وزیراعظم شہباز شریف کل 2روزہ دورے پربحرین جائیں گے
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: وزیر اعظم شہبازشریف خلیجی ملک بحرین کے دورہ پر کل روانہ ہوں گے۔
وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف خلیجی ملک بحرین کے ساتھ تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے مقصد سے 26 سے 27 نومبر تک بحرین کا دورہ کریں گے۔
دفتر خار جہ کے مطابق توقع ہے کہ یہ دورہ روایتی طور پر گرمجوش اور دوستانہ تعلقات کو تقویت دے گا، شراکت داری کے نئے راستوں کی نشاندہی کرے گا، اور عوامی سطح پر تعلقات کو مزید گہرا کرے گا، جو باہمی طور پر فائدہ مند تعاون میں معاون ثابت ہو گا۔
وزیر اعظم شہباز شریف کا یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان ‘دیرینہ اور کثیر الجہتی تعلقات’ کی توثیق کرتا ہے۔ شہباز شریف بحرین کی قیادت کے ساتھ اعلیٰ سطحی ملاقاتیں کریں گے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، ٹیکنالوجی، تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید فروغ دیا جا سکے۔
میاں شہبازشریف کے ہمراہ ایک اعلیٰ سطح کے وفد بھی ہو گا، جس میں نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور سینئر افسران شامل ہوں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: شہباز شریف
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔