امن و امان مخدوش ،، اڈیالہ جیل ،، کی بیرونی سیکیورٹی ہائی الرٹ
اشاعت کی تاریخ: 28th, November 2025 GMT
راولپنڈی (نیوزڈیسک) خصوصی سیکیورٹی پلان غیر معینہ مدت تک نافذ العمل رہے گا، جیل کے راستوں پر5 پکٹس پر پولیس کی بھاری نفری تعینات رہیگی۔اڈیالہ جیل راولپنڈی کی بیرونی سیکورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا، فیصلہ امن و امان کی صورتحال اور متوقع خطرات کے پیش نظر کیا گیا، جیل کے راستوں پر پانچ پکٹس پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی ۔
اڈیالہ جیل کی بیرونی سیکورٹی کے لیئے پولیس نفری داہگل ناکہ، گیٹ ون، گیٹ پانچ، فیکٹری ناکہ اور گورکھ پور پر تعینات ہو گی۔ ڈیوٹی دو شفٹوں میں تقسیم کردی گئی۔ بارہ تھانوں کے ایس ایچ اوز ،خواتین پولیس افسر، آر ایم پی فورس، سمیت سات سو سے زائد اہلکار و افسر تعینات ہونگے۔
سیکورٹی ڈیوٹی پر مامور اہلکار ربڑ بلٹس، ٹیئر گیس، ڈنڈوں شیلڈ اور اینٹی رائٹ سامان سے لیس ہوں گے۔ ٹریفک پولیس کے دس افسر و اہلکار بھی لفٹر کے ہمراہ تعینات ہوں گے جبکہ قیدی وینز بھی علاقہ میں موجود رہیں گی۔ اڈیالہ گارڈ کی نفری کچہری ڈیوٹی کے بعد بھی سٹینڈ بائی رہے گی۔
ڈیوٹی کی براہ راست نگرانی ایس پی صدر انعم شیر کریں گی۔ تھانہ گوجر خان، مندرہ، چونترہ، کہوٹہ، کلرسیداں، دھمیال، تھانہ چکری، روات، وومن مورگاہ، کینٹ اور صدر بیرونی کے ایس ایچ اوز اور نفری تعینات ہو گی۔ مجموعی طور پر تیئیس انسپکٹر سات سو سے زائد سپاہی و افسر تعینات ہوں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
سپریم کورٹ؛ اے این ایف اہلکار کے چرس پینے سے متعلق جواب پر جج کے دلچسپ ریمارکس پر قہقہے
اسلام آباد:سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی۔
دوران سماعت، ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلا دی جس پر عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کروانے کا حکم دے دیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔
وکیل احسن بھون نے دلائل دیے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف کا اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے۔
دوران سماعت، اے این ایف اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں، جس پر وکیل اے این ایف نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر دو لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
وکیل ملزمہ احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریماریس دیے کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرہ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا۔
دوران سماعت، جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ اے این ایف اہلکار نے جواب دیا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے۔ جسٹس ہاشم کاکڑ کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔