Jasarat News:
2026-06-03@04:42:25 GMT

بھارتی خاتون کی عجیب و غریب غلطی، پورا خاندان متاثر کردیا

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بھارت کی ریاست مغربی بنگال میں پیش آنے والا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پورے علاقے میں تشویش کا باعث بن گیا ہے، جہاں محض ایک عجیب و غریب غلطی نے ایک پورے خاندان کو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا کر دیا۔

خبر رساں اداروں کے مطابق مدنی پور کے گنجان آباد علاقے میں کھانا پکانے کے دوران ہونے والی ایک سنگین غلط فہمی اس وقت خطرناک صورت اختیار کر گئی جب ایک خاتون نے برتن میں پانی ڈالنے کے بجائے غلطی سے تیزاب انڈیل دیا اور یہ تیزاب اسی شام تیار ہونے والے کھانے کا حصہ بن گیا۔

کھانا بظاہر معمول کی طرح تیار ہوا، لیکن جیسے ہی اہلِ خانہ نے چاول اور سالن تناول کیے، چند ہی لمحوں میں صورتحال غیر معمولی طور پر بگڑ گئی۔

رپورٹس کے مطابق کھانا کھاتے ہی گھر کے تمام افراد کی حالت خراب ہونا شروع ہوگئی۔ پہلے پیٹ میں شدید تکلیف اور پھر بے چینی کی علامات ظاہر ہوئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ علامات خطرناک حد تک بڑھ گئیں اور گھر کے 6 افراد ایک ساتھ زمین پر گرنے لگے۔

اسی دوران 2 کم عمر بچوں کی حالت سب سے زیادہ تشویشناک تھی، جنہیں فوری طور پر کولکتہ کے ایس ایس کے ایم اسپتال منتقل کیا گیا۔ اسپتال ذرائع نے بتایا کہ دونوں بچوں کے جسم پر اندرونی جلن شدید نوعیت کی ہے، جس کے باعث اُن کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

اطلاع ملتے ہی پولیس، امدادی کارکن اور مقامی انتظامیہ جائے وقوع پر پہنچ گئے۔ گھر سے کھانے کے نمونے، برتن اور وہ تیزاب برآمد کرلیا گیا جو غلطی سے کھانے میں شامل ہوا تھا۔

ابتدائی تحقیقات سے پتا چلا کہ گھر کا ایک فرد تانبا اور چاندی پالش کرنے کا کام کرتا تھا اور وہ اپنے کام میں استعمال ہونے والا تیزاب گھر میں ہی رکھتا تھا۔ بدقسمتی سے یہی تیزاب باورچی خانے کے قریب بھی رکھا ہوا تھا اور گھر آنے والی ایک رشتہ دار خاتون نے اُسے عام پانی سمجھ کر کھانا تیار کرنے والے برتن میں ڈال دیا۔

علاقہ مکینوں نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ سنتو سنیاسی نامی شخص کے گھر میں تیزاب کا رکھا جانا معمول کی بات تھی، کیونکہ وہ اپنے پیشے کے تحت دن بھر یہی کام کرتا تھا، تاہم اس بے احتیاطی کے نتیجے میں پیدا ہونے والا سانحہ نہ صرف اہلِ خانہ بلکہ آس پاس کے لوگوں کے لیے بھی ایک تلخ سبق بن گیا ہے۔

پولیس اب یہ جانچ کر رہی ہے کہ آیا یہ واقعہ صرف ایک افسوسناک حادثہ تھا یا اس کے پیچھے کسی قسم کی سازش یا غفلت موجود ہے۔

ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ تیزاب کھانے میں شامل ہونے کی صورت میں اندرونی اعضا پر ہونے والی جلن ناقابلِ برداشت ہوتی ہے اور اس کا علاج بھی انتہائی پیچیدہ مرحلہ ہوتا ہے۔ اسپتال میں داخل دیگر افراد بھی زیر علاج ہیں اور اُن کی حالت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کی حالت

پڑھیں:

لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور

سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کے کیس میں 5 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کر لی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے لاہور کی رہائشی خاتون کے خلاف منشیات برآمدگی کے کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت ملزمہ کے وکیل نے اے این ایف ریڈ کی سی سی ٹی وی فوٹیج چلائی، عدالت نے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔

کراچی: پنکی کے بعد مطلوب منشیات فروش خاتون شیریں گرفتار

پولیس کے مطابق ایک کیس میں ملزمہ کے قبضے سے دستی بم بھی برآمد ہوا تھا۔

ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے کہا ہے کہ واضح دیکھا جاسکتا ہے کہ اے این ایف اہلکار منشیات لے کر گھر آتا ہے، خود منشیات گھر میں رکھ کر جھوٹا کیس بنایا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرۂ عدالت میں موجود ہے۔

اے این ایف کے اہلکار نے فوٹیج میں موجودگی کی تردید کر دی۔

جس پر جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کہا کہ اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے نظر آرہے ہیں۔

اے این ایف کے وکیل نے کہا کہ یہ فوٹیج کسی اور گھر میں کیے گئے ریڈ کی ہے۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کے 10 اہلکار تھے مگر 2 لڑکیاں پھر بھی بھاگ گئیں، اتنے ہٹے کٹے اہلکار لڑکیوں کو نہیں پکڑ سکے مگر گاڑی پکڑ لی۔

ملزمہ  کے وکیل احسن بھون نے کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔

جسٹس اشتیاق ابراہیم نے اے این ایف کے وکیل سے کہا کہ اے این ایف کے بیانات پر لوگوں کو پھانسی پر لٹکاتے اور عمر قید سناتے ہیں، خدا کا خوف کریں کمرۂ عدالت میں جھوٹ نہ بولیں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ اے این ایف کیا کر رہا ہے، ملزمان تحویل میں ہوتے مار دیے جاتے ہیں، ایک کیس میں ملزم کی ہتھ کڑیوں کے ساتھ تصویر تھی جو اگلے روز مار دیا گیا، جوانی ہمیشہ نہیں رہنی کچھ خیال کیا کریں۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کے اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ نے کبھی چرس پی ہے؟ جس پر اہلکار نے کہا کہ نہیں سر میں نے کبھی چرس نہیں پی۔

جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ چرس نہیں پی اس لیے آپ میں احساس بھی نہیں ہے، جس پر عدالت میں قہقہے لگ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • کوٹ عبدالمالک: بیٹی‘ سابق بیوی پر تشدد‘ تیزاب پھینک دیا‘ دونوں جھلس گئیں
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • پنکی کے بعد کراچی سے ایک اور منشیات فروش خاتون گرفتار
  • لاہور کی رہائشی خاتون کی منشیات برآمدگی کیس میں ضمانت منظور
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا