پی ٹی آئی خواتین کارکنوں پر مرد پولیس کا تشدد انتہائی شرمناک ہے‘ زین شاہ
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے صدر اور کنوینر دریائے سندھ بچاؤ تحریک سید زین شاہ نے کراچی پریس کلب کے باہر پاکستان کے تحریک انصاف کے سرپرست اعلیٰ عمران خان سے ملاقاتوں کی مسلسل بندش کے خلاف پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے پرامن احتجاج پر پولیس کے تشدد اور پی ٹی آئی سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ سمیت درجنوں کارکنان کی گرفتاریوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام بنیادی انسانی حقوق، آئینِ پاکستان اور جمہوری اقدار کی کھلی توہین اور سنگین پامالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ملاقاتوں پر ناجائز پابندیاں عائد کرنا، ان کو عملی طور پر قیدِ تنہائی میں رکھنا اور اب ان ظالمانہ اقدامات کے خلاف پُرامن احتجاج کرنے والوں کو تشدد کا نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ملک میں آئین نہیں بلکہ طاقت کا راج نافذ کیا جا رہا ہے۔ مرد پولیس اہلکاروں کا خواتین کارکنان پر تشدد انتہائی شرمناک، قابلِ گرفت اور ناقابلِ برداشت فعل ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سید زین شاہ نے کہا کہ سندھ میں عملی طور پر سویلین ڈکٹیٹرشپ مسلط ہے جہاں حکمران جماعت عوامی آواز کو دبانے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کو بطور لاٹھی استعمال کر رہی ہے۔ جس ملک میں سیاسی اختلاف رائے کو جرم بنا دیا جائے وہاں جمہوریت نہیں، ریاستی جبر ہوتا ہے۔ دفعہ 144 کو سیاسی مخالفین کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، سیاسی کارکنوں کے خلاف ریاستی طاقت کے استعمال کا سلسلہ بند کیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
شارع فیصل، کس لین میں گاڑی چلائی تو چالان نہیں ہوگا؟
کراچی میں شارع فیصل پر ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لیے ٹریفک لین کی پاسداری کرانے کے لیے قوانین پر سختی عملدرآمد کیا جارہا ہے۔
ٹریفک لین کی خلاف ورزی پر 24 گھنٹوں کے دوران 96 چالان جاری کیے گئے ہیں۔
کراچی میں ٹریفک جام اور حادثات کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیچھے کئی وجوہات ہیں، لیکن ایک بڑی وجہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
شہر کی سڑکوں پر مختلف گاڑیوں کے لیے مخصوص لینز تو موجود ہیں، اور زیادہ تر شہری اس بات سے واقف بھی ہیں کہ کون سی لین کس قسم کی گاڑی کے لیے مختص ہے، مگر وقت بچانے اور جلد منزل تک پہنچنے کی دوڑ میں اکثر لوگ ان اصولوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔
ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کو روکنے اور سڑکوں پر نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے ٹریفک پولیس نے پہلے ہی ای-ٹکٹنگ سسٹم نافذ کیا ہوا ہے، لیکن اب شارع فیصل پر لین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو خودکار طریقے سے جرمانے جاری کیے جائیں گے۔
ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ کے مطابق ٹریفک جام کی صورت میں شہریوں کو لین تبدیل کرنے کی رعایت ہے، لیکن سست ٹریفک پر شہریوں کو مقررہ لین میں ہی رہنا ہوگا اور ہیوی بائیک رائڈرز بھی لین کی خلاف ورزی کریں گے تو چالان ہوگا۔
دوسری جانب شہریوں نے اس اقدام کو ٹریفک نظم و ضبط کی جانب ایک مثبت پیشرفت قرار دیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے ساتھ ساتھ عوامی آگاہی بھی انتہائی ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نئے نظام اور لین ڈسپلن کے اصولوں سے واقف ہو سکیں۔
قانون تو موجود ہے، اب اصل امتحان اس پر عملدرآمد اور شہریوں کے تعاون کا ہے۔ اگر دونوں ساتھ چلیں تو شاید کراچی کی سڑکیں زیادہ محفوظ اور منظم بن سکیں۔