ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کی مدد کیلئے ٹیکنالوجی کی منتقلی ناگزیر: مصدق ملک
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
بیلیم / اسلام آباد (نوائے وقت رپورٹ) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی ہم آہنگی سینیٹر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی سے متاثرہ ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لئے فوری، قابلِ بھروسہ اور منصفانہ مالی تعاون، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی اور عالمی سطح پر مضبوط شراکت داری ناگزیر ہو چکی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے اقوام متحدہ کے عالمی ماحولیاتی سربراہی اجلاس کے موقع پر وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کی جانب سے منعقدہ تقریب میں کیا۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا کہ یہ تقریبات پاکستان کے ماحولیاتی چیلنجز، موافقت کے تقاضوں، جاری اصلاحاتی اقدامات اور عالمی ماحولیاتی نظام میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کرنے کا موثر پلیٹ فارم ثابت ہوئیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکرٹری عائشہ حمیرہ مورانی نے پاکستان کی شرکت کی حکمت عملی کی پلاننگ اور رابطہ کاری کی قیادت کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان کا موقف سائنسی شواہد، تکنیکی دلائل اور واضح پالیسی سمت کے ساتھ پیش ہو۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔