بلوچستان کے خشک سالی سے متاثرہ علاقوں میں بارش کی پیشگوئی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
کوئٹہ:
محکمہ موسمیات بلوچستان نے صوبے کے طویل عرصے سے قحط اور خشک سالی کے شکار علاقوں کے لیے بڑی خوشخبری سنائی ہے اور پیش گوئی کی ہے کہ دسمبر میں گرج چمک کے ساتھ شدید بارش ہوگی۔
محکمہ موسمیات کے حکام کے مطابق مغربی ہواؤں کے ایک طاقت ور سلسلے کے زیر اثر دسمبر کے دوسرے ہفتے (6سے10 دسمبر) سے بارشوں کا پہلا خوبصورت اور طویل مرحلہ شروع ہوگا جو وقفے وقفے سے پورے مہینے جاری رہنے کا امکان ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس بارش کے سلسلے سے ژوب، شیرانی، موسیٰ خیل، بارکھان، کوہلو، سبی، لسبیلہ، آواران، کیچ، گوادر، پنجگور، خضدار، قلعہ سیف اللہ، چاغی، نوشکی، واشک اور مستونگ سمیت صوبے کے بیشتر قحط زدہ اضلاع کو سیراب کرنے کی قوی توقع ہے۔
حکام کا کہنا تھا کہ بعض مقامات پر گرج چمک کے ساتھ موسلا دھار بارش، بالائی علاقوں میں برف باری کا بھی امکان ہے۔
ماہرین کے مطابق اس برس شمال مغربی ہوائیں معمول سے زیادہ فعال ہیں اور عرب سمندر سے نمی بھی مسلسل بلوچستان کی طرف آرہی ہے، جس کی وجہ سے بارشوں کا سلسلہ نہ صرف طویل بلکہ مفید بھی ثابت ہوگا، ڈیموں اور زیر زمین پانی کی سطح میں بہتری کی بھی امید ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیشگوئی پر عوام نے خوشی کا اظہار کیا، خشک سالی سے متاثرہ کسانوں، چرواہوں اور دیہی آبادیوں نے مساجد میں شکرانے کے نفل ادا کیے اور دعائیں کی کہ اللہ پاک زمین کو سیراب فرمائے اور ہر سو ہریالی ہو۔
محکمہ موسمیات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ بارشوں کے دوران احتیاطی تدابیر اختیار کریں، خاص طور پر ندی نالوں کے قریب رہائش پذیر شہری ہوشیار رہیں کیونکہ طغیانی کا خطرہ بھی موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات
پڑھیں:
موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
لاہور میں رات گئے شروع ہونے والی موسلادھار بارش کے بعد اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی، جس کے باعث متعدد رہائشی علاقوں اور اہم شاہراہوں پر کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا جبکہ نشیبی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے، ٹریفک جام اور سیوریج نظام مفلوج ہونے سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔شہر میں رات گئے شروع ہونے والی بارش وقفے وقفے سے جاری ہے، جس کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ کینٹ، ڈیفنس اور والٹن سمیت متعدد علاقوں میں سڑکیں تالاب کا منظر پیش کرنے لگیں جبکہ کئی مقامات پر گھروں میں بھی پانی داخل ہوگیا۔لاہور کینٹ میں موسلادھار بارش کے باعث سیوریج سسٹم جواب دے گیا، جس سے علی ویو گارڈنز، علی پارک، نادرا آباد اور دیگر علاقوں میں کئی کئی فٹ پانی جمع ہوگیا۔ مقامی افراد کے مطابق بیشتر علاقے ندی نالوں کا منظر پیش کر رہے ہیں۔دوسری جانب ڈیفنس فیز تھری کے اے، بی اور سی بلاکس میں بھی بارش کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا جبکہ والٹن روڈ اور کیولری گراؤنڈ میں سڑکیں مکمل طور پر زیر آب آگئیں۔ کیولری گراؤنڈ کی مرکزی شاہراہ بھی پانی میں ڈوب گئی، جس کے باعث آمدورفت شدید متاثر رہی۔بارش کے بعد مین ڈیفنس روڈ پر بھی پانی جمع ہونے سے سڑک دریا کا منظر پیش کرنے لگی جبکہ ڈیفنس انڈر پاس بھی پانی سے بھر گیا۔ شہر کے مختلف حصوں میں پانی کھڑا ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی شدید متاثر ہوئی، گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور شہریوں کو گھنٹوں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔مسلسل بارش کے باعث لاہور کی بیشتر شاہراہیں جل تھل ہوگئیں جبکہ روزمرہ زندگی بری طرح متاثر رہی۔ شہریوں نے متعلقہ اداروں سے نکاسی آب کے مؤثر انتظامات اور فوری ریلیف فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق آج دن پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری رہے گا، مون سون کی بارشوں کے باعث لاہور میں حبس اور گرمی کی شدت میں کمی آگئی ہے۔لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 27 ڈگری سینٹی گریڈ جبکہ زیادہ سے زیادہ 29 ڈگری سینٹی گریڈ تک جانے کا امکان ہے۔لاہور میں سب سے زیادہ بارش ایئرپورٹ پر 262 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مناواں میں 200، تاجپور میں 151، کاہنہ میں 142، شادی پورہ میں 129 اور مغل پورہ میں 127 اور اپر مال پر 111 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔جوہر ٹاؤن میں 80، چوک ناخدا میں 60، نشتر ٹاؤن میں 54، اقبال ٹاؤن میں 51، گلبرگ میں 49، ڈیفنس روڈ 45، سمن آباد میں 29، جیل روڈ اور پانی والا تالاب 26، لکشمی چوک اور فرخ آباد میں 24، سگیاں میں 21 اور گلشن راوی میں 17 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ایم ڈی واسا لاہور غفران احمد نکاسی آب آپریشن کی مسلسل مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید بارش کا سلسلہ جاری ہے جس کے سبب اندرون اور بیرون ملک جانے اور آنے والی پروازیں متاثر ہوگئیں۔لاہور سے کراچی، دبئی، جدہ، ابو ظہبی، استنبول جانے اور آنے والی 6 پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔ شدید بارش سے پروازوں کی آمد و رفت میں تاخیر ہوئی۔ایئرپورٹ حکام نے مسافروں کو اپنی پروازوں کے بارے میں معلومات لیکر آنے کی ہدایت کی ہے۔