کراچی:

گلشن اقبال میں نامعلوم افراد گھر کے باہر کھڑی قیمتی گاڑی کو آگ لگا کر فرار ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال بلاک ون میں موٹرسائیکل سوارنامعلوم افراد گھرکے باہرکھڑی شہری کی قیمتی گاڑی میں آگ لگا کرفرارہوگئے۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی، گاڑی میں آگ لگانے کا واقعہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب سوا تین بجے کے قریب پیش آیا۔

سی سی ٹی وی فوٹیج میں موٹرسائیکل سوار 2  نامعلوم افراد کو یوٹرن لیکرگھر کے باہرکھڑی گاڑی کےقریب آکر رکتے دیکھا جاسکتا ہے۔ موٹرسائیکل سوارافراد نے موٹرسائیکل سے اترتے ہیں اورایک شخص آہنی راڈ سے گاڑی کی بیک اسکرین توڑتا ہے جبکہ دوسراشخص پیٹرول سے بھری بوتل میں آگ لگا کرجلتی بوتل  ٹوٹی ہوئی اسکرین کی جگہ سے گاڑی کے اندرپھینک دیتا ہے جس کے بعد نامعلوم افراد موٹرسائیکل اسٹارٹ کرکے فرارہوجاتے ہیں۔

گاڑی میں آگ بھڑک اٹھنے کے بعد شہری موقع پرجمع ہوجاتے ہیں اورشہری اپنی مدد آپ کے تحت مٹی اورپانی ڈال کرآگ بھجانے کی کوشش شروع کردیتے ہیں اور کچھ ہی دیرمیں گاڑی میں لگنے والی آگ پرقابوپا لیاجاتا ہے،سی سی ٹی وی فوٹیج میں موٹرسائیکل سوارایک شخص شناخت چھپانے کے لیے پی کیپ اورچہرے پرماسک  جبکہ دوسرے ملزم نے صرف چہرے پرماسک لگایا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔

رابطہ کرنے پرایس ایچ اوگلشن اقبال نعیم راجپوت نے ایکسپریس کو بتایا کہ جلائی جانے والی گاڑی عبدالرحمان نامی شہری کی ملکیت اورواقعے کے بعد متاثرہ شہری نے تھانے آکرپولیس سے رابطہ کیا تھا، انہوں نے بتایا کہ پولیس نے شہری کی رپورٹ درج کرلی ہے، واقعہ کسی ذاتی تنازع کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، پولیس واقعے کی مزید تفتیش کررہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: نامعلوم افراد گاڑی میں ا گ لگا

پڑھیں:

فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان

پُرتعیش گاڑیاں بنانے والی عالمی شہرت یافتہ کمپنی فراری کی پہلی مکمل الیکٹرک گاڑی منظرِ عام پر آتے ہی شدید تنقید کی زد میں آ گئی، جس کے اثرات کمپنی کی مارکیٹ پوزیشن پر بھی نمایاں طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔

’لُوچے‘نامی اس نئی الیکٹرک گاڑی کو معروف ڈیزائنر سر جونی آئیو کے تخلیقی وژن کے تحت تیار کیا گیا ہے۔ اطالوی زبان میں ’لُوچے‘  کا مطلب ’روشنی‘ ہے۔ تاہم، گاڑی کا ڈیزائن اور مجموعی تصور صارفین اور ناقدین کی توقعات پر پورا نہ اتر سکا۔

فراری کی تاریخ میں پہلی بار متعارف کرائی گئی پانچ نشستوں والی اس الیکٹرک گاڑی کو غیرمعمولی کارکردگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

کمپنی کے مطابق یہ گاڑی محض ڈھائی سیکنڈ میں صفر سے 96 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار حاصل کر سکتی ہے۔ اس کی قیمت 6 لاکھ 40 ہزار ڈالر، یعنی پاکستانی کرنسی میں تقریباً 18 کروڑ روپے رکھی گئی ہے۔

گاڑی کی تقریبِ رُونمائی میں اٹلی کی اہم شخصیات سمیت ملک کے صدر اور عیسائی برادری کے روحانی پیشوا پوپ لیو کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔ تاہم، شاندار تقریب کے باوجود مارکیٹ کا ردِعمل فراری کے لیے حوصلہ افزا ثابت نہ ہو سکا۔

رونمائی کے صرف ایک دن بعد ہی کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں آٹھ فی صد تک کمی ریکارڈ کی گئی، جسے سرمایہ کاروں کی مایوسی اور مارکیٹ کے منفی ردِعمل کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ناقدین، سرمایہ کاروں اور بعض سیاسی شخصیات نے بھی گاڑی کے ڈیزائن اور تصور پر سوالات اٹھائے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے منفرد انداز کو لے کر ملا جلا ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی عالمی مارکیٹ میں فراری کا یہ قدم تاریخی ضرور ہے، مگر کمپنی کو روایتی اسپورٹس کار کے شوقین صارفین کو قائل کرنے کے لیے مزید محنت کرنا پڑ سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • کراچی: سرجانی ٹاؤن میں فائرنگ سے باپ، بیٹا جاں بحق، دوسرا بیٹا زخمی
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • کراچی میں گیس سلینڈر دھماکے سے تباہی، 1 جاں بحق
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • مومنہ اقبال کے شوہر کون، تفصیلات سامنے آگئیں
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • مومنہ اقبال اور حمزہ حبیب کی دعائے خیر کی تقریب، دلکش تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل