Jasarat News:
2025-11-29@00:00:59 GMT

غزہ کی بابت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد (1)

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251129-03-5
مفتی منیب الرحمن
نوٹ: ہمیں اصطلاحی انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے کا ملکہ اور مہارتِ تامّہ نہیں ہے‘ ہم نے مصنوعی ذہانت (AI) سے ترجمہ کرایا مگر وہ بھی تحتَ اللّفظ ہے‘ غیر مربوط ہے‘ مختلف ٹکڑوں میں ہے‘ مبتدا خبر کا پتا چلتا ہے نہ جملۂ تامّہ بنتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ AI کو ابھی لمبا سفر طے کرنا ہے۔ ہم نے اپنی بساط کے مطابق بامحاورہ ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے‘ ہم اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں اس کی بابت صاحبانِ علم ہی بتا سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے دس ہزار چھیالیسویں اجلاس میں منظور کردہ قرارداد نمبر 2803 (2025) کا متن حسب ِ ذیل ہے:

’’سیکورٹی کونسل 29 ستمبر 2025ء کو غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے کا خیر مقدم کرتی ہے اور ان ممالک کی تحسین کرتی ہے جنہوں نے اس پر دستخط کیے ہیں‘ قبول کیا ہے اور توثیق کی ہے۔ 13 اکتوبر 2025ء کو پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے ٹرمپ کے تاریخی اعلامیے اور امریکا، قطر، عرب جمہوریۂ مصر اورجمہوریۂ ترکیے کے اْس تعمیری کردار کا خیر مقدم کرتی ہے جس کے تحت غزہ کی پٹی میں جنگ بندی ہوئی۔ کونسل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ غزہ کی پٹی میں جو صورتحال تھی وہ علاقائی امن اور پڑوسی ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ تھی، سلامتی کونسل مسئلہ فلسطین سمیت اْن تمام متعلقہ قراردادوں کی توثیق کرتی ہے جو شرقِ اَوسط کی صورتحال سے متعلق تھیں۔

(1) سلامتی کونسل جامع منصوبے کی توثیق کرتی ہے اور تسلیم کرتی ہے کہ متعلقہ فریقوں نے اسے قبول کر لیا ہے اور تمام فریقوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اور کسی تاخیر کے بغیر اس منصوبے کو مکمل طور پر نافذ کریں۔ (2) سلامتی کونسل عبوری انتظامیہ کے طور پر ’’بین الاقوامی شخصِ قانونی‘‘ مجلس ِ امن (Board of Peace) کے قیام کو خوش آمدید کہتی ہے جو غزہ کی بحالی کے لیے ایک طریقۂ کار وضع کرے گی اور جامع منصوبے کی متابعت میں غزہ کی بحالی کی خاطر مالی وسائل جمع کرنے کے لیے اس طرح رابطہ ٔ کار کا کام انجام دے گی کہ وہ بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق ہو۔ یہ مجلس ِ امن اس وقت تک قائم رہے گی جب تک فلسطینی اتھارٹی بشمول صدر ٹرمپ کے امن منصوبے اور سعودی فرانسیسی تجاویز کے اطمینان بخش طریقے سے اپنا اصلاحاتی لائحۂ عمل طے کرے اور متعدد تجاویز کی نشاندہی کرے اور موثر اور محفوظ طریقے سے غزہ کا کنٹرول واپس لے سکے۔ فلسطینی اتھارٹی کے اصلاحاتی پروگرام کو دیانت داری سے روبہ عمل لانے اور غزہ کی بحالی پر قابل ِ اعتماد پیش رفت کے بعد آخر کار فلسطینی خود مختاری اور ریاست کے قیام کے لیے حالات بااعتماد طریقے سے سازگار ہوجائیں گے۔ اس موقع پر پْرامن اور خوشحال بقائے باہمی کے لیے امریکا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کے لیے ایک مکالمے کا انعقاد کرے گا۔ (3) سلامتی کونسل اس پر زور دیتی ہے کہ مجلس ِ امن (BOP) کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کو اس طریقے سے منظّم کیا جائے جو بین الاقوامی قانونی اصولوں کو شامل ہو اور اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی اور ہلالِ احمر سمیت ہم مقصد تنظیموں کے ساتھ مربوط ہو۔ نیز اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ یہ امداد مکمل طور پر پْرامن مقاصد کے لیے ہوگی اور مسلّح گروہوں کی طرف اس کا رخ نہیں موڑا جائے گا۔ (4) یہ قرارداد مجلس ِ امن (BOP) اور مجلس ِ امن میں شرکت کرنے والے ممالک کو مندرجہ ذیل امور کی اجازت دیتی ہے: (الف) جامع منصوبے کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے حسبِ ضرورت وہ ایسے معاہدات میں شامل ہوں جو ذیل میں پیراگراف 7 (الف) اور 7 (ب) کے تحت قائم کردہ فورس کے اہلکاروں کے استحقاق اور استثنات سے متعلق ہوں۔ (ب) بین الاقوامی قانونی شخصیت (International Legal Personality) اور عبوری انتظامیہ کے اشتراک سے حسب ِ ضرورت ایسے اداروں کا قیام جو اس کی کارکردگی کو عمل میں لائیں۔ ان میں یہ امور شامل ہیں: (الف) عبوری حکومتی انتظامیہ کا قیام جسے غزہ پٹی میں رہنے والے فلسطینی فنی ماہرین اور غیر سیاسی فلسطینیوں کی معاون اور نگران باصلاحیت کمیٹی کا تعاون حاصل ہو‘ نیز اسے عرب لیگ کی بھی حمایت حاصل ہو۔ یہ غزہ کے روز مرہ انتظامی معاملات‘ سول سروس اور انتظامی امور کی نگرانی کرے گی۔ (ب) یہ غزہ کی تعمیر ِ نو اور اقتصادی بحالی کے منصوبے تجویز کرے گی۔ (ج) یہ غزہ میں عوامی خدمات اور انسانی امداد کی فراہمی میں رابطہ ٔ کار اور معاونت کے فرائض انجام دے گی۔ (د) یہ غزہ کے اندر آنے اور باہرجانے والے افراد کی نقل وحرکت کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کرے گی جو جامع منصوبے کے مطابق ہو۔ (ہ) جامع منصوبے کے نفاذ کے لیے یہ ایسے اضافی اقدامات بھی کر سکے گی جو ضروری ہوں اور اس کے لیے مْمِدّومعاون ہوں۔

(5) اس قرارداد سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پیراگراف 4 میں جن آپریشنل اداروں کا حوالہ دیا گیا ہے‘ وہ عبوری انتظامیہ اور مجلس ِ امن (BOP) کی نگرانی میں مصروفِ عمل ہوں گے‘ انہیں رضاکارانہ عطیہ دہندگان اور مجلس ِ امن (BOP) کی عطا کردہ گاڑیوں اور حکومتوں کے عطیات سے مالی مدد دی جائے گی۔ (6) یہ قرارداد ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کو متوجہ کرتی ہے کہ وہ غزہ کی تعمیر ِ نو اور ترقیاتی کاموں کے لیے مالی وسائل فراہم کریں۔ اس مقصد کے لیے عطیات پر مشتمل ایک وقف فنڈ قائم کیا جائے گا جسے عطیہ دہندگان کنٹرول کریں گے۔ (7) یہ قرارداد مجلس ِ امن اور اس کے ساتھ کام کرنے والے رکن ممالک کو غزہ میں متحدہ کمان کے تحت ایک عارضی بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے‘ جو مجلس ِ امن کے لیے قابل ِ قبول ہو۔ یہ فورس عرب جمہوریۂ مصر اور اسرائیل کی مشاورت اور تعاون سے شریک ممالک کی طرف سے فراہم کی جائے گی۔ یہ اپنے تفویض کردہ اختیارات کو استعمال کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی جو بین الاقوامی قانون اور انسانی قوانین کے تابع ہوں۔ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کرکام کرے گی‘ اس کا ان کے موجودہ معاہدات کے ساتھ کوئی متعصبانہ رویہ نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں ان کے ساتھ فلسطینی پولیس کی تربیت یافتہ نفری بھی شامل ہو گی‘ جس کی پہلے سے جانچ پڑتال کر لی گئی ہوگی۔ اس فورس کے مقاصد میں سرحدی علاقوں کی حفاظت‘ نیز غزہ میں سلامتی کے ماحول کا استحکام اور غزہ کی پٹی کو غیر مسلّح کرنا ہوگا اور پہلے سے قائم فوجی تنصیبات کو تباہ کرنا اور نئے مسلّح گروہوں کے قیام‘ غیر ریاستی عناصرکی جتھّا بندی اور دہشت گردی کو روکنا ہو گا۔ نیز عام شہریوں کی حفاظت اور انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں کو تحفظ دینا ہو گا۔ جونہی بین الاقوامی استحکام فورس غزہ میں اپنا کنٹرول قائم کرتی ہے اور اْسے استحکام ملتا ہے تو اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) غزہ کی پٹی سے انخلا کریں گی اور یہ مسلّمہ بنیادوں اور معیارات پر ہوگا‘ نیز خطے کو غیر مسلّح کرنے کے لیے ایک لائحۂ عمل دینا ہو گا جس پر اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) اور بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کا اتفاق ہو اور ضامن قوتیں اور امریکا ایسی سلامتی اور موجودگی کی ضمانت دیں گے جو اْس وقت تک غزّہ میں مقیم رہیں گے کہ لوگوں کی جائدادیں برباد ہونے‘ دوبارہ فساد برپا ہونے یا دہشت گردی پیدا ہونے کے خطرات سے محفوظ ہوں۔ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کرنے میں مجلس امن (BOP) کو تعاون فراہم کرے گی تاکہ جامع پلان کو حاصل کرنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جاسکیں اور انہیں مجلس ِ امن کی تزویراتی رہنمائی میں نافذ کیا جا سکے اور ان تمام انتظامات کے لیے عطیہ دہندگان سے رضاکارانہ عطیات لیے جائیں گے اور مجلس ِ امن اور حکومتوں کی ٹرانسپورٹ سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ (جاری)

نوٹ: یہ محنت ہم نے اس لیے کی کہ کسی قومی اخبار میں ہمیں یہ پورا متن نہیں ملا‘ اگلی قسط میں قرارداد کا بقیہ حصہ اور پھر پوری قرارداد پر ہمارا تبصرہ شامل ہوگا۔

سیف اللہ.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی استحکام فورس سلامتی کونسل کرنے کے لیے کرتی ہے کہ غزہ کی پٹی اور مجلس امن اور پٹی میں شامل ہو کے ساتھ اور اس یہ غزہ کرے گی اور ان ہے اور

پڑھیں:

سٹی کونسل کراچی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کیخلاف میں قرارداد جمع

قرارداد میں کہا گیا کہ بھارتی وزیر دفاع کا سندھ کے مستقبل میں بھارت کا حصہ بننے سے متعلق بیان ہرزہ سرائی ہے، پاکستان کے عوام ہر اختلاف سے بالاتر ہو کر ملک کی ایک ایک انچ کے دفاع کا عزم رکھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر و اپوزیشن لیڈر کراچی میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) سیف الدین ایڈووکیٹ نے سٹی کونسل  میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے پاکستان کے صوبہ سندھ سے متعلق بیان کے خلاف قرارداد جمع کرا دی، جس میں بھارتی وزیر دفاع کے اس بیان کی شدید مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ بھارتی وزیر دفاع کا سندھ کے مستقبل میں بھارت کا حصہ بننے سے متعلق بیان ہرزہ سرائی ہے، پاکستان کے عوام ہر اختلاف سے بالاتر ہو کر ملک کی ایک ایک انچ کے دفاع کا عزم رکھتے ہیں، پاکستان کے کسی صوبے سے متعلق غلط خیال رکھنے والوں کو بنگلہ دیش سے سبق لینا چاہیئے، جہاں آج ہندوستان کے ایجنٹوں کو عدالت سے پھانسی کی سزائیں ہو رہی ہیں۔

سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ سٹی کونسل پوری دنیا کو یہ بتا دینا چاہتی ہے کہ کلمہ طیبہ کے نام پر اپنے اس وطن عزیز کا ہر حصہ ہمارے لیے مقدس حیثیت رکھتا ہے اور کسی کو بھی اس کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے کی بھی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور کسی بھی دشمن ملک یا اس کے ایجنٹوں کو ملک کے اندر قدم رکھنے کی بھی جگہ نہیں ملے گی، یہ ملک اسلام کے نام پر قائم ہوا اور ہمیشہ قائم رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • 29 نومبر یومِ یکجہتیِ فلسطین یا خیات کا عالمی دن
  • سٹی کونسل کراچی میں بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کے بیان کیخلاف میں قرارداد جمع
  • کے ایم سی سٹی کونسل میں بھارتی وزیر دفاع کے اشتعال انگیز بیان کے خلاف قرارداد جمع
  • شام پر اسرائیل کا حملہ ناقابل قبول ہے، اقوام متحدہ
  • علامہ ساجد نقوی کی ڈاکٹر علی لاریجانی سے ملاقات
  • اقوام متحدہ میں انسانی سمگلنگ کی روک تھام کیلئے قرارداد منظور
  • اقوام متحدہ کا نیا سیکریٹری جنرل کون ہو گا؟
  • لبنان میں اسرائیلی حملے: اقوام متحدہ کا سخت ردعمل، فوری تحقیقات کا مطالبہ
  • اقوامِ متحدہ نے 2025ء کو ’’عالمی سالِ کوانٹم سائنس و ٹیکنالوجی‘‘ قرار دے دیا