آنند ایل رائے کی نئی فلم ’تیرے عشق میں‘ ریلیز کے بعد ناقدین کے سخت نشانے پر آ گئی۔

یہ بھی پڑھیں: ’نیشنل کرش‘ بننے کے بعد بالی ووڈ اداکارہ کو ہراسانی کا سامنا، نازیبا پیغامات کا انکشاف

بالی ووڈ فلم پر ای ڈی ٹی وی کے تبصرے میں کہا گیا ہے کہ فلمی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ 3 گھنٹے طویل محبت کی کہانی ضرورت سے زیادہ پھیلی ہوئی، بوجھل اور غیر مربوط ہے۔

یہاں تک کہ دھنش اور کریتی سینن جیسی مضبوط اداکار جوڑی بھی اسے سہارا نہیں دے سکی۔

فلم محبت اور تشدد کے رشتے پر سوال اٹھاتی ہے مگر اس کا بیانیہ کہیں بھی مضبوط بنیاد نہیں پکڑ پاتا۔

مزید پڑھیے: بالی ووڈ اداکارہ سلینا جیٹلی کا شوہر پر تشدد کا الزام، بڑے ہرجانے کا دعویٰ کردیا

فلم میں بنارس کا مختصر حصہ بھی شامل ہے جہاں اداکار محمد ذیشان ایوب ایک فلسفی پجاری کے کردار میں محبت، موت اور نجات پر گفتگو کرتے نظر آتے ہیں۔

دھنش (شَنکر) اور کریتی سینن (مکتی) اپنے کرداروں میں شدت لانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر فلم کی بکھری ہوئی کہانی اور ضرورت سے زیادہ طوالت تمام کوششوں پر پانی پھیر دیتی ہے۔

تنقید نگاروں کے مطابق فلم کی سب سے بڑی کمزوری اس کی تحریر ہے جو مکمل طور پر مرد لکھاریوں ہمانشو شرما اور نیرج یادَو کے نقطۂ نظر سے تشکیل دی گئی ہے۔

مزید پڑھیں: ’پاکستان میری موسی ماں ہے‘، بالی ووڈ کے لیجنڈ دھرمیندر کا پاکستان کے لیے محبت بھرا پیغام وائرل

فلم میں بار بار یہ تاثر ابھرتا ہے کہ سخت مزاج اور تشدد پسند مرد عورت کی محبت کے ذریعے سنور سکتے ہیں مگر بیانیہ اس خیال کو غیر حقیقی انداز میں پیش کرتا ہے۔

کہانی دہلی یونیورسٹی کے ایک غصیلے طالب علم لیڈر اور ایک اعلیٰ افسر کی باصلاحیت بیٹی کے گرد گھومتی ہے جو اپنی پی ایچ ڈی کے لیے یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ تشدد پسند ’الفا میلز‘ کو بدلا جا سکتا ہے۔

وہ شنکر کو اپنے تجربے کا حصہ بننے پر آمادہ کرتی ہے اور وہ محض اس لیے مان جاتا ہے کہ ویلنٹائن ڈے قریب ہے۔

فلم کی ابتدا فضاؤں میں اڑتے فائٹر پائلٹ شنکر سے ہوتی ہے جس کے غصے اور انضباطی مسائل کے باعث اسے گراونڈ کر دیا جاتا ہے۔ اس کی کونسلنگ کے لیے مختار بن کر سامنے آتی ہے مکتی جو خود حاملہ، نشے میں اور ذہنی طور پر اس کام کے لیے تیار نہیں مگر 7 سال پہلے کے ایک ناکام تعلق کے باعث اسے یہ ذمہ داری دی جاتی ہے۔ کہانی ماضی اور حال کے درمیان سفر کرتے ہوئے ان کے پیچیدہ رشتے کو کھولتی ہے۔

تقریباً 3 گھنٹے کے دورانیے میں شنکر کا مکتی پر ذہنی دباؤ، اس کا غیر متوازن رویہ اور مکتی کے بااثر باپ کی مخالفت جیسے عناصر کہانی میں بار بار سامنے آتے ہیں لیکن ان کی نفسیاتی ساخت غیر واضح رہتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: فرح خان کی یو ٹیوب آمدن زیادہ ہے یا فلم سے کمائی، بالی ووڈ ہدایت کار کا انکشاف

بعض مواقع پر فلم شنکر کو ’مظلوم‘ دکھانے کی کوشش کرتی ہے جب کہ اصل میں وہ خود مکتی کو مسلسل گمراہ اور کمزور کرتا دکھائی دیتا ہے۔

فلم کے مکالمے الٹی میٹمز اور دھمکیوں پر مبنی دکھائی دیتے ہیں جبکہ کرداروں کے درمیان تعلقات غیر فطری انداز میں پیش کیے گئے ہیں، جس سے پلاٹ کی گتھیاں مزید الجھ جاتی ہیں۔

واحد قابلِ تعریف پہلو اے آر رحمان کی موسیقی ہے جو فلم کے بوجھل مزاج کے باوجود کچھ سہارا دیتی ہے مگر مجموعی طور پر فلم محبت کی وہ کہانی بننے میں ناکام رہتی ہے جو اپنا اثر چھوڑ سکے۔

مزید پڑھیں:

’تیرے عشق میں‘ ناقدین کے مطابق ایسی فلم ہے جو دکھاتی تو محبت کی طاقت ہے مگر انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ محبت کی کہانی کبھی محض شدت، تشدد اور بے ربط تحریر کے سہارے نہیں چلتی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ فلم تیرے عشق میں تیرے عشق پر تنقید تیرے عشق میں دھنش کریتی سینن.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بالی ووڈ فلم تیرے عشق میں تیرے عشق پر تنقید تیرے عشق میں کریتی سینن تیرے عشق میں بالی ووڈ محبت کی کے لیے

پڑھیں:

جنگ امن اور معیشت کی کہانی

پاکستان کو اگر ترقی کے تناظر میں آگے بڑھنا ہے تواسے معاشی ترقی کو بنیاد بنانا ہوگا۔سیاست بھی عام آدمی یا محروم طبقات کے مفادات یا ان کو معاشی طور پر مستحکم کرنے سے جڑی ہونی چاہیے۔یہ عمل اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اول ہم داخلی ،علاقائی اور خارجی محاذ پر موجود تنازعات سے باہر نہیں نکلیں گے۔

دوئم ہمیں اپنے داخلی نظام میں شفافیت، جوابدہی،احتساب ،درست ترجیحات کا تعین ،وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی عمل کو مضبوط کرنے اور ان کو آئین اور قانون کی حکمرانی کے تابع کرنے سے جوڑنا ہوگا۔امن ہماری بنیادی ضرورت ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اس نظام میں وہ لوگ جو مختلف سیاسی ،سماجی اور معاشی یا قانونی انصاف کی محرومی کا شکار ہیں ان کونظرانداز کرکے ہم معاشی ترقی کے اہداف حاصل نہیں کرسکیں گے۔ لوگوںکے ذہن میں موجود سیاسی اور معاشی نظام نے اس کے مسائل کو اور زیادہ گھمبیر بنادیا ہے۔

علاقائی سیاست میں جو نئی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں ہمیں اس کے لیے جہاں اپنی علاقائی سطح کی پالیسیوں پر نئی فکر اور سوچ کو اختیار کرنا ہے وہیں اسی کی بنیاد پر اپنی داخلی سیاست کے خدوخال یا دائرہ کار میں بھی بنیادی نوعیت کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بالخصوص جب ہمیں ایک ہی وقت میں بھارت اور افغانستان سے جنگ یا کشیدگی کا سامنا ہے یا ان دونوں ممالک کی بنیاد پر پاکستان مخالف گٹھ جوڑ یا ان کی پاکستان مخالف پراکسی کی موجودگی میں ہم اپنی داخلی اور علاقائی سیاست کو کیسے مضبوط کرسکیں گے ،اہم سوال بنتا ہے ۔

کیونکہ اب جو ہم نئی تبدیلیاں علاقائی یا خلیجی ممالک کی سطح پر دیکھ رہے ہیں اور جس انداز سے یو اے ای سمیت دیگر خلیجی ممالک کی پالیسیوں میں تبدیلیاں پیدا ہورہی ہیں اس میں ہمیں بھی ایک نئے فریم ورک کی ضرورت ہے ۔اسی طرح چین،روس،امریکا کی سطح پر جو حالات بن رہے ہیں ان میں ہمارے تعلقات کی نوعیت یاسیاسی و معاشی روابط کی بنیاد کیا ہوگی ۔بنیادی سوال انسانی ترقی کا ہے ۔لیکن کیا انسانی ترقی کے اس ماڈل میں ہم صرف اسلحہ اور جنگوں پر وسائل خرچ کرکے یا اپنے دفاع کو مضبوط کرکے انسانی ترقی کو نئی جہت دے سکیں گے اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی ریاست کا دفاع اس کی بنیادی ضرورت بنتا ہے اور بالخصوص موجودہ حالات میں دفاع کا مضبوط ہونا اہم ہے ۔لیکن اسی تناظر میں ایک متوازن پالیسی دفاع اور انسانی ترقی کی بنیاد پر قائم ہونی چاہیے اور یہ ہی تعلق بنیادی طور پر ریاست،حکومت اور شہریوں کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اس کی ساکھ کو قائم کرنے میں مدد دے گا۔

بدقسمتی سے ہمیں علاقائی تعلقات کی بحالی میں جو تعاون بھارت اور افغانستان سے درکار ہے، اس میں کافی چیلنجز کا سامنا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ان دونوں ممالک کی ترجیحات میںپاکستان سے تعلقات کو بہتر بنانا ایجنڈے کا حصہ نہیں ۔اگرچہ پچھلے دنوں سے کچھ آوازیں ہمیں بھارت کی جانب سے سننے کو ملی ہیں جہاں کچھ بڑے انفرادی لوگوں نے مودی حکومت کو کہا ہے کہ وہ جنگ کے ماحول سے نکل کر پاکستان سے تعلقات کی بہتری میں بات چیت کے راستے کھولیں ۔لیکن کیا نریندر مودی کی حکومت اس معاملے میں کوئی بڑی پیش رفت دکھاتی ہے، اس پر کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا ۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بھارت اور افغانستان سے پاکستان سے تعلقات کی بہتری محض ان ملکوں تک ہی محدود نہیں ہوگی بلکہ مجموعی طور پر علاقائی سیاست میں سیاسی اور معاشی استحکام دیکھنے کو ملے گا۔پا کستان،بھارت اور افغانستان کو تعلقات کی بہتری کے لیے موجودہ کشیدہ حالات کے خاتمہ میں غیر معمولی اقدامات اور اپنے قد سے اوپر اٹھ کر کچھ ایسا کرکے دکھانا ہوگا جو ان ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لاسکے ۔لیکن یہ عمل کسی سیاسی تنہائی میں نہیں ہوگا اس میں بڑی طاقتوں جن میں امریکا،چین اور روس کو ایک موثر سطح کا کردار ثالثی کا ادا کرنا ہوگا ۔

کیونکہ پاکستان ،بھارت اور افغانستان کے درمیان جو بھی تعلقات کی بہتری کا فریم ورک بنے گا وہ ان بڑے ممالک کی حمایت اور نگرانی کے ممکن نہیں ہے۔بالخصوص دہشت گردی جو پاکستان، بھارت اور افغانستان کا مشترکہ مسئلہ ہے اس کے لیے عملی طور پر ان ممالک کے درمیان اس سے نمٹنے کے لیے مشترکہ میکنزئم درکار ہے اور یہ عمل عالمی حمایت کے بغیر ممکن نہیں ۔کیونکہ محض الزام تراشی کی بنیاد پر مسائل کا علاج تلاش نہیں کیا جاسکے گا اور نہ ہی ان مسائل کا حل مزید جنگ یا تنازعات کو آگے بڑھانے سے ممکن ہوسکے گا لیکن کیا ہم اپنی اس حکمت عملی نظرثانی کے لیے تیار ہیں اس کا جواب بھی تلاش کرنا ہوگا۔یہ بات طے ہے کہ پاکستان سمیت کوئی بھی ملک اسٹیٹس کو کی بنیاد پر علاقائی تعلقات کی بہتری میں کوئی بڑی مثبت تبدیلیاں پیدا نہیں کرسکے گا اور نہ ہی معاملات بہتری کی طرف جاسکیں گے۔

لیکن سوال یہ ہی بنتا ہے کہ بلی کے گلے میں گھنٹی کون باندھے گا اور کون معاملات کی درستگی کو ممکن بنانے میں پہل کرے گا یا ایسا کیا قدم اٹھائے گا جوعملا دوسروں کو ترغیب دے کہ وہ بھی امن کا راستہ بات چیت کی مدد سے طے کرے ۔مگر یہ جو اعتماد سازی یا بداعتمادی کا بحران ہے اس نے مجموعی طور پر علاقائی سیاست کو ایک بڑے بحران کی طرف دکھیل دیا ہے اور ایسے لگتا ہے کہ ہم اپنی حقیقی منزل سے کافی دور ہیں۔ان دوریوں کو ختم کرنا علاقائی سیاست اور ان میںشامل ممالک کی مشترکہ حکمت عملی کا حصہ ہونا چاہیے۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو ایک طرف اسے علاقائی سیاست کا چیلنج ہے تو دوسری طرف حالات کی بہتری کے لیے اسے اپنے داخلی سطح کے معاملات کو درست کرنے پر بھی توجہ دینی ہوگی کیونکہ یہ ممکن نہیں کہ ہم اپنے داخلی معاملات کو درست کیے بغیر علاقائی سیاست میں بہت کچھ حاصل کرسکیں گے۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ ایک برس میں ہم نے عالمی اور علاقائی سفارت کاری کی سطح پر اپنی صلاحیتوں کو خوب منوایا ہے اور اس کی ہر سطح پر پزیرائی بھی کی جارہی ہے۔لیکن اس کے باوجود ہم اپنے داخلی معاملات کی درستگی میں کچھ کمزوریوں کے پہلو ہم کو دیکھنے کو ملتے ہیں۔ہم جہاںعالمی ثالثی میں اپنا کردار ادار کررہے ہیں وہیںہماری داخلی سیاست کی تقسیم کے تناظر میں جو سیاسی کشیدگی اور سیاسی دشمنی یا سیاسی ڈیڈ لاک اسے بھی ختم کرنا ریاست اور حکمرانوں کی ذمے داری کے زمرے میں آتا ہے ۔یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہماری سیاسی تقسیم نے ہمیں مجموعی طور پر نہ صرف تقسیم کردیا ہے بلکہ اس کے نتیجے میں کشیدگی بھی بڑھ رہی ہے ۔اسی طرح قومی سیکیورٹی یا دہشت گردی سے جڑے مسائل بھی اہم ہیں اور موجودہ دہشت گردی کے داخلی واقعات نے ہمارے لیے سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں ۔

بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں مسلسل دہشت گردی جاری رہنا یا وہاں تسلسل کے ساتھ دہشت گردی کے واقعات کا ہونا، ہماری داخلی کمزوریوں کی نشاندہی کرتا ہے ۔گورننس سے جڑے معاملا ت کا حل تلاش نہ کرنا بھی ہماری مسلسل ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے ۔18ویں ترمیم کے باوجود وفاق اور صوبوں کے درمیان گورننس سے مسائل کا حل تلاش نہ کرنا اور اس کا عام فرد پر براہ راست اثر انداز ہونالوگوں میںنظام کے بارے میں ایک بڑے ردعمل کی سیاست پیدا کررہا ہے۔یہ جو ہمارے ملک میں سرمائے کی کمی یا سرمایہ کاری کے نہ ہونے کا داخلی اور خارجی بحران ہے اس کی چند بڑی وجوہات میں ایک وجہ گورننس یا ادارہ جاتی نظام کی ناکامی سے جڑا ہوا بھی پہلو ہے۔

اگر ہم نے داخلی معاملات کو درست نہ کرنے کی سیاسی روش کو برقرار رکھا اور پرانے خیالات کے ساتھ ہی نظام کو چلانا ہے تو یہ نظام جدید تقاضوں کے مطابق نہیں چل سکے گا۔اہم نقطہ یہ ہے کہ پاکستان کے پالیسی سازوں کی عملا ترجیحات میں ہمیں مسلسل کمزوری کے پہلو دیکھنے کو مل رہے ہیں۔ان امور کی نشاندہی مسلسل عالمی مالیاتی ادارے اور تھنک ٹینک بھی پیش کررہے ہیں کہ ہم اپنی داخلی درستگی کے لیے وہ کچھ نہیں کررہے جو ہمیں کرنا چاہیے۔سوال یہ ہی ہے کہ کیا ہم اپنی ترجیحات کو تبدیل کرسکیں گے یا ان تبدیلیوں کے تناظر میں ملک کی سطح پر کوئی بڑے دباؤ کی سیاست کو پیدا کیا جاسکے گا۔کیونکہ بدقسمتی سے جہاں حکمرانی کا نظام کمزور ہوا ہے وہیں دباو ڈالنے والی سیاست اور اس سے جڑے فریق بھی کمزور ہوئے ہیں،یہ بڑا المیہ بھی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی