محکمہ موسمیات نے بلوچستان کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کے رہائشیوں کے لیے خوشخبری سنادی۔

محکمہ موسمیات کے مطابق دسمبر میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارشیں متوقع ہیں۔

مغربی ہواؤں کا طاقتور سلسلہ 6 سے 10 دسمبر کے دوران بلوچستان میں داخل ہوگا، جس کے بعد بارشوں کا پہلا بھرپور اور طویل مرحلہ شروع ہو جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان شدید خشک سالی کے خطرے سے دوچار، ماحولیاتی تبدیلی اور کم بارشیں بڑا چیلنج

توقع ہے کہ یہ سلسلہ پورے مہینے وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔

ماہرین نے بتایا کہ بارش سے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، کوہلو، سبی، لسبیلہ، آواران، کیچ اور گوادرکے علاقے مستفید ہوں گے۔

دوسری جانب پنجگور، خضدار، قلعہ سیف اللہ، چاغی، نوشکی، واشک اور مستونگ جیسے قحط زدہ اضلاع میں زمین اور زیر زمین پانی کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئے گی۔

مزید پڑھیں: 62 فیصد تک معمول سے کم بارشیں، ملک میں خشک سالی کا الرٹ جاری

بعض علاقوں میں موسلا دھار بارش اور گرج چمک کے ساتھ طوفانی بارش کا امکان ہے، جبکہ بلند پہاڑی علاقوں میں برف باری کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے۔

ماہرین نے کہا کہ شمال مغربی ہوائیں اس سال معمول سے زیادہ فعال ہیں اور سمندر سے آنے والی نمی بلوچستان کی جانب مسلسل بڑھ رہی ہے۔

ان موسمی عوامل کی بدولت بارشوں کا یہ سلسلہ نہ صرف طویل ہوگا بلکہ ڈیموں اور زیر زمین پانی کے ذخائر میں اضافے کا سبب بھی بنے گا۔

مزید پڑھیں:سائبیریائی ہوائیں کب پاکستان پہنچیں گی، موسم سرما کو کتنا طویل بنائیں گی؟

بلوچستان میں خشک سے نیم خشک موسم پایا جاتا ہے، جہاں بارش کا تعین بہت غیر یقینی اور درجہ حرارت میں شدید اتار چڑھاؤ ہوتا ہے اور خشک دنوں کی تعداد طویل ہوتی ہے۔

صوبے کے جنوب مغربی اور جنوبی حصے خاص طور پر خشک ہیں اور وہاں گرمیوں کی مون سون بارش کا اثر کم ہوتا ہے۔

بلوچستان کے مغربی اور جنوب مغربی اضلاع میں بنیادی بارشیں سردیوں کے موسم میں ہوتی ہیں، اور سالانہ اوسط بارش 71 سے 231 ملی میٹر کے درمیان ہوتی ہے۔

مئی تا اکتوبر 2025 کے دوران، ان علاقوں میں معمول سے تقریباً 79 فیصد کم ریکارڈ کی گئی ہے اور مسلسل خشک دنوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بارش برف باری بلوچستان پانی خشک سالی ذخائر ژوب قحط زدہ گرج چمک گوادر لسبیلہ محکمہ موسمیات مستونگ موسلا دھار.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان پانی خشک سالی ژوب گوادر لسبیلہ محکمہ موسمیات مستونگ موسلا دھار خشک سالی

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
  • فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
  • بلوچستان کے مختلف علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کا آپریشن، 17دہشتگرد ہلاک
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • صومالی بحری قزاقوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کے اغوا کا معاملہ، متاثرہ خاندان کا موقف سامنے آگیا
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • واپڈا صارفین کے لیے خوشخبری، جون میں 20 پیسے فی یونٹ ریلیف برقرار