انقلاب کے دنوں میں محبت، بنگلہ دیشی اور پاکستانی جوڑے کی کہانی
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
لاہور کے 22 سالہ الیکٹریکل انجینیئر فیصل فرمائش کو گمان تک نہ تھا کہ ٹک ٹاک پر موٹیویشنل ویڈیوز بنانے کا شوق ایک دن انہیں سرحد پار محبت سے دوچار کردے گا۔
اردو نیوز کے مطابق ان کا یہ سفر بنگلہ دیش میں طلبا احتجاج پر بنائی گئی ایک ویڈیو سے شروع اور زندگی بھر کے ساتھی کے انتخاب پر ختم ہوا۔
فیصل گزشتہ 3 برس سے ٹک ٹاک پر سرگرم ہیں، بنگلہ دیش میں طلبا تحریک اٹھی تو انہوں نے ایک نوجوان طالب علم ابو سعید کے کردار پر ایک ویڈیو بنائی۔
یہ بھی پڑھیں: بنگلہ دیش میں پاکستانی پرچموں کی فروخت میں اضافہ، خوبصورت ویڈیو وائرل
ویڈیو نے دیکھتے ہی دیکھتے مقبولیت حاصل کی اور تبھی کومیلا کی رہائشی عریشہ کا کمنٹ ’فرام بنگلہ دیش‘ آیا اور یوں ایک معمولی آن لائن گفتگو نے تعلق کی پہلی اینٹ رکھ دی۔
اردو نیوز سے گفتگو میں فیصل نے بتایا کہ یہ سب حادثاتی نہیں تھا۔ ’محنت اور دل کی سچائی نے راستہ خود بنا دیا۔‘
فیصل کے مطابق وہ عام حالات میں لڑکیوں سے بات چیت نہیں کرتے تھے، مگر گزشتہ برس بنگلہ دیش میں احتجاج کے دنوں میں وہ اس معاملے پر مزید معلومات چاہتے تھے۔
’میں نے عریشہ سے رابطہ کیا، ہم ابو سعید کے کردار، احتجاج کی فضا اور وہاں کے حالات پر بات کرتے۔ آہستہ آہستہ ان کی باتوں نے مجھے بہت متاثر کیا۔‘
پیشہ ورانہ طور پر فیصل الیکٹریکل انجینیئر ہیں اور ساتھ ہارڈویئر کی دکان بھی چلاتے ہیں۔
پانچ بہنوں اور تین بھائیوں پر مشتمل بڑے خاندان سے تعلق رکھنے والے فیصل کے لیے یہ نیا تعلق غیر معمولی تھا۔
مزید پڑھیں: فیس بک رومانس: پاکستانی نوجوان شادی کے لیے بنگلہ دیش پہنچ گیا
’میں نے کبھی کسی لڑکی سے اتنی بات نہیں کی تھی۔ مگر عریشہ سے روز بات ہوتی، ان کی آواز کا انتظار رہتا۔‘
وقت کے ساتھ ٹک ٹاک کی گفتگو جذبات میں بدل گئی اور فیصل نے ہمت کرکے عریشہ کو پروپوز کر دیا۔
جواب میں عریشہ نے گفتگو ہی بند کر دی۔
’وہ کہتی تھیں کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے فرق سے یہ رشتہ ممکن نہیں، ان کا ہر جواب یہی تھا کہ ہم نکاح نہیں کر سکتے۔‘
لیکن فیصل نے ہار نہ مانی، چند دنوں بعد عریشہ نرم پڑ گئیں۔ فیصل نے ان کی والدہ سے بھی بات کی، جو جلد مان گئیں۔
تاہم عریشہ کے والد شدید مخالف تھے۔ ’انہوں نے 6 ماہ تک عریشہ سے بات تک نہیں کی، جس سے دکھی ہو کر عریشہ نے کھانا پینا تک چھوڑ دیا تھا۔‘
مزید پڑھیں: ڈھاکہ میں عاطف اسلم کی آواز کا کمال، بنگلہ دیشی سامعین کا دھمال
بنگلہ دیش کے شہر کومیلا کی رہائشی عریشہ احتجاج کے دنوں میں آنرز کے پہلے سال کی طالبہ تھیں۔
نرم مزاج ہونے کے باوجود ان کے اندر ایک ہمت تھی جس نے مشکل وقت میں انہیں مضبوط رکھا۔
اپنی کہانی سناتے ہوئے عریشہ نے بتایا کہ ان کے والد نہیں مان رہے تھے، لیکن باقی گھر والے راضی تھے۔
’بالآخر بڑی بہن نے انہیں منایا اور پھر ہمارا آن لائن نکاح ہوا۔ میں نے پاسپورٹ اور دستاویزات مکمل کیں اور 12 جون کو پاکستان آگئی۔‘
ان کے والد دبئی میں رہتے ہیں اور پاکستانیوں کے حوالے سے ان کے ذہن میں منفی تصورات تھے۔
’وہ کہتے تھے کہ پاکستان گئی تو وہ تمہیں بیچ دیں گے۔ ان کے نزدیک پاکستانیوں کا کردار اچھا نہیں تھا۔‘
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش کا پاکستان کے لیے قوانین میں نرمی کا اعلان، اب ویزا آن لائن دستیاب ہوگا
پاکستان پہنچ کر عریشہ کو خوف تھا کہ نئے ملک اور اجنبی لوگوں کے ساتھ معاملات نجانے کیسے ہوں لیکن لاہور نے ان کا دل جیت لیا۔
’یہاں کے لوگ بہت محبت کرنے والے ہیں۔ سب فیصل سے کہتے ہیں کہ عریشہ کا خیال رکھنا۔ میں شکر گزار ہوں کہ مجھے اتنے اچھے لوگ ملے۔‘
کومیلا گورنمنٹ کالج میں احتجاج کے دوران حالات سنگین تھے۔
’لڑکیوں تک پر ظلم ہوا، میں کئی کئی دن خوف کے باعث گھر سے باہر نہیں جاتی تھی۔ لیکن حسینہ واجد کے حکومت چھوڑنے کے بعد دوبارہ آزادی محسوس ہوئی۔‘
وقت کے ساتھ ساتھ اردو زبان بھی ان کے لیے آسان ہوتی چلی گئی۔
’مجھے پہلے بھی اردو آتی تھی لیکن روانی نہیں تھی۔ اب یہاں گھر والوں سے روز بات کرتی ہوں تو کافی بہتر ہو گئی ہے۔‘
عریشہ جلد ہی اپنے پاکستانی شوہر فیصل کے ہمراہ بنگلہ دیش جانے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ انہیں اپنے گھر والوں سے ملوا سکیں۔
ان کی خواہش ہے کہ وہ واپس بھی ایک ساتھ آئیں اور اپنی نئی زندگی کو مزید خوبصورت بنائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آن لائن نکاح اردو نیوز انجینیئر انقلاب بنگلہ دیش پاکستان حسینہ واجد طلبا عریشہ فیصل کومیلا گورنمنٹ کالج لاہور محبت.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آن لائن نکاح اردو نیوز انقلاب بنگلہ دیش پاکستان حسینہ واجد فیصل کومیلا گورنمنٹ کالج لاہور بنگلہ دیش میں اردو نیوز آن لائن فیصل نے کے ساتھ کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔