دہلی دھماکے کے بعد نیتن یاہو نے رواں برس تیسری بار دورۂ بھارت مؤخر کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
نئی دہلی میں ہونے والے مہلک دھماکے کے بعد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر اپنا طے شدہ دورۂ بھارت ملتوی کر دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ رواں برس تیسری مرتبہ ہے کہ نیتن یاہو نے بھارت کا دورہ مؤخر کیا ہے جبکہ اس بار بھی نئی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کےمطابق نئی دہلی میں دو ہفتے قبل ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد سنگین سیکیورٹی خدشات سامنے آئے تھے، جس کے تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا، حالیہ دھماکے نے بھارتی دارالحکومت میں سیکیورٹی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں اور اسرائیلی سیکیورٹی اداروں نے وزیراعظم کے دورے کو غیر محفوظ قرار دیا۔
خیال رہےکہ نیتن یاہو 9 ستمبر کو ایک روزہ دورے پر بھارت آنا چاہتے تھے، 17 ستمبر کے انتخابات کے باعث دورہ منسوخ کرنا پڑا، اس سے قبل اپریل میں بھی وہ مودی حکومت کی دعوت پر بھارت آنے والے تھے مگر دورہ اچانک معطل کر دیا گیا، جس سے بھارتی حکومت کو سفارتی طور پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہےکہ نیتن یاہو آخری مرتبہ 2018 میں بھارت پہنچے تھے، جبکہ رواں برس ان کے دورے کی تین بار تاریخ دی گئی مگر ہر بار ملتوی کر دیا گیا، اب ان کے دورۂ بھارت کی نئی تاریخ ممکنہ طور پر آئندہ برس 2026 میں ہی سامنے آئے گی۔
یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی 2017 میں اسرائیل کا تاریخی دورہ کر چکے ہیں اور اسرائیل کا دورہ کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم ہونے کا اعزاز رکھتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
ممبئی: سلمان خان بیان ایک بار پھر سوشل میڈیا پر موضوعِ بحث بن گیا ہے۔ بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے بھارت میں طلباء کے احتجاج پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر تعلیمی نظام کے لیے نوجوانوں کی آواز سنی جانی چاہیے اور اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جائے۔
سلمان خان نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ ابتدا میں یہ ایک پرامن تحریک تھی، تاہم بعد میں اس کا پرتشدد رخ اختیار کرنا افسوسناک ہے۔ انہوں نے احتجاج کے دوران متاثر ہونے والے طلباء اور ان کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔
اداکار نے کہا کہ پیپر لیک جیسے معاملات انتہائی سنجیدہ نوعیت کے ہیں اور انہیں فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق یہ خوش آئند بات ہے کہ طلباء بہتر تعلیمی نظام کے مطالبے کے لیے متحد ہوئے، جبکہ والدین نے بھی ان کی جدوجہد میں بھرپور ساتھ دیا۔
سلمان خان بیان میں مزید کہا گیا کہ طلباء نے اپنے عزم، محنت اور خلوص سے ثابت کیا ہے کہ وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کے روشن مستقبل میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں کے جذبے، ہمت اور تعلیم سے وابستگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہی نسل مستقبل میں ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گی۔
بالی ووڈ اسٹار نے زور دیا کہ طلباء کے مطالبات کو سیاسی تنازع نہ بنایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل سے جڑا ہوا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ حکومت بھی اس معاملے کا مثبت حل نکالے گی اور تعلیمی نظام کو مزید مضبوط بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔
سلمان خان نے اپنے پیغام کے اختتام پر دعا کی کہ علم حاصل کرنے والے تمام طلباء اپنی منزل حاصل کریں اور ملک میں ایسا تعلیمی ماحول قائم ہو جہاں میرٹ، شفافیت اور انصاف کو اولین ترجیح دی جائے۔