آسٹریا (ویبڈیسک) مشہور بیوٹی انفلوئنسر اور گلوکارہ اسٹیفانی پائیپر کے لاپتہ ہونے پر پولیس نے اس کے سابق بوائے فرینڈ اور 2 قریبی رشتے داروں کو حراست میں لے لیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ اسٹیفانی اتوار کی صبح گریس میں ایک کرسمس پارٹی سے لوٹتے ہوئے ٹیکسی سے اتری تھیں، وہ اپنی دوست کے ساتھ اپنے اپارٹمنٹ تک پہنچی تھیں، مگر اس کے بعد سے ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔

مقامی پولیس کے مطابق اسٹیفانی پیر کے روز ایک فوٹو شوٹ کے لیے مقررہ وقت پر نہ پہنچیں، جس کے بعد ان کی تلاش شروع کی گئی۔

ان کے اپارٹمنٹ میں گلوکارہ کا پالتو کتا اکیلا تھا، جبکہ ان کا موبائل فون بھی بند تھا۔

آسٹریا کے میڈیا کے مطابق اسٹیفانی کے سابق بوائے فرینڈ کو اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے مبینہ طور پر پیر کے روز سلووینیا کے ایک کیسینو کی پارکنگ میں اپنی گاڑی کو آگ لگا دی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ جلتی ہوئی گاڑی کے قریب موجود تھا اور سلووینین پولیس نے اسے فوری طور پر حراست میں لے لیا۔

ریکارڈ سے پتہ چلا ہے کہ ملزم نے گزشتہ ہفتے کے دوران سلووینیا اور آسٹریا کے درمیان بار بار سفر کیا، جس سے معاملہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے۔

تاحال اسٹیفانی پائیپر کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے، پولیس ان کے سابق بوائے فرینڈ اور 2 رشتے داروں سے تفتیش کر رہی ہے جبکہ مختلف مقامات پر سرچ آپریشن بھی جاری ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • اٹلی میں4 پاکستانیوں کے قتل کے الزام میں 2 پاکستانی گرفتار
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • میں بالکل ٹھیک اور صحت مند ہوں؛گلوکارہ طاہرہ سید کی سوشل میڈیا افواہوں کی تردید
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • نواز شریف ایک روزہ دورے پر گلگت بلتستان پہنچ گئے
  • معروف میکسیکن انفلوئنسر گھر میں مردہ پائی گئیں، قتل کا شبہ
  • اٹلی میں 4 پاکستانیوں کو وین میں بند کرکے جلاکر قتل کردیا گیا، پاکستانی ہی قاتل نکلے، 2 ملزم گرفتار
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان
  • راولپنڈی: 1300 روپے کیلئے 2 نوجوان قتل، 7 ملزمان گرفتار