وزیراعظم محمد شہباز شریف سے آذربائیجان کے وزیر اقتصادیات کی ملاقات;دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کاجائزہ
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
سٹی 42: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے آذربائیجان کے وزیر اقتصادیات کی ملاقات ہوئی ۔
وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور جمہوریہ آذربائیجان کے وزیر اقتصادیات میکائیل جباروف، کے درمیان آج وزیراعظم ہاؤس ، اسلام آباد میں ملاقات ہوئی ۔جمہوریہ آذربائیجان کے وزیر اقتصادیات وفد کے ہمراہ پاکستان کے سرکاری دورے پر ہیں۔ ملاقات میں دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری میں تعاون کا وسیع جائزہ لیا گیا۔ دوطرفہ تجارت میں مسلسل ترقی کو سراہتے ہوئے، دونوں فریقوں نے اقتصادی تبادلوں میں پیشرفت کے لئے کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ انہوں نے دفاعی پیداوار، پٹرولیم اور معدنیات، تعمیرات، لائیواسٹاک، سیاحت اور آئی ٹی سمیت دیگر شعبوں میں مزید تعاون کے مواقع تلاش کرنے پر بھی تبادلہ خیال کیا۔
راکھ کا بادل پاکستان آ گیا، پروازوں کو خطرہ لاحق، سرکاری الرٹ آگیا
وزیر اعظم نے پاکستان کی طرف سے پاکستان آذربائیجان مشترکہ سرمایہ کاری کمپنی کے قیام کی تجویز کا اعادہ کیا جس میں دونوں ممالک کی طرف سے مساوی شراکت داری ہو۔ انہوں نے وائٹ آئل پائپ لائن پراجیکٹ میں آذربائیجان کی دلچسپی کو بھی سراہا اور آذر بائیجان کی کمپنی SOCAR کو پاکستان میں تیل اور گیس کے شعبوں میں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی ۔
دونوں فریقوں نے علاقائی روابط کو بڑھانے کی اہمیت پر زور دیا۔ وزیر اعظم نے افغانستان اور وسطی ایشیا کے لیے مختصر ترین راستے کے طور پر پاکستان کے اسٹریٹجک محل وقوع پر روشنی ڈالی اور ٹرانس کیسپیئن انٹرنیشنل ٹریڈ کوریڈور جیسے اقدامات میں آذربائیجان کے اہم کردار کو سراہا۔
وزیراعظم نے آزر بائیجان کے صدر الہام علیوف کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ پاکستان وزیراعظم نے باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں آذربائیجان کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔
گلگت بلتستان اسمبلی تحلیل
آذربائیجان کے وزیر اقتصادیات نے دورہ پاکستان کے دوران ان کی مہمان نوازی پر حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان جاری مثبت پیشرفت تجارت، معیشت، صنعت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کے روڈ میپ 2025-2028 کو حتمی شکل دینے کا باعث بنے گی۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار ، وفاقی وزیر پاور ڈویژن سردار اویس خان لغاری ، وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران بھی موجود تھے۔
پاکستانی ٹینس سٹار اعصام الحق نے بین الاقوامی ٹینس کو الوداع کہہ دیا
__
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: آذربائیجان کے وزیر اقتصادیات سرمایہ کاری پاکستان کے
پڑھیں:
پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان میں 70 سے 80 فیصد کاروباری ادارے نئی سرمایہ کاری کے فیصلوں کو مؤخر کر رہے ہیں یا ان پر نظرثانی کر رہے ہیں۔ اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے تازہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے میں یہ بات سامنے آئی، سروے میں پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں کمی سامنے آئی ہے۔ او آئی سی سی آئی کی جانب سے 2026ء کی دوسری سہ ماہی کے دوران کیے گئے بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے کی 29ویں لہر کے نتائج جاری کرتے ہوئے انکشاف کیا گیا کہ مجموعی کاروباری اعتماد 9فیصد پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 13 فیصد رہ گیا ہے، جو اس سے قبل 28ویں لہر میں مثبت 22 فیصد تھا۔ سروے کے مطابق کاروباری اعتماد میں کمی کی بڑی وجوہات میں مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑھتی ہوئی مہنگائی، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں رکاوٹیں، پالیسی غیر یقینی اور اقتصادی نمو کے حوالے سے خدشات شامل ہیں۔
کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نے سرمایہ کاری کے فیصلوں، پیداواری لاگت، خام مال کی دستیابی اور مستقبل کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے۔ شعبہ جاتی بنیادوں پر خدمات کے شعبے میں سب سے زیادہ کمی دیکھی گئی، جہاں اعتماد 20 پوائنٹس گر کر مثبت 14 فیصد رہ گیا۔ مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی 7 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ریٹیل سیکٹر واحد شعبہ رہا جہاں کاروباری اعتماد میں 3 پوائنٹس بہتری آئی اور یہ مثبت 20 فیصد تک پہنچ گیا۔ سرمایہ کاری کے رجحانات میں بھی نمایاں کمزوری سامنے آئی ہے۔ نیو انویسٹمنٹ انڈیکس 10 پوائنٹس کمی کے بعد صرف مثبت 2 فیصد رہ گیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کاروباری ادارے موجودہ غیر یقینی صورتحال میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کر رہے ہیں۔ سروے کے مطابق بیشتر ادارے متاثرہ تجارتی راستوں پر انحصار کم کرنے، سپلائی چین کو متنوع بنانے اور آپریشنل خطرات کم کرنے پر توجہ دے رہے ہیں۔
سروے کے مطابق عالمی کاروباری صورتحال کا اشاریہ بھی 31 پوائنٹس تک گر گیا ہے، جبکہ تمام شعبوں سے وابستہ کاروباری اداروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ موجودہ تعطل چھ ماہ سے زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ آئندہ چھ ماہ کے حوالے سے 34 فیصد جواب دہندگان نے معاشی حالات مزید خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا، جبکہ گزشتہ سروے میں یہ شرح 22 فیصد تھی۔ کاروباری اداروں نے سیاسی عدم استحکام، ایندھن کی قیمتوں، مہنگائی، بلند ٹیکسز، کرنسی کے اتار چڑھاؤ اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کو بڑے خطرات قرار دیا۔ ساختی خطرات کے حوالے سے 84 فیصد جواب دہندگان نے بڑھتی ہوئی مہنگائی کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، 79 فیصد نے زیادہ ٹیکسز پر تشویش ظاہر کی، جبکہ 61 فیصد نے کرنسی کے عدم استحکام اور حکومتی پالیسیوں میں تسلسل کے فقدان کو کاروباری ترقی کیلئے اہم رکاوٹ قرار دیا۔
او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں، جو ملک میں بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں کی نمائندگی کرتی ہیں، کے درمیان کاروباری اعتماد نسبتاً بہتر رہا اور معمولی اضافے کے ساتھ مثبت 28 فیصد تک پہنچ گیا۔ بڑے شہروں میں کاروباری اعتماد 12 پوائنٹس کمی کے بعد مثبت 11فیصد رہا، جبکہ پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، سیالکوٹ اور سکھر سمیت دیگر شہروں میں 3 پوائنٹس بہتری کے بعد اعتماد مثبت 22 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ سروے میں یہ بھی سامنے آیا کہ قلیل مدتی معاشی دباؤ کے باوجود کئی ادارے جنریٹو آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے استعمال میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ خصوصاً او آئی سی سی آئی کی رکن کمپنیوں نے ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز، بنیادی کاروباری عمل اور افرادی قوت کی تربیت میں مصنوعی ذہانت کو شامل کرنے کے حوالے سے زیادہ تیاری ظاہر کی ہے۔ واضح رہے کہ او آئی سی سی آئی کا بزنس کانفیڈنس انڈیکس سروے سال میں دو مرتبہ کیا جاتا ہے، جس میں شامل شرکاء پاکستان کی جی ڈی پی کے تقریباً 80 فیصد کی نمائندگی کرتے ہیں۔