وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ سرکاری دورے پر بحرین روانہ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
ویب ڈیسک:وزیراعظم شہباز شریف دو روزہ سرکاری دورے پر بحرین روانہ ہوگئے۔
ترجمان دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کا وفد بھی بحرین جا رہا ہے جس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اور دیگر حکام، افسران شامل ہیں۔
دورے کے دوران وزیراعظم بحرین کے بادشاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ، ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ سلمان بن حمد الخلیفہ اور بحرین کے نائب وزیراعظم شیخ خالد بن عبداللہ الخلیفہ کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے۔
لاہور فضائی آلودگی کے اعتبار سے پانچویں نمبر پرآگیا
یہ سرکاری دورہ مملکت بحرین کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ خوشگوار تعلقات کی نشاندہی کرتا ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان نتائج پر مبنی اور تزویراتی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔
اس دورے سے روایتی طور پر گرمجوشی اور خوشگوار تعلقات کو تقویت ملے گی، شراکت داری کی نئی راہیں متعین ہوں گی اور عوام سے عوام کے روابط کو گہرا کیا جائے گا جو باہمی طور پر فائدہ مند تعاون میں حصہ ڈالے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔