’خرابی رافیل طیاروں میں نہیں بلکہ انہیں اڑانے والے بھارتی پائلٹس میں تھی‘، فرانسیسی کمانڈر
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
فرانسیسی کمانڈر کیپٹن یوک لونے نے تصدیق کی ہے کہ مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپ میں بھارتی رافیل طیارے مشین کی خرابی کی وجہ سے نہیں بلکہ پائلٹس کی کارکردگی کی کمی کی وجہ سے تباہ ہوئے۔
کیپٹن لونے گزشتہ 25 سال سے رافیل طیارے اُڑا رہے ہیں اور مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ میں اہم مشنز سرانجام دے چکے ہیں، نے کہا کہ پاکستانی فضائیہ نے اپنے مضبوط دفاع اور مؤثر حکمت عملی سے صورتحال کو بہترین انداز میں سنبھالا۔
مزید پڑھیں:یوکرین کا فرانس سے 100 رافیل طیارے خریدنے کا معاہدہ طے پاگیا
انہوں نے مزید کہا کہ مئی کی رات میں لڑائی میں شامل 140 سے زائد لڑاکا طیاروں کے باوجود پاکستان نے بھارت کے مقابلے میں کہیں بہتر کارکردگی دکھائی۔
انہوں نے واضح کیا کہ رافیل کے ریڈار سسٹم یا تکنیکی صلاحیتوں میں کوئی کمی نہیں تھی، بلکہ سب کچھ اس کے استعمال کے طریقے پر منحصر تھا۔ کیپٹن لونے نے بھارتی دعوے کہ یہ سب چین کے اثر و رسوخ کی وجہ سے ہوا، مسترد کرتے ہوئے کہا کہ حقیقی کامیابی پاکستان کی فضائی قوت اور حکمت عملی کی ہے۔
مزید پڑھیں:رافیل طیاروں کی ناکامی کے باوجود مودی سرکار کی فرانس سے مزید معاہدے کی کوششیں
اس موقع پر کیپٹن لونے نے عالمی سطح پر پاکستانی فضائی صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ جنگ ایک نایاب موقع تھا جس میں پائلٹس، لڑاکا طیاروں اور ایئر ٹو ایئر میزائلوں کی حقیقی جنگی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔ اس جنگی تجزیے سے مستقبل کی ملٹری اسٹریٹجی بہتر بنانے کے لیے اہم سبق حاصل ہو سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی پائلٹس رافیل فرانسیسی کمانڈر کیپٹن یوک لونے.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بھارتی پائلٹس رافیل کہا کہ
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔