Express News:
2026-06-02@22:45:52 GMT

ایران میں خشک سالی

اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT

چند دن پہلے ایران کے صدر نے یہ اعلان کر کے کہ اگر آیندہ دو ہفتے تک اگر بارشیں نہ ہوئیں تو صدیوں سے آباد ایران کے دارالحکومت تہران کے باسیوں کو نقل مکانی کرنا پڑ جائے گی۔

یوں تو ایران میں گزشتہ 20 سال سے بارشیں کم ہونے کی وجہ سے عام آدمی کی زندگی مشکلات کا شکارچلی آرہی ہے لیکن اب صورتحال بحران کی شکل اختیار کر گئی ہے۔

ایران کا دارالحکومت تہران، محض ایک شہر ہی نہیں بلکہ ایران کی تاریخی، تہذیبی اور ثقافتی علامت بھی ہے۔ تازہ رپورٹوں کے مطابق رواں برس بارشوں میں غیر معمولی کمی نے پورے ایران کو ایسی سخت صورتحال سے دو چار کر دیا ہے کہ ماہرین کھل کر اعتراف کرنے لگے ہیں: اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو تہران چند سالوں میں پانی سے تقریباً محروم ہوسکتا ہے۔


تہران 900 سالہ تاریخ کا امین اور ایران کا دل ہے۔ایک کروڑ سے زائد آبادی، قدیم بازار، قاچار دور کے محلات، اسلامی فنون کا امین، ایران کی تہذیب و علم کا مرکز ہی نہیں بلکہ اس خطے کی سیاست کے اعصابی نظام کا مرکز بھی ہیں۔

یہ شہر ایران کی شناخت بھی ہے اور اس کا مستقل بھی ہے۔ آبی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ایران میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں، ڈیموں میں پانی 20 سے 30 فیصد تک رہ گیا ہے، جب کہ بارشوں اور برفباری میں نمایاں کمی نے آیندہ سالوں کا منظرنامہ مزید خوفناک بنا دیاہے۔

ایران میں بگڑتی ہوئی آبی صورتحال ہمارے لیے بھی ایک سنگین وارننگ ہیں۔ ایران میں خشک سالی اب مستقل صورت اختیار کرتی جا رہی۔موسمیاتی تبدیلی شدید تر ہو رہی ہے، اور دریاؤں کے بہاؤ میں کمی پورے خطے کو متاثر کر رہی ہے۔

اگر آج تہران پانی مانگ رہا ہے تو کل کراچی،حیدرابادسکھر،ملتان، بہاولپور، لاہور، فیصل آباد اور اسلام آباد بھی اسی قطار میں کھڑے نظر آ سکتے ہیں۔ یہ مسئلہ صرف ایران کا نہیں، خطے کا ہے،اور ممکن ہے یہ صورتحال اس خطے میں نئے ’’واٹر امیگریشن کرائسس‘‘ تک جا پہنچے۔

تصور تو کیجیے کہ تہران جو صدیوں سے تہذیب، شاعری، تاریخ، سیاست اور دانش کا مرکز رہا ہے، اب پانی کی چند بوندوں کا محتاج ہو جائے گا؟ کیا وہ گلیاں جہاں فردوسی، سعدی، حافظ اور رومی کی خوشبو محسوس ہوتی ہے، آنے والے برسوں میں خشک اور سنسان ہو جائیں گی۔

اگر ہم اپنے خطے کو پانی کی بحران اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچانا چاہتے ہیں تو پاکستان، ایران ، افغانستان اور بھارت کے درمیان مشترکہ’’ واٹر ڈائیلاگ‘‘ بھی ناگزیر ہو چکا ہے۔ خطرے کا ناقوس بج چکا ہے۔

تہران کا زیرزمین کم ہوتا ہوا پانی دراصل خطے کی اجتماعی شکست کی طرف پہلا قدم ہے۔ وقت کم ہے، خطرہ بڑا ہے، اور اگر اب بھی غفلت جاری رہی تو آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب تہران پیاسا ہوگیا تھا تو خطے کے رہنماؤں نے آنکھیں کیوں بند کیے رکھیں۔

ایران کی خشک سالی ہمارے لیے بھی ایک کھلی وارننگ ہے۔ پاکستان میں پہلے ہی فی کس پانی کی دستیابی خطرناک حد تک کم ہو چکی ہے۔کراچی، تھرپارکر اور بلوچستان کے کئی علاقے خشک سالی کا شکار چلے آرہے ہیں۔

پاکستان کو ’’واٹر اسٹریسڈ‘‘ ملک سے ’’واٹر اسکارسٹی‘‘ کے مرحلے میں داخل ہونے کی وارننگ بارہا دی جا چکی ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے میں ہم پہلے ہی بہت دیر کر چکے ہیں۔اب زبانی جمع خرچ اور پلاننگ کا راگ الاپنے سے کام نہیں چلے گا بلکہ ہمیں عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

اگر ہم نے پانی کے نئے ذخائر بنانے، پانی کے ضیاع کو روکنے، بارانی نظام کو اپ گریڈ کرنے، اور شہری سطح پر واٹر مینجمنٹ کو بہتر نہ بنایا تو کل ہمارے شہر بھی تہران کی طرح پانی کے بحران کا سامنا کر رہے ہوں گے۔

تہران کا الارم دراصل پورے خطے کے لیے الارم ہے۔ یہ الارم ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے کہ پانی کی کمی کا مسئلہ ابھی صرف امتحان ہے،لیکن اگر ہم نے اپنی آنکھیں اور دماغ بند رکھا تو کچھ عرصے بعد یہ امتحان بحران بن جائے جائے گا۔

پانی کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی سے پیدا ہونے والا بحران نہ تو بیان بازی سے حل ہوتا ہے نہ ہیکاغذی منصوبے بنانے سے۔ موسمیاتی تبدیلی اورآبی وسائل مینجمنٹ قوم کی اجتماعی دانش اور حقیقت پسندی سے ہی ممکن ہے۔

تاریخ اقوام عالم کا مطالعہ بتاتا ہے کہ سلطنتیں، تہذیبیں اور سپر پاور کتنی ہی طاقت حاصل کیوں نہ کر لیں لیکن اگر ان کے پاس پینے کا پانی اور زرعی اراضی کے آبپاشی کا نظام نہیں ہیں تو پھر تمام تر ترقی مٹی بن جاتی ہے۔
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ایران میں ایران کی خشک سالی پانی کے پانی کی

پڑھیں:

امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے خاتمے سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ یہ اطلاعات درست نہیں ہیں کہ ایران اور امریکا نے چند روز قبل ایک دوسرے سے بات چیت بند کردی ہے۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور گفتگو کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، اور آج بھی بات چیت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ ان مذاکرات کا انجام کیا ہوگا، اس حوالے سے کوئی کچھ نہیں جانتا، تاہم ایران کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت ایک معاہدہ کیا جائے۔

صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران گزشتہ 47 برس سے اسی طرز پر معاملات چلا رہا ہے اور یہ صورتحال مزید جاری نہیں رہ سکتی۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی بدستور برقرار ہے، اور پاکستان دونوں ممالک میں معاہدہ کرانے کے لیے بھرپور سفارتکاری کررہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews امریکا ایران مذاکرات امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ معاہدہ وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا