امریکی ویزا مسترد ہونے کی وجہ سے خاتون ڈاکٹر نے خودکشی کر لی
اشاعت کی تاریخ: 24th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
بھارتی ریاست آندھرا پردیش کے ضلع گنٹر میں 38 سالہ خاتون ڈاکٹر نے مبینہ طور پر امریکی ویزا مسترد ہونے پر خودکشی کر لی۔
بھارتی میڈیا کے مطابق پولیس نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ڈاکٹر روہنی کی موت اس وقت سامنے آئی جب ان کے گھر والوں نے دروازہ کھٹکھٹایا لیکن کوئی جواب نہ ملا۔ اہلِ خانہ نے دروازہ توڑا تو وہ انہیں مردہ حالت میں ملیں۔
رپورٹس کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں پولیس کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر نے جمعہ کی رات ممکنہ طور پر زیادہ مقدار میں نیند کی گولیاں لیں یا انجیکشن لگا کر جان لینے کی کوشش کی، تاہم حتمی وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔
پولیس نے بتایا کہ گھر سے ایک مبینہ خودکشی نوٹ بھی ملا ہے جس میں انہوں نے ڈپریشن اور امریکی ویزا مسترد ہونے کا ذکر کیا ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد لاش ورثا کے حوالے کر دی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔