لیہ میں لالچ کے ہاتھوں بیٹے کو فروخت کرنے والا ملزم ایک سال بعد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لیہ میں نومولود بچے کو رقم کے عوض فروخت کرنے کا سنسنی خیز معاملہ ایک سال بعد منظرعام پر آ گیا، جہاں پولیس نے خاتون کی شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے مرکزی ملزم اور اس کے ساتھ ملوث افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا۔
واقعہ تحصیل کروڑ لعل عیسن میں پیش آیا، جہاں متاثرہ خاتون نے ایف آئی آر میں بیان دیا کہ مقامی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے فوراً بعد شوہر نے اسے بتایا کہ نومولود کو طبی مسئلہ ہے اور اسے لیہ اسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
خاتون کے مطابق جب اُس نے بار بار بچے کی واپسی کا مطالبہ کیا تو شوہر نے الٹا اسے گھر سے ہی نکال دیا۔ کئی ماہ کی کوششوں کے بعد خاتون نے مقدّمہ درج کرایا۔
پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران ملزم نے اعتراف کیا کہ اس نے اپنا ہی بچہ 8 لاکھ روپے میں فروخت کیا، جبکہ بچے کو خریدنے والے جوڑے نے بھی معاملے کی تصدیق کر دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد بچے کو والدہ کے حوالے کر دیا جائے گا، جبکہ مرکزی ملزم سمیت نامزد افراد کے خلاف مزید تحقیقات جاری ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔
دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔
پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔
اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔
جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔
اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔
ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔
جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔