موضوع: ایران میں پانی کا بحران۔۔۔۔ حقیقی صورت حال کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 22nd, November 2025 GMT
تجزیہ ایک ایسا پروگرام ہے جس میں تازہ ترین مسائل کے بارے میں نوجوان نسل اور ماہر تجزیہ نگاروں کی رائے پیش کی جاتی ہے۔ آپکی رائے اور مفید تجاویز کا انتظار رہتا ہے۔ یہ پروگرام ہر اتوار کے روز اسلام ٹائمز پر نشر کیا جاتا ہے۔ متعلقہ فائیلیںتجزیہ انجم رضا کے ساتھ
موضوع: ایران میں پانی کا بحران۔۔۔۔ حقیقی صورت حال کیا ہے؟
مہمان تجزیہ نگار: حسام الدین حسینی مہاجری (تہران)
میزبان: سید انجم رضا
پیشکش: آئی ٹائمز ٹی وی اسلام ٹائمز اردو
گزشتہ دنوں ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے خبردار کیا ہے کہ اگر دسمبر تک بارشیں نہیں آتی ہیں تو حکومت کو تہران میں پانی کی فراہمی کیلئے منصوبہ بندی کرنا پڑے گی۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پانی کے بدترین بحران سے دوچار ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں خشک سالی جاری رہی تو تہران جو کہ 1 کروڑ سے زیادہ آبادی والا شہر ہے، جلد ہی ناقابل رہائش ہو سکتا ہے
سوالات:
· ایران میں پانی کی کمی کا مسئلہ کب اور کیسے سنگین ہونا شروع ہوا؟
· ایران میں پانی کے بحران کی اصل وجوہات کیا ہیں؟ موسمیاتی تبدیلی، خشک سالی یا حکومتی پالیسیوں کی غلطیاں
کن ایرانی صوبوں اور شہروں میں پانی کی کمی سب سے زیادہ شدید ہے؟کیا حل ہوسکتا ہے؟
· ایران میں پانی کے بحران سے نمٹنے کے لیے کون سی ٹیکنالوجیز یا پالیسی تبدیلیاں ضروری ہیں؟
· کیا سمندری پانی کو پینے کے قابل بنانے (desalination) یا پانی کے ری سائیکلنگ جیسے منصوبے حقیقت پسندانہ ہیں؟
· ایران کا پانی کا بحران اگلے 10–20 سال میں کس حد تک بگڑ سکتا ہے؟
خلاصہ گفتگو واہم نکات:
ایران ایک فور سیزن سرزمین ہے، یہاں تمام قدرتی وسائل موجود وافر موجود ہیں
ایران اسی ملین نفوس کی آبادی کا ملک ہے، جس میں بیشتر افراد شہروں میں رہتے ہیں
ایران کی ایک چوتھائی آبادی تہران کے ارد گرد آباد ہے
عام انسانی نفسیات اور رحجان بن گیا ہے کہ تمام انسانی سہولیات سے لیس شہروں میں آباد ہونا پسند کرتے ہیں
ایران میں بھی لوگ شہری طرز زندگی کو اپنانے میں ترجیح دینے لگے ہیں
ایران حکومت کو احساس ہے کہ اگر انسانی آبادی شہروںکی طرف مسلسل منتقل ہوتی رہی تو مسائل پیدا ہونگے
اس لئے حکومت کو شہری ہجرت کی جانب حوصلہ شکنی کرتی ہے
ایران مین دیہی علاقے، گاوں بھی تمام انسانی سہولیات سے مزین ہیں
ایران میں پانی کی فراوانی ہے،اور کوئی کمی نہیں
انسانی ضرورت کے لئے پانی کا محفوظ پانی بھی وافر مقدار میں موجود ہے
مغربی میڈیا صیہونی شہ پہ ایران کو کمزور یا پریشان ملک ثابت کرنا چاہتا ہے
البتہ گزشتہ دس برسوں میں بارشیں کم ہونے کی بنا پہ پانی کی کمی محسوس کی جارہی ہے
بارشیں کم ہونے کی وجہ عالمی ماحولیاتی تبدیلیاں ہیں،جن سے ایران بھی متاثر ہورہا ہے
ایران کے تمام شہروں میں آبادی کو براہ راست پانی ملتا ہے
ایران میں انسانی گھریلو ضرورت کے لئے لوگ انفرادی طور پہ پانی ذخیرہ نہیں کرتے ہیں
آغائے مہدی پزشکیان نے فقط مستقبل کی ضرورت کے لئے پانی کے کم استعمال کی طرف متوجہ کیا ہے
حکومتی پالیسی پانے کے بے جا استعمال سے لوگوں کو روکنا ہے
دنیا پھر سے لاکھوں کی تعداد میں زائرین اور سیاح ایران آتے ہیں
ایران میں شہری علاقوں میں پینے کے پانی اور استعمال کے پانی کی کسی قسم کی قلت نہیں پائی جاتی
ایرانی کے شمالی علاقوں میں پانی کی نعمت فراوانی سے موجود ہے
فقط اصفہان اور شیراز جیسے صہر جو صحراوں کے مضافات میں ہیں وہاں کچھ مسئلہ ہوسکتا ہے
ایرانی حکومت خلیج فارس کے پانی کو پینے کے قابل بنانے کے بہت بڑے منصوبے پہ کام کررہی ہے
جمہوری اسلامی ایران میں ہر جنس ہر فصل فراوانی سے کاشت کی جاتی ہے
ایران کے ترکی اور عراق کے سرحدی علاقوں میں پانی کوئی کمی نہیں
صرف سیستان اور کرک کے کچھ علاقے آبی کمی کا سامنا کرتے ہیں
ایران ایک تعلیم یافتہ اور ننانوے فی صد خواندگی کی شرح رکھنے والا ملک ہے
ایرانی عوام تہذیب یافتہ اور باشعور لوگ ہیں
ایران میں پاکستانی سفارت نے اپنے زیرا نتظام اسکولز اور دفاتر میں پانی کی کفایت شعاری کا اعلان کرکے احسن قدم اٹھایا
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ایران میں پانی ہیں ایران میں میں پانی کی ہے ایران پانی کے پانی کا کیا ہے
پڑھیں:
آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
امریکی سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ایرانی ’جوہری پروگرام (Irani atomic programme)کے وہ پہلو بھی شامل ہیں، جس کا وہ (ایران) ایک مہینے یا سال قبل تک ذکر کرنے سے بھی انکار کر رہا تھا۔‘
امریکی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نہ صرف زندہ ہیں بلکہ بظاہر تیزی سے سرگرم بھی ہو رہے ہیں۔
مارکو روبیو نے سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کو بتایا کہ ’میرے خیال میں اس بات کے آثار ہیں کہ وہ کسی نہ کسی سطح پر بڑھتا ہوا کردار ادا کر رہے ہیں۔
ایرانی ٹیلی ویژن کے مطابق، مجتبیٰ خامنہ ای کو 20 مارچ کے بعد سے عوامی سطح پر نہیں دیکھا گیا۔
وہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کی پہلی لہر میں زخمی ہوئے تھے۔ ان کے والد علی خامنہ ای بھی اسی حملے میں مارے گئے تھے۔
مزید پڑھیں:عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر کے دفتر میں بین الاقوامی امور کے نائب نے ایک ماہ قبل کہا تھا کہ مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت بالکل ٹھیک ہے اور وہ ’معاملات کے انتظام میں مصروف‘ ہیں۔