Jasarat News:
2026-07-24@04:22:49 GMT

عام شہریوں پر حملہ کرنا ہماری پالیسی نہیں،وزیر دفاع

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251126-01-11
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ پاکستان جارحیت کا جواب ضرور دیتا ہے لیکن عام شہریوں پر حملہ کرنا ہماری پالیسی نہیں، ہماری فورسز انتہائی ڈسپلن ہیں،ہم طالبان جیسا کوئی گروہ نہیں ہیں۔ انہوں نے نجی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جارحیت کا جواب ضرور دیتا ہے لیکن سویلین پر حملہ کرنا ہماری پالیسی یا وطرہ نہیں، پاکستان کی ایک ڈسپلن فورس ہے، جس کی روایات ہیں، پاکستان کی فورسز کا ایک کوڈ آف کنڈکٹ ہے، ہم کوئی ایسے ہی ریگ ٹیگ گروپس نہیں ہیں جن کا کوئی نظم مذہب ہے اور نہ ہی کوڈآف کنڈکٹ ہے، 20 یا 40 سال کی جو بھی تاریخ ہے، انہوں نے جب کابل واپس لیا تھا، میں نے ان کو ویلکم کہا تھا، اچھائی کی امید رکھنی چاہیے، جب تک کوئی سبھی حدیں پار نہ کرجائے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ آج پاکستان کو افغان طالبان سے بالکل اچھائی کی امید نہیں ہے، ان کا دور دور تک اسلام ، مذہب یا قومیت یا کوئی طور طریقوں سے تعلق نہیں ہے۔ وزیردفاع خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا کے کس مذہب اور معاشرے میں ایسے ہے کہ اگر آپ کسی ملک میں 40 سال گزاریں نمک کھایا ہو، پھر انہی کے ساتھ دشمنی کریں، ان کے مردوخواتین بچوں کا قتل عام کریں،ا سکولوں مساجد میں بم دھماکے کریں ، وہاں پر لوگوں کو شہید کریں ، یہ کسی قوم ہے؟ کیا مذہب ہے ان کا؟ جو ان کو سکھاتا ہے کہ جس گھر میں رہیں وہاں خون ریزی کریں، کیا دین ہے ان کا؟ ہماری نظر میں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں ہیں، طالبان کی کون سی شریعت ہے جس کے تحت لوگوں کو ڈکٹیٹ کرتے ہیں؟دہشتگردوں میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ہم افغان طالبان کے خلاف جب کاروائی کریں گے تو واشگاف الفاظ میں بتائیں گے۔

سیف اللہ.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن