سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے کراچی میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر جاری ہونے والے ای چالان اور موٹر وہیکل آرڈیننس میں ہونے والی ترامیم کے خلاف دائر درخواست پر پیش رفت کرتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
جسٹس عدنان اقبال چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی، جہاں درخواست گزار طارق منصور ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ شہر کا ٹریفک نظام درہم برہم ہے، سڑکوں کی حالت خستہ ہے اور متعدد ٹریفک سگنلز بھی فعال نہیں، اس کے باوجود اب تک 93 ہزار سے زائد ای چالان جاری کیے جا چکے ہیں۔
درخواست گزار نے مزید بتایا کہ سندھ حکومت کے مطابق ای چالان کے جرمانوں سے متعلق نوٹیفکیشن ابھی تک گزٹ میں شائع نہیں ہوا، جس کا مطلب ہے کہ صرف 2023 کے منظور شدہ جرمانے ہی قانونی طور پر نافذ ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ ای چالان میں عائد بھاری جرمانے غیر قانونی ہیں۔
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا اور ہدایت کی کہ اس درخواست کو اسی نوعیت کے دیگر مقدمات کے ساتھ منسلک کیا جائے۔ سماعت 11 دسمبر تک ملتوی کر دی گئی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، ہل پارک کے اطراف میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف آپریشن، پلاٹس مسمار
  • شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  •  یکم جون سے فیس لیس چالان سسٹم کا آغاز،پہلے دن کتنے چالان جاری ہوئے؟ تفصیلات سامنے آگئی
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • کراچی: شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی پر پہلے روز کتنے چالان ہوئے؟
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا