WE News:
2026-07-24@08:05:09 GMT

شمالی کوریا کے اسکولوں میں روسی زبان لازمی مضمون قرار

اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT

شمالی کوریا کے اسکولوں میں روسی زبان لازمی مضمون قرار

شمالی کوریا نے ابتدائی جماعت سے بچوں کے لیے روسی زبان کو لازمی مضمون قرار دیا ہے، جب کہ دونوں ممالک مغربی دنیا سے دوری کے باوجود تعلقات کو مضبوط کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:2040 تک شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار 400 سے تجاوز کر سکتے ہیں، ماہر کی پیشگوئی

روس کے وزیر قدرتی وسائل اور ماحولیات الیگزینڈر کوزلوف کا کہنا ہے کہ میں جانتا ہوں کہ شمالی کوریا کے اسکولوں میں چوتھی جماعت سے روسی زبان لازمی طور پر پڑھائی جا رہی ہے۔

کوزلوف کے مطابق روسی زبان شمالی کوریا میں سب سے مقبول غیر ملکی زبانوں میں شامل ہے، اور تقریباً 600 طلبہ اس وقت اس کا مطالعہ کر رہے ہیں۔ پچھلے تعلیمی سال میں 96 شمالی کوریائی طلبہ روسی یونیورسٹیوں میں داخل ہوئے۔

یہ بھی پڑھیں:یوکرائن کیخلاف روس کا ساتھ دینے والے شمالی کوریائی فوجیوں کے لیے اعزازات

روسی سفارتخانے نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ شمالی کوریائی یونیورسٹیوں میں روسی زبان کی تعلیم کو فعال طور پر فروغ دے رہا ہے۔ 2 پشکن انسٹ ٹیوٹ کے اساتذہ 1-2 ماہ کے پروگرام کے تحت پیانگ یانگ میں ایک ماہ سے روسی زبان اور ثقافت کی کلاسیں دے رہے ہیں، جس میں تقریباً 250 طلبہ شامل ہیں۔

کوزلوف نے مزید بتایا کہ روس میں 3,000 سے زائد طلبہ دوسری یا تیسری زبان کے طور پر کورین سیکھ رہے ہیں، جبکہ تقریباً 300 یونیورسٹی طلبہ کورین زبان کا مطالعہ کر رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

روس روسی زبان شمالی کوریا.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: شمالی کوریا شمالی کوریا رہے ہیں

پڑھیں:

مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔

یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔

دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔

راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔

انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔

واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا