اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے کہا ہے کہ آئین لکھنے کا حق پارلمینٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو آئین لکھنے کا حق نہیں ہے۔

جوڈیشل کمپلیکس لاہور کے باہر میڈیا سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ مجھے آج ذہنی کوفت ہوئی ہے ہتک عزت کے دعوی میں پیش ہوا ہوں،  یہ دونوں ایک شخصیت ہیں ان کے اس کیس سات آٹھ سال سے زیر سماعت ہے،  مجھے نظام عدل پر اور بطور گواہ ہونے پر یہ کیس جلد حل ہونا چاہیے تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ وکلاء اور ہم سب لوگوں کو ملکر بیٹھنا چاہیے اور اس کی بہتری کے لیے کام کرنا ہوگا،  نظام عدل میں لوگوں کو بروقت انصاف ملنا چاہیے، یہ ترامیم آج ہوئی ہیں، میں پچھلے پندرہ سال سے شور مچا رہا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ میں بطور اسپیکر اپوزیشن کو زیادہ وقت دیتا ہوں، آئین لکھنے کا حق پارلمینٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو آئین لکھنے کا حق نہیں ہے۔

قبل ازیں سیشن کورٹ لاہور  میں شہباز شریف کا بانی پی ٹی آئی کے خلاف دائر ہتک عزت کے دعوی پر سماعت ہوئی،  عدالت نے شہباز شریف کے مزید گواہوں آئندہ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

عدالت نے سماعت 13 دسمبر تک ملتوی کردی، ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی نے شہباز شریف کے دعوی پر سماعت کی۔

شہباز شریف نے بانی پی ٹی آئی کے خلاف دس ارب روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کررکھا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: آئین لکھنے کا حق شہباز شریف

پڑھیں:

بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آنے والے بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف سے ملک کے معروف صنعتکاروں اور ممتاز کاروباری شخصیات کے وفد نے اسلام آباد میں ملاقات کی۔

اس موقع پر کاروباری طبقے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ حکومت ایسی صنعتوں کے فروغ کیلیے کوشاں ہے، جن سے ملکی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ اور ملازمتوں کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔

وزیراعظم نے کہا کہ کاروبار دوست پالیسیوں سے ملکی معیشت مستحکم اور بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ برآمدات پر مبنی ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، یہی ہماری معاشی پالیسی کا محور ہے جب کہ غیر رسمی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا رہا ہے۔

شہباز شریف نے مزید کہا کہ صنعت، زراعت اور آئی ٹی شعبوں میں ترقی سے معیشت کو مزید استحکام ملے گا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ نوجوانوں کیلیے تکنیکی اور فنی تربیت کے پروگرام شروع کیے ہیں، اس پروگرام سے بھی روزگار ملنے میں آسانی ہوگی اور قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کیا جا سکے گا۔

انہوں نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کی مضبوط شراکت داری ہی معاشی ترقی کی ضمانت ہے اور پاکستانی معیشت سے متعلق پالیسی سازی میں مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔

اس موقع پر کاروباری رہنماؤں نے وزیراعظم کی قیادت میں معاشی بحالی کے سفر اور بہتر مالیاتی انتظام پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ٹیکس اصلاحات اور کاروباری آسانیوں کے فروغ کے اقدامات کا خیر مقدم کیا اور ساتھ ہی ڈیجیٹل ادائیگیوں اور دستاویزی معیشت کے فروغ کے حکومتی وژن کو سراہا۔

مزید پڑھیں۔جی بی الیکشن:سکردو سےمسلم لیگ ن کو بڑی کامیابی مل گئی

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر سردار ایاز صادق کی اصلاحاتی پالیسیوں سے قومی اسمبلی کے اخراجات میں نمایاں کمی
  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • سپریم کورٹ نے نشے کی حالت کو بنیاد بناکر مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی درخواست مسترد کر دی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
  • سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
  • کمسن بچی کے قتل کیس میں مجرم کی اپیل مسترد، سزائے موت برقرار
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • زیر التوا مقدمات کو جلد نمٹانے کے لیے سپریم کورٹ کا بڑا انتظامی فیصلہ
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف