سانحہ ملک پور میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع افسوناک ہے
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
فیصل آباد(وقائع نگارخصوصی)جماعت اسلامی کے راہنمائوںپروفیسرمحبوب الزماںبٹ ، میاںانوارلحق ایڈووکیٹ ، میاں طاہر ایوب ، شیخ افضال شاہین نے سانحہ ملک پور میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع کو انتہائی افسوسناک اور دل خراش قرار دیتے ہوئے اسے حکومتی نااہلی، انتظامی کمزوری اورمجرمانہ غفلت کا منہ بولتا ثبوت قراردیا ہے۔ حکومت اس سانحے کی شفاف تحقیقات کر کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لائیں اور متاثرہ خاندانوں کو فوری انصاف اور امداد فراہم کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ رہائشی علاقوں کے اندر کیمیکل فیکٹریوں کا قائم ہونا اور مناسب حفاظتی اقدامات کا نہ ہونا کھلی مجرمانہ غفلت ہے۔ اگر ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کرتے تو یہ جانی نقصان نہ ہوتا۔ عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے جسے مسلسل نظرانداز کیا جارہا ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ہنگامی اقدامات، مؤثر نگرانی اور عملی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ متاثرہ خاندانوں کے زخم صرف بیان بازی سے نہیں بھر سکتے، ان کے لیے عملی ریلیف اور ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔ امید ہے کہ اس سانحے کو ایک اور فائل کا حصہ بنانے کے بجائے اسے نظام کی اصلاح کا نقطہ آغاز بنایا جائے گا۔ انہوںنے کہاکہ ضروری ہے کہ حکومت اس سانحے کو محض حادثہ قرار دے کر اپنی ذمہ داری سے نہ بچ نکلے بلکہ پیشگی انتظامات اور حفاظتی نظام میں عملی بہتری لائی جائے۔صنعتی اداروں میں سیفٹی آڈٹ، فائر سسٹم اور ایمرجنسی پلان کو لازمی قرار دیا جائے۔ عوام ایک مؤثر، سنجیدہ اور دیرپا حکومتی ردعمل کے منتظر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں اور ہم ان کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
ممبر گلگت بلتستان اسمبلی نے ایک بیان میں کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔ اسلام ٹائمز۔ سابق اپوزیشن لیڈر و ممبر گلگت بلتستان اسمبلی کاظم میثم نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ پورے گلگت بلتستان میں طوفانی سیلاب اور دریائی کٹاو سے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں، وفاقی اور صوبائی حکومت کو فوری اقدامات اٹھاتے ہوئے ریلیف اور بحالی کے لیے کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ سکردو میں دریائی کٹاو کے سبب سترانگلونگما کواردو اور حوطو رنگاہ کے عوام شدید مشکلات کے شکار ہیں۔ زرعی اراضی اور درخت دریا برد ہو رہے ہیں لیکن تاحال کوئی ہنگامی بنیادوں پر بحالی کے لیے کوئی کام نہیں ہوا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور جی بی ڈی ایم اے کو کواردو حوطو رنگاہ اور رزسنا رنگاہ کے دریائی کٹاو روکنے کے لیے فوری اقدامات اٹھانا چاہیے۔ گزشتہ مہینے آنے والے شگریخورد میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے بھی تاحال اقدامات نہیں اٹھائے گئے ہیں۔ جس کے سبب عوام میں شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ کاظم میثم نے مزید کہا کہ طوفانی سیلاب کے سبب تقریبا تمام اضلاع میں تباہ کاریاں ہوئی ہیں اور شاہراہوں کی بندش کے سبب بھی مشکلات کے شکار ہیں۔ صوبائی اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں اور متاثرین سیلاب کو ریلیف دینے اور بحالی کے لیے جامع منصوبہ بندی کے ساتھ اقدامات اٹھائیں۔