سرکاری زمین پر قابض ہے۔ کانگریس کے رکن عرفان حفیظ لون نے ”چور مچائے شور“ اور ”کشمیریوں کو بدنام کرنا بند کرو“جیسے نعرے لگائے۔ افتخار احمد نے کہا کہ بی جے پی کشمیریوں کو بدنام کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے انہوں نے پیر پنچال کے علاقے کو بدنام کیا، اب وادی کشمیر کے لوگوں کو بدنام کر رہے ہیں۔نیشنل کانفرنس کے ارکان بھی احتجاج میں شامل ہوئے اور ”چور مچائے شور“ کے نعرے لگائے۔ احتجاج کرنے والے ارکان اسمبلی نے کشمیریوں کو بدنام کرنے پر رندھاوا سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیریوں کو بدنام کے رکن
پڑھیں:
آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور اور اس سے ملحقہ علاقوں میں گزشتہ 47 روز سے معطل انٹرنیٹ سروس جزوی طور پر بحال ہونا شروع ہو گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ابتدائی مرحلے میں صرف موبائل انٹرنیٹ بحال کیا گیا ہے، جبکہ وائی فائی انٹرنیٹ سروس بلنگ کا عمل مکمل ہونے کے بعد بحال کی جائے گی۔
یاد رہے کہ آزاد کشمیر میں 5 جون 2026 کو انٹرنیٹ سروسز معطل کر دی گئی تھیں۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا تھا جب جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جیک) نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک شروع کرتے ہوئے 9 جون کو مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں 5 جون کو ایکشن کمیٹی کے ایک مرکزی رکن پر مبینہ حملے اور مظاہرین و سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کے بعد حکومت نے کمیٹی کو کالعدم قرار دے دیا تھا، جبکہ اسی روز پورے آزاد کشمیر میں بغیر پیشگی اطلاع انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی تھی۔
اس سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر اور الیکشن کمیشن کی جانب سے انٹرنیٹ بحالی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی تھی کہ میرپور میں سروس جلد بحال ہو جائے گی۔ انہوں نے یہ توقع بھی ظاہر کی کہ مظفرآباد اور دیگر علاقوں میں بھی انٹرنیٹ سروس جلد بحال کر دی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آزاد کشمیر میں قانون ساز اسمبلی کے انتخابات قریب ہیں۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی سکیورٹی اور انتخابی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے انتخابات تین مراحل میں کرانے کا اعلان کر چکا ہے۔
شیڈول کے مطابق پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن، دوسرے مرحلے میں 2 اگست کو مظفرآباد ڈویژن اور مہاجرین کی نشستوں، جبکہ تیسرے اور آخری مرحلے میں 10 اگست کو پونچھ ڈویژن میں پولنگ ہوگی۔دوسری جانب کالعدم ایکشن کمیٹی کا راولاکوٹ میں احتجاج تاحال جاری ہے۔ کمیٹی کے اہم مطالبات میں مہاجرینِ مقبوضہ کشمیر کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی میں مختص 12 نشستوں کے خاتمے سمیت دیگر آئینی اور انتظامی امور شامل ہیں۔