ہم شہریوں کو نشانہ نہیں بناتے، پاکستان ہمیشہ اعلانیہ حملہ کرتا ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
ڈی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ پاکستان جب حملہ کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے، ہم افغان عوام کے نہیں بلکہ دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سینئر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری نظر میں کوئی گڈ اور بیڈ طالبان نہیں، دہشت گردوں میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ پاکستان کبھی سویلین پر حملہ نہیں کرتا، ہم افغان عوام کے نہیں، دہشت گردی کے خلاف ہیں۔ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاکستان جب حملہ کرتا ہے تو اعلانیہ کرتا ہے، طالبان حکومت ریاست کی طرح فیصلہ کرے، نان اسٹیٹ ایکٹر کی طرح فیصلہ نہ کرے، نان کسٹم پیڈ گاڑیوں پر فوری پابندی عائد کی جائے، دہشت گردی میں نان کسٹم پیڈ گاڑیاں استعمال ہوئیں۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم ریاست ہیں ، ریاست کے طور ہی ردعمل دیتے ہیں، بلڈ اور بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے، یہ نہیں ہو سکتاکہ حملے بھی ہوں اور ہم تجارت بھی کریں۔ ہم افغان عوام کے نہیں، دہشت گردی کے خلاف ہیں، ہم حق پر ہیں اور حق غالب آئے گا۔ترجمان پاک فوج نے یہ بھی کہا کہ ایک سیاسی جماعت سوشل میڈیا پر ریاست مخالف مہم چلارہی ہے، 4 نومبر سے اب تک 4910 انسداد دہشت گردی آپریشن ہوئے ہیں، ہر روز 232 آپریشن ہوئے، 336 دہشت گردی کے واقعات ہوئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: آئی ایس پی آر دہشت گردی کے کرتا ہے
پڑھیں:
کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
بھارتی سرپرستی میں کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔ حبیبہ پیرجان نوجوانوں کو نہ صرف ملک دشمنی پر ورغلاتی ہیں، بلکہ اپنی نفرت انگیز پروپیگنڈا شاعری کے ذریعے ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دیکر معصوم ذہنوں کو دہشتگردی پر اکساتی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے بلوچوں کے حقوق کی قاتل، حکام نے کوئٹہ تفتان شاہراہ پر کنٹرول کا دعویٰ مسترد کردیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف اور ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں، جنہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا، تاہم وہ علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، ہلاک شدہ بی ایل اے عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا جبکہ بھارتی فنڈنگ کے کچھ اہم ثبوت بھی سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد اور انٹیلیجنس معلومات سے یہ اشارے ملے ہیں کہ حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، سے قریبی روابط رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہوں نے دشت کے جنگلات میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 مرتبہ ملاقات کی، جن میں سے ایک ملاقات رواں برس 14 فروری کو ہوئی تھی۔
سیکیورٹی اداروں کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بعض بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) شخصیات سے رابطوں اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے بھارتی سرپرستی میں ریاست مخالف زہریلے اور شر انگیز مواد کی تشہیر میں کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
ذرائع کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان اپنی شاعری کے ذریعے نوجوانوں کو ورغلانے اور ریاست مخالف بیانیے کو فروغ دینے پر مامور ہیں، جبکہ اس حوالے سے ملنے والے مزید شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں نے کہا ہے کہ ملک دشمن مطلوب خاتون کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں اور تفتیش کو آگے بڑھایا جا رہا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بھارتی سرپرستی بی ایل اے خاتون شاعرہ حبیبہ پیرجان رستم پیرجان