Jasarat News:
2026-06-03@08:43:16 GMT

غزہ کی بابت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد (1)

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251129-03-5
مفتی منیب الرحمن
نوٹ: ہمیں اصطلاحی انگریزی سے اردو میں ترجمہ کرنے کا ملکہ اور مہارتِ تامّہ نہیں ہے‘ ہم نے مصنوعی ذہانت (AI) سے ترجمہ کرایا مگر وہ بھی تحتَ اللّفظ ہے‘ غیر مربوط ہے‘ مختلف ٹکڑوں میں ہے‘ مبتدا خبر کا پتا چلتا ہے نہ جملۂ تامّہ بنتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ AI کو ابھی لمبا سفر طے کرنا ہے۔ ہم نے اپنی بساط کے مطابق بامحاورہ ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے‘ ہم اس کوشش میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں اس کی بابت صاحبانِ علم ہی بتا سکتے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے دس ہزار چھیالیسویں اجلاس میں منظور کردہ قرارداد نمبر 2803 (2025) کا متن حسب ِ ذیل ہے:

’’سیکورٹی کونسل 29 ستمبر 2025ء کو غزہ تنازع کے خاتمے کے لیے جامع منصوبے کا خیر مقدم کرتی ہے اور ان ممالک کی تحسین کرتی ہے جنہوں نے اس پر دستخط کیے ہیں‘ قبول کیا ہے اور توثیق کی ہے۔ 13 اکتوبر 2025ء کو پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے ٹرمپ کے تاریخی اعلامیے اور امریکا، قطر، عرب جمہوریۂ مصر اورجمہوریۂ ترکیے کے اْس تعمیری کردار کا خیر مقدم کرتی ہے جس کے تحت غزہ کی پٹی میں جنگ بندی ہوئی۔ کونسل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ غزہ کی پٹی میں جو صورتحال تھی وہ علاقائی امن اور پڑوسی ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ تھی، سلامتی کونسل مسئلہ فلسطین سمیت اْن تمام متعلقہ قراردادوں کی توثیق کرتی ہے جو شرقِ اَوسط کی صورتحال سے متعلق تھیں۔

(1) سلامتی کونسل جامع منصوبے کی توثیق کرتی ہے اور تسلیم کرتی ہے کہ متعلقہ فریقوں نے اسے قبول کر لیا ہے اور تمام فریقوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ اور کسی تاخیر کے بغیر اس منصوبے کو مکمل طور پر نافذ کریں۔ (2) سلامتی کونسل عبوری انتظامیہ کے طور پر ’’بین الاقوامی شخصِ قانونی‘‘ مجلس ِ امن (Board of Peace) کے قیام کو خوش آمدید کہتی ہے جو غزہ کی بحالی کے لیے ایک طریقۂ کار وضع کرے گی اور جامع منصوبے کی متابعت میں غزہ کی بحالی کی خاطر مالی وسائل جمع کرنے کے لیے اس طرح رابطہ ٔ کار کا کام انجام دے گی کہ وہ بین الاقوامی قانونی اصولوں کے مطابق ہو۔ یہ مجلس ِ امن اس وقت تک قائم رہے گی جب تک فلسطینی اتھارٹی بشمول صدر ٹرمپ کے امن منصوبے اور سعودی فرانسیسی تجاویز کے اطمینان بخش طریقے سے اپنا اصلاحاتی لائحۂ عمل طے کرے اور متعدد تجاویز کی نشاندہی کرے اور موثر اور محفوظ طریقے سے غزہ کا کنٹرول واپس لے سکے۔ فلسطینی اتھارٹی کے اصلاحاتی پروگرام کو دیانت داری سے روبہ عمل لانے اور غزہ کی بحالی پر قابل ِ اعتماد پیش رفت کے بعد آخر کار فلسطینی خود مختاری اور ریاست کے قیام کے لیے حالات بااعتماد طریقے سے سازگار ہوجائیں گے۔ اس موقع پر پْرامن اور خوشحال بقائے باہمی کے لیے امریکا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان سیاسی مفاہمت کے لیے ایک مکالمے کا انعقاد کرے گا۔ (3) سلامتی کونسل اس پر زور دیتی ہے کہ مجلس ِ امن (BOP) کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کو اس طریقے سے منظّم کیا جائے جو بین الاقوامی قانونی اصولوں کو شامل ہو اور اقوامِ متحدہ، بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی اور ہلالِ احمر سمیت ہم مقصد تنظیموں کے ساتھ مربوط ہو۔ نیز اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ یہ امداد مکمل طور پر پْرامن مقاصد کے لیے ہوگی اور مسلّح گروہوں کی طرف اس کا رخ نہیں موڑا جائے گا۔ (4) یہ قرارداد مجلس ِ امن (BOP) اور مجلس ِ امن میں شرکت کرنے والے ممالک کو مندرجہ ذیل امور کی اجازت دیتی ہے: (الف) جامع منصوبے کے مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے حسبِ ضرورت وہ ایسے معاہدات میں شامل ہوں جو ذیل میں پیراگراف 7 (الف) اور 7 (ب) کے تحت قائم کردہ فورس کے اہلکاروں کے استحقاق اور استثنات سے متعلق ہوں۔ (ب) بین الاقوامی قانونی شخصیت (International Legal Personality) اور عبوری انتظامیہ کے اشتراک سے حسب ِ ضرورت ایسے اداروں کا قیام جو اس کی کارکردگی کو عمل میں لائیں۔ ان میں یہ امور شامل ہیں: (الف) عبوری حکومتی انتظامیہ کا قیام جسے غزہ پٹی میں رہنے والے فلسطینی فنی ماہرین اور غیر سیاسی فلسطینیوں کی معاون اور نگران باصلاحیت کمیٹی کا تعاون حاصل ہو‘ نیز اسے عرب لیگ کی بھی حمایت حاصل ہو۔ یہ غزہ کے روز مرہ انتظامی معاملات‘ سول سروس اور انتظامی امور کی نگرانی کرے گی۔ (ب) یہ غزہ کی تعمیر ِ نو اور اقتصادی بحالی کے منصوبے تجویز کرے گی۔ (ج) یہ غزہ میں عوامی خدمات اور انسانی امداد کی فراہمی میں رابطہ ٔ کار اور معاونت کے فرائض انجام دے گی۔ (د) یہ غزہ کے اندر آنے اور باہرجانے والے افراد کی نقل وحرکت کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کرے گی جو جامع منصوبے کے مطابق ہو۔ (ہ) جامع منصوبے کے نفاذ کے لیے یہ ایسے اضافی اقدامات بھی کر سکے گی جو ضروری ہوں اور اس کے لیے مْمِدّومعاون ہوں۔

(5) اس قرارداد سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ پیراگراف 4 میں جن آپریشنل اداروں کا حوالہ دیا گیا ہے‘ وہ عبوری انتظامیہ اور مجلس ِ امن (BOP) کی نگرانی میں مصروفِ عمل ہوں گے‘ انہیں رضاکارانہ عطیہ دہندگان اور مجلس ِ امن (BOP) کی عطا کردہ گاڑیوں اور حکومتوں کے عطیات سے مالی مدد دی جائے گی۔ (6) یہ قرارداد ورلڈ بینک اور عالمی مالیاتی اداروں کو متوجہ کرتی ہے کہ وہ غزہ کی تعمیر ِ نو اور ترقیاتی کاموں کے لیے مالی وسائل فراہم کریں۔ اس مقصد کے لیے عطیات پر مشتمل ایک وقف فنڈ قائم کیا جائے گا جسے عطیہ دہندگان کنٹرول کریں گے۔ (7) یہ قرارداد مجلس ِ امن اور اس کے ساتھ کام کرنے والے رکن ممالک کو غزہ میں متحدہ کمان کے تحت ایک عارضی بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) قائم کرنے کی اجازت دیتی ہے‘ جو مجلس ِ امن کے لیے قابل ِ قبول ہو۔ یہ فورس عرب جمہوریۂ مصر اور اسرائیل کی مشاورت اور تعاون سے شریک ممالک کی طرف سے فراہم کی جائے گی۔ یہ اپنے تفویض کردہ اختیارات کو استعمال کرنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی جو بین الاقوامی قانون اور انسانی قوانین کے تابع ہوں۔ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) اسرائیل اور مصر کے ساتھ مل کرکام کرے گی‘ اس کا ان کے موجودہ معاہدات کے ساتھ کوئی متعصبانہ رویہ نہیں ہوگا۔ علاوہ ازیں ان کے ساتھ فلسطینی پولیس کی تربیت یافتہ نفری بھی شامل ہو گی‘ جس کی پہلے سے جانچ پڑتال کر لی گئی ہوگی۔ اس فورس کے مقاصد میں سرحدی علاقوں کی حفاظت‘ نیز غزہ میں سلامتی کے ماحول کا استحکام اور غزہ کی پٹی کو غیر مسلّح کرنا ہوگا اور پہلے سے قائم فوجی تنصیبات کو تباہ کرنا اور نئے مسلّح گروہوں کے قیام‘ غیر ریاستی عناصرکی جتھّا بندی اور دہشت گردی کو روکنا ہو گا۔ نیز عام شہریوں کی حفاظت اور انسانی بنیادوں پر امدادی کارروائیوں کو تحفظ دینا ہو گا۔ جونہی بین الاقوامی استحکام فورس غزہ میں اپنا کنٹرول قائم کرتی ہے اور اْسے استحکام ملتا ہے تو اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) غزہ کی پٹی سے انخلا کریں گی اور یہ مسلّمہ بنیادوں اور معیارات پر ہوگا‘ نیز خطے کو غیر مسلّح کرنے کے لیے ایک لائحۂ عمل دینا ہو گا جس پر اسرائیلی دفاعی افواج (IDF) اور بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) کا اتفاق ہو اور ضامن قوتیں اور امریکا ایسی سلامتی اور موجودگی کی ضمانت دیں گے جو اْس وقت تک غزّہ میں مقیم رہیں گے کہ لوگوں کی جائدادیں برباد ہونے‘ دوبارہ فساد برپا ہونے یا دہشت گردی پیدا ہونے کے خطرات سے محفوظ ہوں۔ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) غزہ میں جنگ بندی کے نفاذ کی نگرانی کرنے میں مجلس امن (BOP) کو تعاون فراہم کرے گی تاکہ جامع پلان کو حاصل کرنے کے لیے تمام ضروری انتظامات کیے جاسکیں اور انہیں مجلس ِ امن کی تزویراتی رہنمائی میں نافذ کیا جا سکے اور ان تمام انتظامات کے لیے عطیہ دہندگان سے رضاکارانہ عطیات لیے جائیں گے اور مجلس ِ امن اور حکومتوں کی ٹرانسپورٹ سہولتوں سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔ (جاری)

نوٹ: یہ محنت ہم نے اس لیے کی کہ کسی قومی اخبار میں ہمیں یہ پورا متن نہیں ملا‘ اگلی قسط میں قرارداد کا بقیہ حصہ اور پھر پوری قرارداد پر ہمارا تبصرہ شامل ہوگا۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بین الاقوامی استحکام فورس سلامتی کونسل کرنے کے لیے کرتی ہے کہ غزہ کی پٹی اور مجلس امن اور پٹی میں شامل ہو کے ساتھ اور اس یہ غزہ کرے گی اور ان ہے اور

پڑھیں:

جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟

اسلام ٹائمز: اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ تحریر: سید محمد

کسی پرانے جوئے خانے کی ایک کہاوت مشہور ہے "تم اس وقت تک حقیقتاً نہیں پھنستے جب تک تمہیں یہ احساس نہ ہو جائے کہ باہر نکلنے کا دروازہ بند ہوچکا ہے۔" مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ سیاسی بساط پر اسرائیل یہی کھیل کھیل رہا ہے۔ ظاہری بیانیے کو ایک طرف رکھیں تو ایک واضح حقیقت سامنے آتی ہے: اسرائیل ایران کی ایٹمی صلاحیت یا میزائل پروگرام سے کم اور امریکی انخلا کے محض امکان سے زیادہ خوفزدہ ہے۔ یہ خوف کوئی معمولی تشویش نہیں بلکہ ایک ایسی وحشت ہے، جو اسرائیلی حکمتِ عملی کے ہر پہلو کو تشکیل دے رہی ہے۔

اسرائیل ہر اس راستے کو سبوتاژ کرتا دکھائی دیتا ہے، جو واشنگٹن کو بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کرسکے۔ یہاں جنگ کا مقصد دشمن کو شکست دینا نہیں بلکہ اتحادی کو اس حد تک اندر کھینچ لینا ہے کہ وہ خود جنگ کا قیدی بن جائے۔ سوال یہ نہیں کہ امریکہ اس تنازعے میں شریک رہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اس حد تک شریک ہو جائے کہ بعد میں الگ نہ ہوسکے۔ یہ حکمتِ عملی ایک نفسیاتی اور سیاسی جال کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ ابتدا ہی سے اسرائیل نے ٹرمپ کو ایران کے ساتھ براہِ راست تصادم کی طرف دھکیلا اور ٹرمپ اپنی طاقت اور امریکی بالادستی کے تصور میں اس قدر گرفتار رہا کہ اسے واپسی کا راستہ دکھائی نہ دیا۔

ایران اور مزاحمتی محاذ کی استقامت نے امریکی عسکری برتری کے اُس طلسم کو چیلنج کر دیا، جسے دہائیوں سے ناقابلِ شکست تصور کیا جاتا تھا۔ اربوں ڈالر کے دفاعی نظام، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع عسکری اتحاد بھی خطے میں پیدا ہونے والی نئی بے یقینی کو روک نہ سکے، جبکہ امریکی دفاعی چھتری اور اڈوں کی محدودیت پہلے سے زیادہ نمایاں ہوگئی۔ اسی میدان میں اہداف کا مسلسل سکڑنا بھی صورتِ حال کا مظہر تھا۔ ایران میں رجیم تبدیلی جیسے بڑے ہدف سے شروع ہونے والا معرکہ بلاشرط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے، دفاعی صلاحیتوں کو محدود کرنے اور بالآخر آبنائے ہرمز کو کھلوانے جیسے محدود اہداف تک سمٹ آیا، جبکہ امریکی دھمکیاں بھی بتدریج ایرانی سویلین انفراسٹرکچر اور پاور پلانٹس کو نشانہ بنانے تک گر آئیں۔

اس مخمصے سے نکلنے کے لیے امریکہ کے سامنے دو ہی راستے تھے، ایک طرف جنگ کو وسعت دینے کا اسرائیلی حمایت یافتہ راستہ تھا، تاکہ شکست کی دھند کو بارود کے دھوئیں میں چھپایا جا سکے۔ چنانچہ امریکہ نے ایران کو عالمی خطرہ بنا کر پیش کیا اور یورپی و نیٹو اتحادیوں کو شامل کرنے کی کوشش کی، مگر یورپ نے فاصلہ اختیار کرنے میں عافیت جانی۔ دوسری طرف سفارتی اخراج کا راستہ تھا، مگر یہاں بھی مسئلہ یہ تھا کہ اسرائیل جس صف بندی کو اپنی سلامتی کے لیے ضروری سمجھتا ہے، وہی امریکہ کے علاقائی اتحادیوں کے لیے معاشی، سیاسی اور سکیورٹی خطرات کا باعث بن سکتی تھی۔

سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور دیگر خلیجی ریاستیں اپنی معیشتوں، توانائی کی تنصیبات اور سرمایہ کاری کے مراکز کے باعث براہِ راست خطرات سے دوچار ہوسکتی تھیں۔ اسی لیے وہ ایسے راستوں کی تلاش میں تھیں، جو ضروری نہیں کہ اسرائیل کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ آج اگر امریکہ اپنے مفادات کے لیے واپس چلا جاتا ہے تو اسرائیل تنہا رہ جاتا ہے، لیکن اگر پورا امریکی وقار، افواج اور سیاسی سرمایہ اس جنگ سے جڑ جائے تو واشنگٹن کے لیے اسرائیل سے فاصلہ اختیار کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

روایتی جنگوں کا مقصد دشمن کو شکست دینا ہوتا ہے، لیکن اسرائیل نے جنگ کو ایک ایسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا سیکھ لیا ہے، جس کا نشانہ دشمن نہیں بلکہ اس کا سب سے بڑا اتحادی یعنی امریکہ ہے۔ لبنان کا محاذ بھی اب صرف میدانِ جنگ کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ سفارتی عمل کو متاثر کرنے کا ایک مؤثر آلہ بن چکا ہے۔ جب بھی مذاکرات یا کشیدگی میں کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے، لبنان دوبارہ مرکزِ توجہ بن جاتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی بھی مذاکراتی عمل کو پیچیدہ یا سست کیا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ ایران کے ساتھ کسی مفاہمت تک پہنچ جاتا ہے تو یہ تاثر پیدا ہوسکتا ہے کہ خطے کے اہم معاملات اسرائیل کی براہِ راست شمولیت کے بغیر بھی طے ہوسکتے ہیں اور یہی وہ تاثر ہے، جسے اسرائیل ٹوٹنے نہیں دینا چاہتا۔

بعض ریاستوں کے لیے مستقل بحران خود ایک قیمتی سرمایہ بن جاتا ہے۔ جاری کشیدگی اتحادیوں کو متحد اور سکیورٹی خدشات کو زندہ رکھتی ہے۔ اسرائیل کے لیے فوری امن یا جامع سیاسی تصفیہ شاید اتنا مفید نہیں جتنا ایک ایسا کنٹرولڈ بحران جو مسلسل مغربی حمایت اور علاقائی توجہ کو اس کی طرف کھینچے رکھے۔ یہ تمام عوامل امریکہ کو ایک غیر معمولی اسٹریٹجک دباؤ کے دائرے میں دھکیل چکے ہیں۔ ایک طرف ایران کی ایسی مزاحمت ہے، جو کسی حتمی فوجی حل کو ناممکن بناتی ہے، دوسری طرف اسرائیل کی خواہش ہے کہ واشنگٹن مکمل طور پر بحران میں جکڑا رہے، جبکہ تیسری طرف علاقائی اتحادی کشیدگی میں کمی چاہیتے ہیں تاکہ ان کی معیشتیں اور داخلی استحکام محفوظ رہ سکیں۔ نتیجتاً امریکہ ایک ایسی پوزیشن میں کھڑا ہے، جہاں آگے بڑھنا بھی خطرناک ہے، پیچھے ہٹنا بھی مشکل اور جمود بھی اتحادیوں کے اعتماد کو کھوکھلا کر رہا ہے۔

جنگیں صرف میدانِ جنگ میں نہیں جیتی جاتیں بلکہ بعض اوقات ان کی سب سے بڑی کامیابی مخالف اتحاد کے اندر موجود تضادات، کمزوریوں اور متصادم مفادات کو بے نقاب کرنے اور اس کے سیاسی، سفارتی اور اسٹریٹجک ڈھانچے میں دراڑیں نمایاں کرنے میں ہوتی ہے۔ اسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حماقت سے نارملائزیشن فریم ورک کو شدید دھچکا پہنچنے کے باوجود، سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر اور اردن جیسے ممالک پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت اور واضح سیاسی صف بندی کے لیے دباؤ بڑھانا بھی قابلِ توجہ ہے۔ عملاً اس کا مطلب یہ ہے کہ ان ممالک سے ایک ایسے بحران میں اپنی پوزیشن واضح کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، جس کے ممکنہ عسکری، معاشی اور سیاسی نتائج کا بوجھ بھی انہیں خود اٹھانا پڑ سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ، سونا،قیمتی دھاتوں اورزرعی اجناس کی قیمتوں میں کمی
  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پاکستان کی لبنان پر اسرائیلی حملوں کی مذمت