ڈھاکہ میں آج پھر زلزلے جھٹکے، عوام خوف کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہفتہ کی شام 2 ہلکے زلزلے محسوس کیے گئے، جس کی تصدیق ملکی میٹیرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:5.7 شدت کے زلزلے سے بنگلہ دیش میں 5 ہلاک، 200 سے زائد زخمی
میٹیرولوجسٹ تعریف النواز کبیر نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ دونوں زلزلے صرف ایک سیکنڈ کے فرق سے آئے اور ان کا مرکز ڈھاکہ کے بادا علاقے میں تھا۔ پہلے زلزلے کی شدت 3.
Small shockwaves are often felt before a major earthquake. May the Creator be merciful to the people of Bangladesh.#BangladeshCrisis pic.twitter.com/l225yitvXU
— Asifur Rahman Chowdhury (@Asifurrahman71) November 22, 2025
اس سے قبل، ہفتہ کی صبح نارسنگدی ضلع کے پلاش اپزیلا میں بھی ایک ہلکا زلزلہ محسوس کیا گیا، جس کی شدت 3.3 ریکٹر اسکیل تھی۔
یہ ہلکے زلزلے ایک دن بعد آئے، جب جمعہ کی صبح ملک میں ایک شدید قومی زلزلہ آیا تھا، جس نے بڑے پیمانے پر خوف و ہراس پیدا کیا تھا۔
جمعہ کے زلزلے کے دوران 10 افراد، بشمول بچے، جاں بحق ہوئے جبکہ 600 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ نارسنگدی میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں (5)، ڈھاکہ میں 4، اور نرائن گنج میں ایک ہلاکت ریکارڈ کی گئی۔
ذرائع کے مطابق خوف کے عالم میں کئی افراد عمارتوں سے چھلانگ لگانے کی وجہ سے زخمی ہوئے، اور کچھ عمارتوں میں دراڑیں پڑ گئیں یا جھکاؤ پیدا ہوا۔
حکام نے متاثرہ اضلاع میں ساختی نقصان کا جائزہ لینے کے لیے کارروائی شروع کر دی ہے، تاکہ مستقبل کے لیے حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بنگلہ دیش زلزلہ تعریف النواز خوف و ہراس ڈھاکہ زلزلہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بنگلہ دیش زلزلہ تعریف النواز خوف و ہراس ڈھاکہ زلزلہ کے زلزلے
پڑھیں:
دہشتگردی کے خاتمے تک فتنۃ الخوارج و فتنۃ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، فیلڈ مارشل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں 20ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے خطاب کیا اور کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے تک فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مسلسل کوششیں، عوام کی غیرمتزلزل حمایت کے ساتھ بلوچستان میں پائیدار امن کے قیام کو یقینی بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی اور اس کے سہولت کاروں کے مکمل خاتمے تک پوری قوت کے ساتھ جاری رہیں گی، پاکستان میں جہاں بھی دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر ملکی سلامتی کے لیے خطرہ بنے گا، اسے ختم کرنے کے لیے اپنے غیرمتزلزل عزم پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے پراکسی عناصر مسلسل بلوچستان میں بدامنی، عدم استحکام اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاہم مسلح افواج عوام کی یک جہتی اور ثابت قدمی کے ساتھ ان مذموم عزائم کو ناکام بنائیں گی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے بلوچستان کو پاکستان کا فخر قرار دیا اور کہا کہ یہ صوبہ بے پناہ قدرتی وسائل، محب وطن، باصلاحیت اور باہمت عوام سے مالا مال ہے، جو بلوچستان کی اصل طاقت ہیں۔
فیلڈ مارشل نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں بلوچستان کی سماجی و معاشی ترقی کے لیے عوام دوست اور جامع منصوبوں پر عمل پیرا ہیں، جن کا مقصد صوبے کی تقدیر بدلنا ہے۔
انہوں نے قومی یک جہتی کے فروغ میں سول سوسائٹی، جامعات، میڈیا اور نوجوانوں کے مثبت کردار کو سراہا اور کہا کہ ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے اور روشن مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے قومی اتحاد، استقلال اور مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق جی ایچ کیو میں تقریب کے اختتام پر شرکا کے ساتھ تفصیلی سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی، امن اور خودمختاری کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔