پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں کینسر کی ادویات نایاب، مریض پریشانی میں
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں کینسر کے مریضوں کے لیے ادویات کی قلت نے مریضوں اور ان کے اہل خانہ کے لیے مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق صوبے کے اسپتالوں میں رجسٹرڈ تقریباً چھ ہزار کینسر کے مریض ادویات کی عدم دستیابی کے باعث شدید پریشانی کا سامنا کر رہے ہیں۔
خاص طور پر بلڈ کینسر کے مریضوں کے لیے ضروری دوائیں جیسے روکسولیٹینیب اور ایورولیمس اسپتالوں میں دستیاب نہیں ہیں۔ طویل مدت تک علاج کے لیے استعمال ہونے والی دوا نیلوٹینیب خریدی جانے کے باوجود سپلائی نہیں ہو سکی، جس کے باعث مریض مہنگی ادویات خریدنے پر مجبور ہیں۔ یاد رہے کہ سابق وزیراعظم شہباز شریف کے دور میں بلڈ کینسر کے مریضوں کا مفت علاج فراہم کیا جاتا رہا تھا۔
محکمہ صحت پنجاب نے سماء نیوز کو بتایا کہ کینسر کی کچھ ادویات کی خریداری کے ٹیسٹ جاری ہیں اور ٹیسٹ مکمل ہونے کے بعد سپلائی شروع ہو جائے گی۔ دیگر ادویات کے حوالے سے کمیٹی مزید تجزیہ کر رہی ہے، جس کے بعد دیگر دواؤں کی خریداری کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ صورتحال مریضوں کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے، کیونکہ وقت پر ادویات کی دستیابی علاج کی کامیابی کے لیے نہایت ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: اسپتالوں میں ادویات کی کینسر کے کے لیے
پڑھیں:
’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا اجراء
پشاور (بیورو رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبر پی کے محمد سہیل آفریدی نے ’’خیبر پی کے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن پالیسی اینڈ روڈ میپ 2030ء ‘‘ کا باضابطہ اجراء کر دیا۔ جو 5 سٹریٹجک ستونوں، 9کلیدی اہداف، 32 تھیمیٹک ڈومینز، 915 سٹریٹجک اقدامات پر مشتمل ہے۔اس پالیسی کے تحت حکومتی خدمات مرحلہ وار آن لائن اور Citizen-Centric بنائے جائیں گی۔ پیپر لیس گورننس کے ذریعے شفافیت، جوابدہی اور سرکاری کارکردگی میں نمایاں بہتری آئے گی۔ ایک لاکھ سے زائد نوجوانوں کو AI اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت دی جائے گی۔ گرین آئی سی ٹی، کاربن فٹ پرنٹ میں کمی اور کاربن کریڈٹ رجسٹری پر کام کیا جائے گا۔ ڈیجیٹل اصلاحات سے عوام کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکر نہیں لگانے پڑیں گے۔