آئین لکھنے کا حق پارلمینٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو نہیں، اسپیکر پنجاب اسمبلی
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ آئین لکھنے کا حق پارلمینٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو آئین لکھنے کا حق نہیں ہے۔
جوڈیشل کمپلیکس لاہور کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے آج ذہنی کوفت ہوئی ہے ہتک عزت کے دعوی میں پیش ہوا ہوں، یہ دونوں ایک شخصیت ہیں ان کے اس کیس سات آٹھ سال سے زیر سماعت ہے، مجھے نظام عدل پر اور بطور گواہ ہونے پر یہ کیس جلد حل ہونا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ وکلاء اور ہم سب لوگوں کو ملکر بیٹھنا چاہیے اور اس کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا، نظام عدل میں لوگوں کو بروقت انصاف ملنا چاہیے، یہ ترامیم آج ہوئی ہیں، میں پچھلے پندرہ سال سے شور مچا رہا ہوں۔
ان کا کہنا تھا کہ میں بطور اسپیکر اپوزیشن کو زیادہ وقت دیتا ہوں، آئین لکھنے کا حق پارلمینٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو آئین لکھنے کا حق نہیں ہے۔
قبل ازیں سیشن کورٹ لاہور میں شہباز شریف کا بانی پی ٹی آئی کے خلاف دائر ہتک عزت کے دعوی پر سماعت ہوئی، عدالت نے شہباز شریف کے مزید گواہوں آئندہ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
عدالت نے سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی، ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی نے شہباز شریف کے دعوی پر سماعت کی۔
شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف دس ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کررکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: آئین لکھنے کا حق شہباز شریف
پڑھیں:
برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیرِ اعظم شہباز شریف—فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ صنعتی مصنوعات کی پیداوار میں اضافے سے برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات ترجیح ہیں۔
وزیرِاعظم کی زیرِ صدارت سرمایہ کاری میں اضافے، شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سے مختلف زیرِغور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اسحاق ڈار، محمد اورنگزیب، احد چیمہ، عطاء تارڑ شریک ہوئے۔
نوجوانوں کو جدید علم اور مہارتوں سے آراستہ کرنا وقت کی ضرورت ہے، اے آئی کے فوائد اور چیلنجز دونوں ہیں: شہباز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لیے صنعت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی کی ضروریات متبادل توانائی ذرائع سے پوری کرنے کے لیے بھر پور کام ہو رہا ہے۔
وزیرِ اعظم کا مزید کہنا ہے کہ توانائی بچانے اور سستی ٹرانسپورٹ کے لیے الیکٹرک وہیکلز پالیسی ضروری ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے یہ بھی کہا کہ تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی اولین ترجیح ہے۔