نو مئی ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس، ملزمان کی فرانزک تصدیق کیلئے درخواست دائر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
نو مئی ریڈیو پاکستان پشاور حملہ کیس، ملزمان کی فرانزک تصدیق کیلئے درخواست دائر WhatsAppFacebookTwitter 0 29 November, 2025 سب نیوز
پشاور (آئی پی ایس) نو مئی کو ریڈیو پاکستان پشاور پر حملے میں ملوث ملزمان کی پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے تصدیق اور نادرا سے شناخت کے لیے درخواست دائر کردی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق درخواست مدعی مقدمہ کے وکیل شبیر حسین گگیانی ایڈووکیٹ نے پشاور میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں دائر کی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ واقعے کے کرائم ویڈیوز کی پی ایف ایس اے سے تصدیق اور نادرا سے شناخت کی جائے۔ درخواست کے متن میں درج تھا کہ ویڈیوز کے معائنے سے اشتغال دلانے حملہ کرنے اور دیگر عناصر کی شناخت ضروری ہے۔
مزید برآں ویڈیوز میں جانے پہچانے لوگ بھی نظر آرہے ہیں جو احتجاج کا حصہ تھے۔ ویڈیوز کے معائنے سے اصل ملزمان کی تصدیق ہوگی، ویڈیوز کی فرانزک سے متعلق اعلی عدالتوں کے فیصلے موجود ہے۔ عدالت براہ راست ارسال کریں یا کسی پولیس کی تفتیشی ونگ کو احکامات جاری کریں۔
درخواست کے ساتھ تمام ویڈیوز کی یو ایس بی بھی فراہم کردی گئی ہیں۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف وائٹ ہاؤس فائرنگ کے افغان ملزم کو سیاسی پناہ کس نے دی؟ اہم انکشاف افغان پاسپورٹس پر امریکی ویزے اور اسائلم کی درخواستوں پر کام بند وفاقی دفتر خزانہ اسلام آباد میں منظم بے ضابطگیوں کا میگا اسکینڈل بے نقاب پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج یومِ یکجہتی فلسطین منایا جا رہا ہے اسرائیل کا حماس کی سرنگوں میں اب تک 30 فلسطینیوں کو شہید کرنے کا دعویٰ جیل قانون کے مطابق سپیریئر قیدی کو سیاسی ملاقاتوں کی اجازت نہیں، بیرسٹر عقیل ملکCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ملزمان کی
پڑھیں:
سندھ ہائیکورٹ نے غنی امان چانڈیو اور سرمد میرانی کی درخواست مسترد کر دی
سندھ ہائیکورٹ نے غنی امان چانڈیو اور سرمد میرانی کے خلاف دھماکا خیز مواد رکھنے کے مقدمے کو ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی۔
عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ مقدمہ ختم کرنے کی درخواست قبول نہیں کی جا سکتی، اور دونوں ملزمان کے خلاف کیس جاری رہے گا۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ دونوں ملزمان کو پہلے غیر قانونی طور پر لاپتا کیا گیا، غنی امان چانڈیو کو اسپتال سے اور سرمد میرانی کو گھر سے اٹھایا گیا۔ بعد ازاں ان کے خلاف دہشتگردی کا مقدمہ دائر کیا گیا اور جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا۔
ابتدائی طور پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے دونوں کو مقدمے سے بری کر دیا تھا، تاہم سندھ ہائیکورٹ نے اس فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے سی ٹی ڈی کو ریمانڈ انسداد دہشتگردی عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دی۔
اب دونوں ملزمان عدالتی ریمانڈ پر جیل میں موجود ہیں اور مقدمہ کی کارروائی جاری رہے گی۔