آصف علی زرداری وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے ناراض، ملاقات سے انکار
اشاعت کی تاریخ: 25th, November 2025 GMT
بلوچستان کی ٹھنڈی فضاؤں میں ایک بار پھر سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے۔ صوبے کے سیاسی ایوانوں میں یہ بحث زور پکڑ چکی ہے کہ آیا وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی واقعی اپنی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت خصوصاً صدر مملکت آصف علی زرداری کی ناراضگی کا شکار ہیں یا نہیں؟ اس سوال نے صوبے میں جاری سیاسی کھینچا تانی کو مزید شدت دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی پی پی اراکین کا وزیر اعلیٰ بلوچستان پر عدم اعتماد کا اظہار؟
گزشتہ ہفتے مسلم لیگ ن کے رہنما اور سینیٹر دوستین ڈومکی نے اپنے ایک بیان میں تہلکہ مچا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں خراب طرز حکمرانی اور انتظامی کمزوریوں کے باعث میر سرفراز بگٹی کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔
دوستین ڈومکی نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے درمیان موجود ڈھائی، ڈھائی سال کے فارمولے کے تحت پیپلز پارٹی کے اقتدار کا دورانیہ مکمل ہونے کے بعد وزارت اعلیٰ کے لیے نیا نام زیر غور ہے۔ ان کے اس بیان نے سیاسی حلقوں میں شدید ہلچل پیدا کی اور ایک نئی بحث نے جنم لیا۔
صورتحال یہیں نہیں رکی بلکہ پیپلز پارٹی کے اپنے رہنما، مشیر لیاقت لہڑی اور رکن صوبائی اسمبلی علی حسن زہری بھی متعدد مرتبہ وزیر اعلیٰ بلوچستان سے اپنے تحفظات اور ناراضی کا اظہار کر چکے ہیں
پارٹی کے اندرونی اختلافات کے یہ شعلے بظاہر دبے ہوئے تھے لیکن ڈومکی کے بیان نے انہیں مزید بھڑکا دیا۔
مزید پڑھیے: بلوچستان کی مخلوط حکومت میں اختلافات، سرفراز بگٹی کی وزارت اعلیٰ خطرے میں؟
وی نیوز سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی بلوچستان کے معتبر ذرائع نے انکشاف کیا کہ پارٹی کے صدر آصف علی زرداری واقعی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی کارکردگی سے خوش نہیں ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ کچھ روز قبل وزیر اعلیٰ بگٹی نے صدر زرداری سے ملاقات کرنے کی کوشش کی تاہم صدر نے ملاقات کا وقت دینے سے انکار کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا موقع نہیں بلکہ اس قبل بھی میر سرفراز بگٹی اسلام آباد میں صدر مملکت سے ملاقات کے لیے گئے تھے لیکن انہیں وہاں بھی ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔
ذرائع کے مطابق یہ مسلسل انکار کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ بلوچستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور پارٹی کے اندرونی معاملات پر سرفراز بگٹی کی عدم دلچسپی اس کی بنیادی وجہ ہے۔
پارٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ صدر آصف علی زرداری کا سمجھتے ہیں کہ بلوچستان صوبے جیسی حساس سیاسی فضا میں وزارت اعلیٰ پر کسی اصل جیالے کو ہونا چاہیے نہ کہ ایک ایسے رہنما کو جو چند سال قبل پیپلز پارٹی میں شامل ہوا ہو۔
مزید پڑھیں: بلوچستان میں تبدیلی کی ہوا، سرفراز بگٹی کتنے مضبوط ہیں؟
اطلاعات کے مطابق کچھ حکومتی ایم پی ایز بھی وزیر اعلیٰ سے ناخوش ہیں اور پارٹی کے کئی حلقے ان کی سیاسی حکمت عملی، بیوروکریسی پر گرفت اور اندرونی مشاورت کے فقدان پر سخت تحفظات رکھتے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اب تک کم از کم 3 ارکان اسمبلی وزیر اعلیٰ کے خلاف کھل کر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں جبکہ مستقبل میں ناراضی کی یہ فہرست مزید طول پکڑ سکتی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے اندرونی اختلافات معمول کی بات سمجھے جاتے ہیں مگر بلوچستان کا معاملہ مختلف ہے۔ یہاں ہر سیاسی فیصلہ صوبے کی حساس قومی، قبائلی اور سیکیورٹی صورتحال سے جڑا ہوتا ہے۔
میر سرفراز بگٹی اگرچہ ایک مضبوط سیکیورٹی بیانیہ رکھتے ہیں اور اپنی انتظامی سختی کے باعث خاص پہچان بھی بنائی ہے تاہم پارٹی کے روایتی دھڑوں اور زرداری گروپ کے ساتھ ان کے تعلقات ہمیشہ سے پیچیدہ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: صوبے کا 200 ارب کا ترقیاتی بجٹ ناکافی ہے، وزیراعلیٰ بلوچستان
سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق سرفراز بگٹی پر زرداری کی ناراضی اگر حقیقت ہے تو یہ محض انتظامی کارکردگی کا معاملہ نہیں بلکہ ایک بڑی اندرونی کشمکش کا حصہ ہے۔
زرداری پارٹی کے پرانے جیالوں کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش میں ہیں جبکہ بگٹی پیپلز پارٹی کے لیے ایک نیا مگر غیر روایتی سیاسی چہرہ ہیں۔
ادھر مسلم لیگ ن کے رہنما دوستین ڈومکی کا بیان اس امکان کو مزید تقویت دیتا ہے کہ مرکز اور صوبہ دونوں سطحوں پر کسی نہ کسی سیاسی جوڑ توڑ کی تیاری ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں: پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد بڑھانا ہوگی، وزیر اعظم نے خبردار کردیا
فی الحال صورتحال واضح نہیں مگر ایک بات طے ہے کہ بلوچستان میں وزیر اعلیٰ کی کرسی ایک بار پھر سیاسی طوفان کے مرکز میں ہے اور آئندہ چند ہفتے اس صوبے کی سیاست میں غیر معمولی موڑ لا سکتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بلوچستان بلوچستان کی وزارت عالیہ زردای سرفراز بگٹی سے ناراض صدر مملکت آصف علی زرداری وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بلوچستان بلوچستان کی وزارت عالیہ زردای سرفراز بگٹی سے ناراض صدر مملکت ا صف علی زرداری وزیراعلی بلوچستان میر سرفراز بگٹی
پڑھیں:
نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو گزشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، نہ صرف اندرون وطن بلکہ مشرقی و مغربی سرحدوں پر بھی پاکستان کے استحکام، سلامتی، خودمختاری اور آزادی کو سبوتاژ کرنے اور امن و امان کو تہہ و بالا کرنے کے لیے سازشی عناصر سرگرم عمل ہیں۔
پڑوسی ملک بھارت کی پراکسی جنگ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی بعینہ ہمسایہ ملک افغانستان جس کے ساتھ ہمارے دیرینہ، تاریخی، سماجی، مذہبی اور ثقافتی رشتے بڑے گہرے اور مضبوط رہے ہیں آج کل وطن عزیز کے خلاف سازشوں اور دہشت گردی میں بھارت کی سہولت کاری کرکے خطے کے امن کو نقصان پہنچانے میں پیش نظر آ رہا ہے، اگرچہ کراچی سے لے کر خیبر تک دہشت گرد عناصر وقفے وقفے سے اپنی مذموم کارروائی میں مصروف ہیں، تاہم پاکستان کے دو اہم صوبے خیبر پختونخوا اور بلوچستان کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں نے خاص نشانہ بنا رکھا ہے۔
گزشتہ دو تین ہفتوں کے دوران خیبرپختونخوا میں پولیس اہلکاروں کو بہ طور خاص دہشت گردوں نے نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ دہشت گرد کبھی تھانوں پر حملہ کرتے ہیں، کبھی چیک پوسٹوں پر اور کبھی گشت کرتی موبائل گاڑیوں پر گھات لگا کر حملہ آور ہوتے ہیں۔ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی پولیس، فرنٹیئر کانسٹیبلری اور پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد باقاعدہ منصوبہ بندی سے نشانہ بنا کر اپنا ہدف حاصل کرتے اور اس کی ذمے داری قبول بھی کرتے ہیں۔
گزشتہ دو ہفتوں کے خون آشام واقعات کے بعد شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے لواحقین نے سخت احتجاج کرتے ہوئے دھرنا دے رکھا ہے۔ زیارت شہدا لواحقین کے دھرنا شرکا سے حکومتی مذاکرات کے بعد دھرنا ختم کر دیا گیا اور لاشوں کی نماز جنازہ کے بعد تدفین کر دی گئی، اگرچہ حکومت نے شہدا کے لواحقین کے لیے مالی امداد کے اعلانات کیے ہیں لیکن مالی امداد ہمیشہ کے لیے بچھڑ جانے والے پیاروں کا نعم البدل نہیں ہو سکتی ، ہرگز نہیں۔ ان کی دائمی جدائی کے زخم کبھی بھر نہیں سکتے۔ شہادت کا یہ سلسلہ آخر کہاں جا کر ختم ہوگا؟
پاک فوج نے کے پی اور بلوچستان کے حالیہ لہو رنگ واقعات کے بعد ’’آپریشن شعبان‘‘ کا آغاز کیا جس میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج برق رفتاری سے کارروائیاں کر رہی ہے۔ اس آپریشن میں بلوچستان پولیس اور ایف سی بھی حصہ لے رہی ہے۔ اس آپریشن کا آغاز 5 جولائی کو کیا گیا جو انٹیلی جنس بیسڈ دہشت گردی آپریشن ہے اور تادم تحریر جاری ہے۔ کہا گیا ہے کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک ’’آپریشن شعبان‘‘ جاری رہے گا جس کا مقصد دہشت گردوں کا جڑ سے صفایا کرنا ہے۔ پوری قوم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی پشت پر پوری یکجہتی اور قوت کے ساتھ کھڑی ہے۔ بعینہ ملکی دفاع، سلامتی اور قیام امن کے لیے جان قربان کرنے والے پولیس اہلکاروں، ایف سی اور پاک فوج کے بہادر سپوتوں کی شہادت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
بلوچستان اور کے پی میں ماضی قریب و بعید میں بھی متعدد فوجی آپریشن کیے گئے جن میں دہشت گردوں کے خلاف پاک فوج کو نمایاں کامیابیاں ملیں۔ 2009 میں آپریشن راہ نجات کا آغاز کیا گیا جس میں سوات اور مالاکنڈ میں طالبان کے خلاف کارروائیاں کی گئیں۔ جنوبی وزیر ستان میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن راہ نجات میں ان کے اہم ٹھکانوں کو تباہ کیا گیا۔ اسی طرح 2014 میں شمالی وزیرستان میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا گیا جس کا مقصد ملکی و غیر ملکی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو ختم کرنا تھا۔ 2017 میں آپریشن ردالفساد کے ذریعے دہشت گردوں کے خفیہ سلیپر سیلز اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف انٹیلی جنس کارروائیاں کی گئیں۔
بلوچستان اور کے پی کے دو دہائیوں سے بدامنی کی لپیٹ میں ہیں۔ متعدد فوجی آپریشنز کے باوجود دونوں صوبوں بالخصوص بلوچستان میں آج بھی دہشت گرد عناصر بیرونی آقاؤں اور اندرونی سہولت کاروں کے ذریعے امن کو تہہ و بالا کر رہے ہیں۔ ہمیں دہشت گردی کی ان جڑوں کو تلاش کرنا ہوگا جو معاشرتی و سماجی سطح پر راسخ ہو چکی ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑی ہے، قومی سلامتی صرف عسکری پہلو تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کے سماجی اور معاشی پہلو بھی اہم ہیں۔ یہ باریک نکتہ ہے جسے سمجھنے اور گتھی کو سلجھانے کی ضرورت ہے۔ یہاں سیاسی قیادت کا امتحان شروع ہوتا ہے کہ وہ بلوچستان کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے اپنا قائدانہ کردار ادا کریں۔ بلاول بھٹو سے لے کر وزیر اعظم شہباز شریف تک اور اپوزیشن سے بلوچستان کی سیاسی قیادت تک سب کو سر جوڑ کر اور مل بیٹھ کر بلوچستان کے سیاسی، سماجی و معاشی مسائل اور محرومیوں کا حل تلاش کرنا ہوگا۔