علیمہ خان کا گورکھ پور ناکے پر دھرنا 10 گھنٹے بعد ختم
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر علیمہ خان نے اپنی بہنوں اور پی ٹی آئی کارکنوں کے ساتھ راولپنڈی کے گورکھ پور ناکے پر جاری دھرنا تقریباً 10 گھنٹے بعد ختم کردیا۔
ذرائع کےمطابق پولیس کے علیمہ خان اور علامہ ناصر عباس سے مذاکرات کامیاب ہوجانے کے بعد علیمہ خان نے پولیس کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کردیا۔
نورین نیازی نے کہا کہ ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ اگلے ہفتے ملاقات کرائی جائے گی، اگر اگلے ہفتے ملاقات نہیں کرائی گئی تو احتجاج ختم نہیں کرینگے۔
بانی پی ٹی آئی کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ جب تک ملاقات نہیں کرائی جاتی ہم یہیں بیٹھے رہیں گے۔
واضح رہے کہ منگل کو علیمہ خان اپنے بھائی عمران خان سے ملاقات کیلئے اڈیالہ جیل پہنچی تو پھر انہیں ملاقات کی اجازت نہ ملی۔
علیمہ خان نے کارکنوں کے ہمراہ جیل کی طرف جانے کی کوشش کی، پولیس اور پی ٹی آئی کارکنوں کے درمیان تلخ کلامی اور دھکم پیل بھی ہوئی۔
اس موقع پر علیمہ خان عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے قریب گورکھ پور ناکے پر دھرنا دے کر بیٹھ گئی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے ملاقات کی
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔