طالبان سے اچھائی کی کوئی امید نہیں, ان پر اعتمادکرنابےسورہے، وزیردفاع
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
سٹی42: وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ طالبان سے اچھائی کی کوئی امید نہیں۔ طالبان مفاد پرستوں کا گروہ ہیں، ان کی باتوں کو سنجیدہ لینا اور ان پر اعتماد کرنا بے سود ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نیوز چینل کے اینکر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہماری فورسز انتہائی ڈسلپنڈ ہیں۔ طالبان کا کوئی کوڈ آف کنڈکٹ نہیں ہے۔ ہمیں طالبان سے اچھائی کی امید نہیں۔
خواجہ آصف نے کہا کہ دنیا کے کس مذہب و معاشرے میں ایسا ہوتا ہے کہ آپ کسی سرزمین پر رہے ہوں اور وہاں خونریزی کریں، آگ لگائیں، طالبان کونسی شریعت کو ماننے والے ہیں؟ یہ کس شریعت کی بات کرتے ہیں۔
وزیراعلیٰ مریم نواز کا پنجابی زبان کو تعلیم، ثقافت اور عوامی زندگی میں مرکزی مقام دلانےکا حکم
وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خطے میں امن ہو، خطے میں امن ہوگا تو سب ہی اس کے بینیفشری ہوں گے۔
انہوں نے کہاکہ طالبان ایک مفاد پرستوں کا گروہ ہے، ان کی باتوں کو سنجیدہ لینا ، ان پر اعتماد کرنا بے سود ہے، طالبان کے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ اپنے ملک و قوم کو برباد کررہےہیں۔
اس کےعلاوہ خواجہ آصف نے کہا تھا کہ افغانستان کو تاجر کیلئے کوئی متبادل راستہ اختیار کرنا ہے تو ضرور کرے، افغانستان اگر بھارت کےساتھ تعلقات رکھنا چاہتاہے تو ضرور رکھے۔
اسلام آباد ائیرپورٹ پر بوئنگ 777 سنگین حادثہ سےبچ گیا
Waseem Azmet.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: خواجہ آصف نے نے کہا
پڑھیں:
کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
پشاور:خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔
ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔