حکومتی ایکٹ پر عمل نہ کرنے پر سرکائوس جی اسپتال کے خلاف کیس کی سماعت
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
حیدرآباد(اسٹاف رپورٹر)سرکاؤس جی انسٹیٹیوٹ آف سائیکائٹری اسپتال میں یونیورسٹی کے قیام اور 2020 میں سندھ حکومت کی جانب سے پاس کیے گئے ایکٹ پر عمل نہ ہونے کے خلاف دائر درخواست پر سندھ ہائی کورٹ نے چیف سیکریٹری سندھ، سیکریٹری صحت سمیت متعلقہ فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے چار ہفتوں میں جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔اس سلسلے میں سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ حیدرآباد کے جسٹس عدنان الکریم میمن اور جسٹس ریاضت علی سہڑ پر مشتمل آئینی بینچ نے سماعت کی۔درخواست گزار غلام مرتضیٰ لغاری نے اپنے وکیل الطاف سچل اعواں کے ذریعے سرکٹ بینچ حیدرآباد میں درخواست دائر کی جس میں مؤقف اختیار کیا کہ حکومت نے 2020 میں ایکٹ پاس کر کے اسپتال کی گورننگ باڈی مقرر کی تھی، مگر آج تک اس پر عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ ایکٹ پر عمل نہ ہونے کے باعث نہ تو اسپتال میں سی ای او کی تقرری ہو سکی ہے اور نہ ہی پروفیسرز اور دیگر ملازمین کی بھرتیاں ممکن ہو سکی ہیں۔درخواست گزار کے مطابق 2024 میں سندھ کے وزیرِاعلیٰ نے اسپتال میں یونیورسٹی قائم کرنے کا اعلان کیا، جو نامناسب ہے،گدو اسپتال میں یونیورسٹی نہیں بننی چاہیے اورہم اسی کے خلاف عدالت آئے ہیں،اگر اسپتال میں یونیورسٹی بنائی گئی تو غریب اور لاچار مریض دربدر ہو جائیں گے، ان کے علاج کا کیا ہوگا؟ یونیورسٹی کمرشلائز ہو جائے گی اور اسے دوسرے طریقے سے چلایا جائے گا۔انہوں نے مزید استدعا کی کہ اسپتال کی جو زمین دیگر اداروں کو دی گئی ہے، وہ بھی واپس کرائی جائے اور ادارے کو فعال کیا جائے۔ یہ ادارہ ایک ٹرسٹ ہے، لہٰذا اسے ٹرسٹ کے طور پر ہی چلنے دیا جائے اور یونیورسٹی قائم نہ کی جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: اسپتال میں یونیورسٹی
پڑھیں:
ثاقب چدھڑ کے اثاثوں کی تفصیلات کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) رکن پنجاب اسمبلی ثاقب چدھڑ کے اثاثوں اور انتخابی دستاویزات کی تفصیلات حاصل کرنے کیلئے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر دی گئی۔یہ درخواست میاں آصف محمود ایڈووکیٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، جس میں ثاقب چدھڑ کے کاغذاتِ نامزدگی اور اثاثوں کی تصدیق شدہ نقول فراہم کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ثاقب چدھڑ کے خلاف سپیکر پنجاب اسمبلی کے پاس نااہلی کی درخواست پہلے ہی دائر کی جا چکی ہے لہٰذا ان کی رکنیت برقرار رہنے یا نہ رہنے کے معاملے کی جانچ پڑتال کے لئے انتخابی ریکارڈ کا معائنہ ناگزیر ہے۔درخواست گزار کے مطابق رکن اسمبلی پر ایک خاتون کو مہنگی گاڑیاں، قیمتی تحائف اور جائیداد بطور تحفہ دینے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جن کی روشنی میں ان کی مالی حیثیت اور آمدن کے ذرائع کا قانونی جائزہ لینا عوامی اہمیت کا معاملہ بن چکا ہے۔(جاری ہے)
درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ منتخب نمائندے قانون کے تحت اپنے اثاثے ظاہر کرنے کے پابند ہیں، اس لئے ثاقب چدھڑ، ان کی اہلیہ اور زیر کفالت افراد کے تمام موجودہ اور سابقہ اثاثوں کا ریکارڈ فراہم کیا جائے۔درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ شفافیت اور احتساب کے تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے متعلقہ انتخابی اور مالی ریکارڈ تک رسائی ضروری ہے، تاکہ حقائق کی بنیاد پر معاملے کا جائزہ لیا جا سکے۔