پاکستان غیر قانونی ہجرت کے خاتمے کیلئے عالمی برادری کیساتھ ہے: طلال چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
اسلام آباد: (نیوزڈیسک) وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان غیر قانونی ہجرت کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کھڑا ہے۔پاکستان میں تارکین وطن کی سمگلنگ کے سدِباب پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد ہوا جس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ مہاجرین کی سمگلنگ ایک عالمی چیلنج ہے، اس کا حل صرف مربوط حکمتِ عملی اور معلومات کے تبادلے سے ممکن ہے۔
طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں محفوظ اور قانونی ہجرت کے فروغ کے لیے ہمیشہ پرعزم ہے، انسانی سمگلنگ کے نیٹ ورکس کو توڑنے کے لیے عالمی تعاون ناگزیر ہے۔
وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ کانفرنس میں 30 ممالک کے نمائندوں کی شرکت ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے۔
یاد رہے کہ کانفرنس وزارت داخلہ نے UNODC اور IOM کے اشتراک سے بین الاقوامی شراکت کے تحت منعقد کی۔
بین الاقوامی شراکت داروں نے پاکستان کی کوششوں کی ستائش کی اور تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کروائی، کانفرنس کے دوران انسانی سمگلنگ کے خلاف مؤثر اقدامات اور بہترین تجربات کا بھی تبادلہ کیا گیا۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کانفرنس سے قبل اقوام متحدہ دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم کے علاقائی نمائندہ برائے افغانستان، وسطی ایشیا، ایران اور پاکستان ڈاکٹر اولیور اسٹولپ سے ملاقات کی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔