بنگلادیش زلزلے کے جھٹکوں سے لرز اُٹھا؛ 10 افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
بنگلا دیش میں آنے والے خوفناک زلزلے میں ہونے والی ہلاکتیں 10 تک جا پہنچیں جب کہ سیکڑوں زخمی ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق بنگلادیش کے دارالحکومت ڈھاکا اور اس کے مضافات میں زلزلے نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
بنگلادیش کے محکمۂ موسمیات نے بتایا کہ زلزلے کی شدت 5.5 ریکارڈ کی گئی جب کہ اس کا مرکز ڈھاکا کے شمال میں تھا۔
زلزلے سے ڈھاکا کے علاوہ کامرہ گنج اور قریبی اضلاع کی عمارتوں، گھروں اور مارکیٹوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
شہر کی مرکزی اور بڑی سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ شہری خوف و ہراس کا شکار ہوکر گھر بار چھوڑ کر کھلے میدانوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔
اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ سیکڑوں افراد کو زخمی حالت میں لایا گیا جو گھروں کی چھت یا دیوار گرنے سے زخمی ہوگئے تھے۔
ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بلدیاتی اداروں کو بھی ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔
ماہرِین کا کہنا ہے کہ زلزلے کے بعد آنے والے مزید چھوٹے جھٹکے (آفٹر شاکس) معمول کی بات ہیں اور گزشتہ 100 برس میں کوئی بہت بڑا زلزلہ نہیں آیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔