Islam Times:
2026-06-03@03:49:45 GMT

موضوع: ایران میں پانی کا بحران۔۔۔۔ حقیقی صورت حال کیا ہے؟

اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: ایران میں پانی کا بحران۔۔۔۔ حقیقی صورت حال کیا ہے؟
مہمان تجزیہ نگار: حسام الدین حسینی مہاجری (تہران)
میزبان: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
 
 گزشتہ دنوں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر دسمبر تک بارشیں نہیں آتی ہیں تو حکومت کو تہران میں پانی کی فراہمی کیلئے منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پانی کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں خشک سالی جاری رہی تو تہران جو کہ 1 کروڑ سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جلد ہی ناقابل رہائش ہو سکتا ہے
سوالات:
·  ایران میں پانی کی کمی کا مسئلہ کب اور کیسے سنگین ہونا شروع ہوا؟
·  ایران میں پانی کے بحران کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی یا حکومتی پالیسیوں کی غلطیاں
کن ایرانی صوبوں اور شہروں میں پانی کی کمی سب سے زیادہ شدید ہے؟کیا حل ہوسکتا ہے؟
·  ایران میں پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کون سی ٹیکنالوجیز یا پالیسی تبدیلیاں ضروری ہیں؟
·  کیا سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے (desalination) یا پانی کے ری سائیکلنگ جیسے منصوبے حقیقت پسندانہ ہیں؟
·  ایران کا پانی کا بحران اگلے 10–20 سال میں کس حد تک بگڑ سکتا ہے؟
 
خلاصہ گفتگو واہم نکات:
ایران ایک فور سیزن سرزمین ہے، یہاں تمام قدرتی وسائل موجود وافر موجود ہیں
ایران اسی ملین نفوس کی آبادی کا ملک ہے، جس میں بیشتر افراد شہروں میں رہتے ہیں
ایران کی ایک چوتھائی آبادی تہران کے ارد گرد  آباد ہے
عام انسانی نفسیات اور رحجان بن گیا ہے کہ تمام انسانی سہولیات سے لیس شہروں میں آباد ہونا پسند کرتے ہیں
ایران میں بھی لوگ شہری طرز زندگی کو اپنانے میں ترجیح دینے لگے ہیں
ایران حکومت کو احساس ہے کہ اگر انسانی آبادی شہروںکی طرف مسلسل منتقل ہوتی رہی تو مسائل پیدا ہونگے
اس لئے حکومت کو شہری ہجرت کی جانب حوصلہ شکنی کرتی ہے
ایران مین دیہی علاقے، گاوں بھی تمام انسانی سہولیات سے مزین ہیں
ایران میں پانی کی فراوانی ہے،اور کوئی کمی نہیں
انسانی ضرورت کے لئے پانی کا محفوظ پانی بھی وافر مقدار میں موجود ہے
مغربی  میڈیا صیہونی شہ پہ ایران کو کمزور یا پریشان ملک ثابت کرنا چاہتا ہے
البتہ گزشتہ دس برسوں میں بارشیں کم ہونے کی بنا پہ پانی کی کمی محسوس کی جارہی ہے
بارشیں کم ہونے کی وجہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں،جن سے ایران بھی متاثر ہورہا ہے
ایران کے تمام شہروں میں آبادی کو براہ راست پانی ملتا ہے
ایران میں انسانی گھریلو ضرورت کے لئے لوگ انفرادی طور پہ پانی ذخیرہ نہیں کرتے ہیں
آغائے مہدی پزشکیان نے فقط مستقبل کی ضرورت کے لئے پانی کے کم استعمال کی طرف متوجہ کیا ہے
حکومتی پالیسی پانے کے بے جا استعمال  سے لوگوں کو روکنا ہے
دنیا پھر سے لاکھوں کی تعداد میں زائرین اور سیاح ایران آتے ہیں
ایران میں شہری علاقوں میں پینے کے پانی اور استعمال کے پانی کی کسی قسم کی قلت نہیں پائی جاتی
ایرانی کے شمالی علاقوں میں  پانی  کی نعمت  فراوانی سے موجود ہے
فقط   اصفہان اور شیراز جیسے صہر جو صحراوں کے مضافات میں ہیں وہاں کچھ مسئلہ ہوسکتا ہے
ایرانی حکومت خلیج فارس  کے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے بہت بڑے منصوبے پہ کام کررہی ہے
جمہوری اسلامی ایران میں ہر جنس ہر فصل فراوانی سے کاشت کی جاتی ہے
ایران کے ترکی اور عراق کے سرحدی علاقوں میں پانی کوئی کمی نہیں
صرف سیستان اور کرک کے کچھ علاقے آبی کمی کا سامنا کرتے ہیں
ایران ایک تعلیم یافتہ اور   ننانوے فی صد  خواندگی کی شرح  رکھنے والا ملک ہے
ایرانی عوام تہذیب یافتہ اور باشعور لوگ ہیں
ایران میں پاکستانی سفارت نے اپنے زیرا نتظام اسکولز اور دفاتر میں پانی کی کفایت شعاری کا اعلان کرکے احسن قدم اٹھایا
 

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران میں پانی ہیں ایران میں میں پانی کی ہے ایران پانی کے پانی کا کیا ہے

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • گمشدہ لڑکیاں اور معاشرتی بحران: ایک سنجیدہ عدالتی جائزہ
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا