سندھ ہائی کورٹ :ای چالان کیخلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی(اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے اجرا سے متعلق موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم اور ای چالان کے خلاف درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے۔جسٹس عدنان اقبال چودھری کی سربراہی میں 2 رکنی آئینی بینچ کے روبرو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ای چالان کے اجرا سے متعلق موٹر وہیکل آرڈیننس میں ترمیم اور ای چالان کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔ درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ شہر میں سڑکوں کا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے، شہر میں ٹریفک سگنلز بھی مکمل طور پر فعال نہیں ہیں لیکن اب تک 93 ہزار سے زاید ای چالان جاری کیے جاچکے ہیں۔درخواست گزار نے موقف دیا کہ سندھ حکومت کے مطابق ای چالان کے جرمانے کا نوٹیفکیشن گزٹ میں شائع نہیں ہوا ہے۔ گزٹ میں شائع نا ہونے کے باعث 2023ء کے منظور شدہ جرمانے ہی نافذ ہوں گے۔ ای چالان کے ذریعے کیے جانے والے بھاری جرمانے غیر قانونی ہیں۔عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔ عدالت نے درخواست کو اسی نوعیت کی دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: چالان کے
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔