شہری کی نجی تعلیمی ادارے کے خلاف شکایات موصول ہونے پر کمشنر کا ایکشن
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نوابشاہ (نمائندہ جسارت) شہری کی جانب سے نجی تعلیمی ادارے کے خلاف شکایت موصول ہونے پر کمشنر شہید بینظیر آباد ڈویژن نے فوری طور پر معاملہ متعلقہ محکمے کو بھیجتے ہوئے ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز کو ہدایت کی ہے کہ وہ شکایت پر قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے اپنی رپورٹ جلد از جلد جمع کروائیں۔ذرائع کے مطابق شہر کے رہائشی نے درخواست میں کہا تھا کہ نجی تعلیمی ادارہ قوانین کے برخلاف مختلف نوعیت کی سرگرمیوں میں ملوث ہے، جن میں ممکنہ طور پر اضافی فیس، غیر قانونی چارجز، طلبہ پر زبردستی چیزیں خریدنے کا دباؤ، یا دیگر خلاف ورزیاں شامل ہوسکتی ہیں۔درخواست موصول ہونے کے بعد کمشنر آفس نے اسے “خود وضاحتی” قرار دیتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ اتھارٹی کو ارسال کیا اور ڈائریکٹر پرائیویٹ اسکولز سے کہا ہے کہ وہ قانونی ضابطوں Private Educational Institutions (Promotion & Regulation) Ordinance / Rules کے تحت تحقیقات کریں سرکاری ذرائع کے مطابق ضلعی انتظامیہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ اگر کسی شہری کو نجی اسکول کے عمل سے نقصان پہنچے، تو ڈپٹی کمشنر یا ڈسٹرکٹ رجسٹریشن اتھارٹی براہِ راست معاملے کی انکوائری کر سکتی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔