اسٹارٹ اپس اور عالمی سرمایہ کاری کے باعث پاکستان کا ڈیجیٹل سفر نئی بلندیوں پر
اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پاکستان میں ڈیجیٹل انقلاب کی رفتار دن بدن تیز ہو رہی ہے اور اس انقلاب کا مرکز بنیادی طور پر وہ ٹیکنالوجیکل انفرا اسٹرکچر ہے جو گزشتہ چند برسوں میں غیر معمولی رفتار سے پھیل رہا ہے۔
ملک بھر میں ڈیجیٹل ترقی کے سفر کو ماضی میں کبھی اس انداز سے منظم نہیں دیکھا گیا تھا، تاہم موجودہ دور میں حکومت کی بھرپور توجہ، سرمایہ کاری میں اضافے اور ٹیکنالوجی اسکٹر کی بڑھتی ہوئی شمولیت نے پاکستان کو ایک ڈیجیٹل نیشن بنانے کی بنیاد رکھ دی ہے۔
وفاقی وزیرِ اطلاعات ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ نے 27ویں نیشنل سیکورٹی ورکشاپ سے خطاب میں وہ تمام عوامل واضح کیے جن کی بدولت پاکستان اب عالمی ڈیجیٹل نقشے پر نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کا ڈیجیٹل ایکوسسٹم اب اپنے ابتدائی مرحلے سے بہت آگے نکل چکا ہے، جس میں 43 سے زیادہ سافٹ ویئر ٹیک پارکس، 400 سے زائد ٹیک کمپنیاں اور 85 کے قریب انکیوبیٹرز شامل ہیں۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ تیزی سے ٹیکنالوجی کی طرف راغب ہو رہا ہے، جہاں اسٹارٹ اپس اور ڈیجیٹل اسکلز کا فروغ نہ صرف مقامی سطح پر روزگار پیدا کر رہا ہے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت کو بھی مضبوط بنا رہا ہے۔
وزیر آئی ٹی کے مطابق پاکستان میں اس وقت 4,100 سے زائد اسٹارٹ اپس کام کر رہے ہیں، جن میں سے متعدد کمپنیوں نے امریکا، برطانیہ، کینیڈا، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر ممالک میں اپنی خدمات کا دائرہ وسیع کر لیا ہے۔ اس بین الاقوامی رسائی نے ملکی ٹیک سیکٹر کے اعتماد کو بڑھایا ہے اور ساتھ ہی پاکستان میں آئی ٹی ایکسپورٹ کو نئی جہت دی ہے۔
عالمی پلیٹ فارمز پر پاکستانی ماہرین، پروگرامرز اور ٹیکنالوجی ہاؤسز کی موجودگی نہ صرف ملک کے لیے مثبت رجحانات پیدا کر رہی ہے بلکہ دنیا میں پاکستان کی سافٹ پاور کو بھی تقویت پہنچا رہی ہے۔
پاکستان نے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، اسٹارٹ اپ ٹریننگ اور ڈیجیٹل مہارتوں کے شعبے میں 4.
بین الاقوامی شراکت داریوں کی بدولت عالمی کمپنیوں کا پاکستان میں اعتماد بڑھ رہا ہے، جہاں ایس آئی ایف سی کی معاونت نے سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے ہیں اور ڈیجیٹل معیشت کے اندر پائیدار ترقی کے امکانات پیدا کیے ہیں۔
شزہ فاطمہ خواجہ نے اپنی بریفنگ میں اس بات کا بھی ذکر کیا کہ آئی ٹی سیکٹر میں 700 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری ریکارڈ کی گئی، جو اس شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ گوگل جیسی دنیا کی بڑی ٹیک کمپنی کا پاکستان میں فعال موجود ہونا ملک کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت اس امر کی نشاندہی ہے کہ پاکستان اب نہ صرف ڈیجیٹل تبدیلی کے عمل کو اپنا چکا ہے بلکہ اسے عالمی معیار کے مطابق وسعت دینے کے لیے بھی تیار ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے رہا ہے
پڑھیں:
عالمی توانائی بحران کا خدشہ بڑھ گیا، آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی
لندن: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری سلامتی کے بڑھتے خدشات کے باعث آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکروں کی تعداد دو ماہ سے زائد عرصے کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھ کر تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی تجزیاتی کمپنی کپلر کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 23 جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا، جو 7 مئی کے بعد سب سے کم یومیہ تعداد ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق اس سے ایک روز قبل آبنائے ہرمز سے تین آئل ٹینکر گزرے تھے جبکہ 23 جولائی کو کوئی بھی جہاز اس آبی گزرگاہ میں داخل نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق خطے میں جاری فوجی کشیدگی، بحری جہازوں پر حملوں کے خدشات اور آبنائے ہرمز میں سلامتی کی غیر یقینی صورتحال نے شپنگ کمپنیوں کو محتاط رویہ اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے باعث کئی جہاز متبادل راستوں یا روانگی میں تاخیر کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ادھر عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت مزید متاثر ہوئی تو عالمی سطح پر تیل کی سپلائی میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس لیے اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔