فارم45لےکرنکلنا؛ بلاول نے ضمنی الیکشن کیلئے ہدایت بھیج دی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
سٹی42: پاکستان پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے جنوبی پنجاب کے دو حلقوں میں انتخاب سے ایک روز پہلے عوام سے اہم درخواست کر دی اور پارٹی کے کارکنوں کو بھی اہم ہدایت کر دی۔
پی پی پی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے آج جنوبی پنجاب کے صوبائی اسمبلی کے انتخابی حلقہ پی پی 269 مظفر گڑھ اور قومی اسمبلی کے انتخابی حلقہ این اے 185 ڈیرہ غازی خان میں شاندار انتخابی مہم چلانے پر پارٹی کے امیدواروں کوخراج تحسین پیش کیا ۔
شاہین آفریدی ایک بار پھر پاؤں کی انجری کا شکار
بلاول بھٹو نے آج شام اپنے پیغام میں کہا کہ کل جنوبی پنجاب میں دو ضمنی انتخابات ہو رہے ہیں، پی پی 269 مظفرگڑھ میں ہمارے امیدوار میاں عالمدار قریشی الیکشن لڑ رہے ہیں،این اے 185 ڈیرہ غازی خان میں دوست محمد کھوسہ پیپلز پارٹی کے امیدوار ہیں۔میں دونوں کو مشکل حالات کے باوجود شاندار انتخابی مہم چلانے پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔
چئیرمین بلاول نے عوام سے درخواست کی کہ ضمنی انتخاب کو سرسری مت لیں اور اپنا ووٹ ضرور کاسٹ کریں۔ انہوں نے کہا، " میری مظفرگڑھ اور ڈیرہ غازی خان کے عوام سے اپیل ہے کہ باہر نکلیں، ووٹ ڈالیں اور اپنی آواز کو بلند کریں۔"
خوارج کے خلاف مربوط کارروائیاں قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنا رہی ہیں؛ صدرِ مملکت
چیئرمین بلاول نے اپنے کارکنوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، " میری تمام پارٹی ورکرز سے گزارش ہے کہ پولنگ سٹیشن ہرگز نہ چھوڑیں جب تک فارم 45 اپنے ہاتھ میں نہ لے لیں۔"
این اے 185 ڈیرہ غازی خان II
حلقہ این اے 185 ڈیرہ غازی خان II پر ضمنی انتخاب صبح 23 نومبر بروز اتوار ہونا ہے۔
اس نشست سے پی ٹی آئی کی سابق وزیر زرتاج گل 8 فروری 2024 کے الیکشن میں جیتی تھیں۔ زرتاج گل اس الیکشن کے وقت بھی 9 مئی 20243 کے سانحہ سے متعلق مقدمات میں ملزمہ تھیں لیکن ان کو آزاد حیثیت سے الیکشن لڑنے سے نہیں روکا گیا تھا۔ بعد میں مقدمات میں سے ایک کا فیصلہ ہوا تو زرتاج گل مجرم قرار پائیں اور انہیں قید کی سزا سنا دی گئی۔
راشد لطیف نے متنازع بیان پر معافی مانگ لی
زرتاج گل کو الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے نااہل قرار دیے جانے کے بعد این اے185 میں ضمنی انتخاب کی ضرورت پڑی۔ ای سی پی نے ابتدائی طور پر ضمنی انتخابات کے لیے ایک مختلف شیڈول جاری کیا تھا لیکن بعد میں عدالتوں کے حکم امتناعی کی وجہ سے اسے ملتوی کر دیا۔
بعد ازاں الیکشن کمیشن نے پشاور ہائی کورٹ کی ہدایات کی تعمیل کرتے ہوئے 23 نومبر 2025 کی نئی پولنگ تاریخ کے ساتھ انتخابی عمل دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔
پھلوں اور سبزیوں کے آج کے ریٹس۔ہفتہ 22 نومبر ، 2025
صبح ہونے والے ضمنی الیکشن میں NA-185 ڈیرہ غازی خان-II میں سرکردہ امیدوار محمود قادر خان لغاری (PML-N) اور سردار دوست محمد خان کھوسہ (PPP) ہیں، جو پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدوار کی نسبت ممکنہ طور پر مضبوط دکھائی دے رہے ہیں۔
اس نشست کے اہم دعویدار یہ ہیں
محمود قادر خان لغاری: پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل این) کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے ہیں۔آج شام تک حلقہ کے حالات کے تجزیہ میں انہیں پرائمری امیدواروں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، مسلم لیگ (ن) کو سخت مقابلے کی توقع ہے۔
لاہور میں 263 ٹریفک حادثات، 315 افراد زخمی
سردار دوست محمد خان کھوسہ: صبح ہونے والے الیکشن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نمائندگی کر رہے ہیں۔
سردار دوست محمد کھوسہ پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ سرہ چکے ہیں۔ وہ وزیراعلیٰ مسلم لیگ نون میں رہتے ہوئے رہے تھے، بعد میں پارٹی کی قیادت سے اختلاف کے سبب وہ مسلم لیگ نون چھوڑ گئے ، کچھ عرصہ خاموش رہنے کے بعد وہ پیپلز پارٹی کے سرکردہ رہنما کی حیثیت سے ڈیرہ کی سیاست میں دوبارہ ابھرے۔ دوست محمد کھوسہ کا اور مسلم لیگ نون کے امیدوار کا کچھ ووٹ بینک مشترک ہے؛ یہ وہ کس کی طرف جاتے ہیں، اس کا پتہ صبح پولنگ ہو گی تب ہی چلے گا۔ توقع ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کے امیدوار کو سخت چیلنج دیں گے۔
ایک آزاد امیدوار (ممکنہ طور پر پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ): پی ٹی آئی کے نشان کے تحت انتخاب نہ لڑنے کے دوران (جسے پارٹی ہار گئی)، آزاد امیدوار جو ممکنہ طور پر حلقے میں پی ٹی آئی کے اہم ووٹر بینک سے فائدہ اٹھائے گا، ایک اہم عنصر ہونے کی توقع ہے۔
آٹھ فروری 2024 کو ہونے والے عام انتخابات پی ٹی آئی کی زرتاج گل نے جیتے تھے، انہوں نے مضبوط حمایت کی بنیاد کو ظاہر کرتے ہوئے آزاد امیدوار کی حیثیت سے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی تھی۔ الیکشن جیتنے کے بعد البتہ وہ حلقہ سے مسلسل غیر حاضر رہیں اور عملاً روپوش رہیں حتیٰ کہ انہیں نو مئی کے سانحہ میں مجرم ثابت ہونے پر سزا ہو گئی۔ موجودہ ضمنی انتخاب زرتاج گل کی نااہلی کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ابھی یہ پتہ نہیں کہ زرتاج گل کی ڈیرہ غازی خان سے غیر حاضری، سانحہ نو مئی کے مقدمہ میں مجرم ثابت ہو جانے کا حلقہ کے ووٹرز پر کیا اثر ہوا ہے، یہ صبح پولنگ کے بعد سامنے آئے گا۔
مقابلہ کرنے والے آٹھ اہم امیدواروں کی حتمی فہرست میں یہ بھی شامل ہیں
اللہ بخش
سہیل مہرالدین گیلانی
ظفر بشیر
مرید حسین
نواب محمد علی فیصل سدوزئی
عبدالعزیز بلوچ (جے یو آئی ف)
پرائمری امیدواروں کے درمیان مقابلہ قریب ہونے کی توقع ہے، مقامی تجزیہ کاروں نے آج ووٹ کے اس کارزار میں سخت لڑائی کی پیش گوئی کی ہے۔
حلقہ پی پی 269 مظفر گڑھ
حلقہ پی پی 269 مظفر گڑھ II کے ضمنی انتخاب کی تاریخ 23 نومبر 2025 ہے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان (ECP) نے اس اور متعدد دیگر خالی پنجاب اسمبلی کی نشستوں کے لیے شیڈول کا اعلان کیا، جس میں پولنگ 23 نومبر 2025 کو مقرر کی گئی تھی۔
21-22 نومبر، 2025 کو انتخابی مہم ان تاریخوں کے آدھی رات کو ختم ہو گئی تھی۔
صبح 23 نومبر کو یہاں پولنگ ہو گی۔
ضمنی انتخاب میں سترہ امیدوار حصہ لے رہے ہیں، پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) اور آزاد امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ متوقع ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: اے 185 ڈیرہ غازی خان آزاد امیدوار پیپلز پارٹی کے امیدوار پی ٹی آئی پارٹی کے مسلم لیگ زرتاج گل توقع ہے رہے ہیں پی پی 269 کے بعد
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔