Express News:
2026-06-03@00:11:48 GMT

مدارس کی خدمات اور ریاست کا دباؤ

اشاعت کی تاریخ: 20th, November 2025 GMT

دین اسلام اللہ رب العزت کی طرف سے اپنے محبوب خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کو دیا گیا ابدی اور آفاقی اللہ کا محبوب دین اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلامی تعلیمات میں روحِ انسانیت کی دنیاوی اور اخروی تمام تشنگیوں کا مداوا اور مشکلات کا حل موجود ہے۔ مگر اسلامی تعلیمات کو کیسے حاصل کیا جائے؟

اس مشکل کا حل محمد عربی ﷺ نے عالم اسلام کا پہلا مدرسہ"صُفہ" قائم کرکے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو بتادیا ہے، دینِ اسلام کی بقا، اشاعت، تعلیمات قرآن و سنت کی روشنی میں دنیا و آخرت کو سنوارنے کے لیے صُفہ کی طرح دینی درسگاہیں قائم کرنا سنت نبوی ہے۔ مدارس کا بنیادی مقصد انسانوں کو تعلیماتِ اسلام سے روشناس کرانا اور علم کی شمع روشن کرکے جہالت کا خاتمہ ہے۔ اس خطے میں اسلام عرب سے آنے والے تاجروں کے ذریعے آیا، اسے پاک و ہند کے گوشے گوشے تک پھیلانے کا فریضہ اولیاء اللہ اور علماء کرام نے ادا کیا۔ شکر الحمدللہ قرآن و سنت کی ترویج و اشاعت کی ذمے داری و فریضہ علماء کرام کے قائم کردہ مدارس لمحہ موجود تک انجام دے رہے ہیں۔

برصغیر میں انگریز کے آنے سے قبل تعلیم و تربیت کا واحد ذریعہ دینی مدارس تھے، برطانوی سامراج نے اسے کمزور کرنے کے لیے اپنا آزمودہ حربہ "تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے فلسفے پر دینی و دنیاوی تعلیم کو الگ کرکے مسلمانوں کو دیندار (بنیاد پرست) اور دین بیزار (لبرلز) میں تقسیم کا دووازہ کھول دیا۔ مدارس دینیہ کے مد مقابل عصری علوم کے اداروں کو لاکرکھڑا کیا۔ مگر اکابرین امت نے نامساعد حالات میں مدارس اور مدارس کے نظام کو کمزور نہ ہونے دیا۔

ریاست مدینہ کے بعد دوسری ریاست پاکستان، "پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کے نصب العین پر معرض وجود میں آیا تو بے سروسامانی کے عالم میں ایک طرف ریاستی نظم چلانے کا چیلنج تو دوسری طرف لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری اور کفالت کا مسئلہ درپیش تھا۔ مشکل کی اس گھڑی میں اکابرین امت نے دینی مدارس کے قیام کا بیڑہ اٹھایا اور اللہ نے انھیں سرخرو کیا۔

آج یہی مدارس تشنگان علوم نبوی کو علم کی دولت کے ساتھ اعمال صالحہ اور اخلاق فاضلہ کے ساتھ ان کی کردار سازی میں مصروف ہیں۔ عصری علوم حاصل کرنے کے لیے پاکستانی طلباء مغربی یونیورسٹیوں کا رخ کرتے ہیں لیکن علوم قرآن و حدیث کا فیض حاصل کرنے کے لیے دنیا بھر سے طلباء پاکستانی مدارس میں آرہے ہیں، پوری امت کا پاکستان کے مدارس کی خدمات کا اعتراف ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے پاکستان کے طول و عرض میں پھیلے لاکھوں مدارس کی برکت سے آج قرآن وحدیث اور علوم شریعہ اصل اور مکمل شکل میں باقی اور محفوظ ہے۔

ان مدارس نے معاشرے کو لاکھوں حفاظ اور علوم اسلامی کے ماہر علماء وشیوخ، آئمہ و خطباء دیے ہیں، جو پاکستان ہی نہیں دنیا کے کونے کونے کو اسلام کی روشنی سے منور کر رہے ہیں۔ بلوچستان، پختونخوا، پنجاب، سندھ، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان کے دور افتادہ و پسماندہ علاقوں میں جہاں عصری علوم کا کوئی ریاستی ادارہ موجود نہیں وہاں مدارس موجود ہیں جو ان علاقوں کے غریب بچوں کو مفت تعلیم، جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں سے نکال کر ان کے قلوب و اذہان کو علم کی روشنی سے منور کرنے کے علاوہ پاکستان میں شرح خواندگی کو بڑھانے اور فروغ تعلیم کے لیے ان مدارس کا کردار قابل تحسین اور قابل تقلید ہے۔ پوری ملت پر مدارس کا احسان ہے کہ خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرانے والے لاکھوں بچوں کو سینے سے لگا کر تعلیم دے رہے ہیں، حالانکہ یہ ذمے داری ریاست کی تھی۔

ریاستی دو رنگی نے عصری تعلیمی اداروں کو منافع بخش کاروبار بنایا، عصری علوم کے اداروں کے مالکان کے ہاتھ والدین کی جیبوں اور پاؤں گردن پر ہوتے ہیں جب کہ مدارس نے دینی تعلیم کو کاروبار نہیں اپنا فریضہ سمجھ کر رضائے الہی کا ذریعہ بنایا۔ اپنی مدد آپ کے تحت چلنے والے ان مدارس میں تعلیم ہی نہیں، رہائش، کھانا، کپڑے، کتابیں، طبی سہولیات مفت اور وظائف بھی دیے جاتے ہیں۔ مدارس کا نصاب قومی وحدت و اخوت کا مظہر مگر عصری علوم کے ریاستی نظام تعلیم طبقاتی اور قومی وحدت کے لیے زہر قاتل ہیں، ایک ہی شہر اور علاقے میں موجود سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں رنگ برنگے نصاب پڑھائے جارہے ہیں، کہیں آکسفورڈ، کہیں کیمبرج تو کہیں کوئی اور نصاب جو معاشرے میں تقسیم کا سبب بن رہے ہیں۔

نام نہاد روشن خیال خلاف واقعہ اور بلا تحقیق یہ الزام لگاتے ہیں کہ علماء خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں، جب کہ پاکستان میں دینی مدارس کے سب سے بڑے وفاق، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ساتھ طلباء سے زیادہ طالبات کے مدارس الحاق شدہ ہیں، جس میں طلباء سے زیادہ طالبات زیر تعلیم ہیں۔ یہ مدارس پاکستان ہی نہیں عالم اسلام کے لیے بھی نعمت کبریٰ سے کم نہیں، حکومت کو ان مدارس کا ہمیشہ احسان مند رہنا چاہیے، انھیں سہولیات دینی چاہیے لیکن افسوس کہ ہر دور حکومت میں مدارس کے راستے میں رخنے ڈالے گئے۔ کبھی مدارس کو دہشت گردی کے اڈے تو کبھی جہالت کی فیکٹریاں کہا گیا، کبھی مدارس کے نظام پر قدغنیں، کبھی نصاب پر اعتراض، کبھی مدارس میں پڑھانے والوں کی داڑھی ٹوپی اور پگڑی کا مذاق اڑایا گیا۔ اللہ رب العزت کی شان کہ رخنے ڈالنے والوں کا آج نام و نشان باقی نہیں اور مدارس آج بھی قائم اور انشاء اللہ تاقیامت قائم ودائم رہیں گے۔ کاش موجودہ حکمران ماضی سے سبق حاصل کرتے اور مدارس دشمنی سے باز رہتے۔ کراچی تا خیبر اہل مدارس حکومتی اقدامات کی وجہ سے شدید اضطراب کا شکار ہیں۔ خلاف واقعہ مدارس پر رجسٹریشن نہ کرنے کا الزام لگایا جارہا ہے۔

مدارس قانون کے مطابق رجسٹریشن کرانے کے لیے تیار ہیں لیکن حکومتی ادارے رجسٹریشن کرنے کے لیے تیار نہیں۔ 26 ویں آئینی ترمیم موجودہ حکومت نے منظور کی اس ترمیم میں حکومت نے مدارس کی رجسٹریشن کا بل پیش کیااور اسے منظور کراکے ایکٹ بنایا جس کے مطابق مدارس کو اختیار ہے کہ وہ چاہیں تو وزارت تعلیم اسلام آباد یا سوسائٹی ایکٹ کے تحت رجسٹریشن کرائیں، مگر مدارس پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ رجسٹریشن وزارت تعلیم میں کرائیں ورنہ مدارس بند کردیں گے، مہتمین اور علماء کرام پر مقدمات قائم اور نام فورتھ شیڈول میں ڈالے جائیں گے۔ اپنے اس غیر آئینی و غیر قانونی اقدام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کوائف طلبی کے نام پرعلماء کو ہراساں کرنے کی اطلاعات آرہی ہیں جس کی وجہ سے پورے ملک میں اہل مدارس مضطرب ہیں۔

گزشتہ دنوں اتحاد تنظیمات مدارس پاکستان پختونخوا کا اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا۔ صوبائی صدر مولانا حسین احمد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے مولانا ڈاکٹر عبدالناصر لطیف، وفاق المدارس السلفیہ پاکستان کے مولانا عمر عبدالعزیز، مولانا عبدالبصیر رستمی، رابطہ المدارس الاسلامیہ پاکستان کے مولانا عبدالاکبر چترالی، وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے مولانا سید عبدالبصیر شاہ، مولانا حبیب الرحمٰن، حافظ محمد داؤد فقیر، مولانا ارشد علی قریشی وفاق المدارس الشیعہ پاکستان کے علامہ عابد حسین شاکری کے علاوہ کثیر تعداد میں علماء وشیوخ نے شرکت کی،مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے کوائف کی طلبی پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ بہت سے علاقوں سے اطلاعات آرہی ہیں کہ مدارس سے جو کوائف مانگے جارہے ہیں اس قسم کے کوائف ماضی میں کبھی نہیں مانگے گئے۔یہ صرف خیبر پختونخوا میں نہیں پورے ملک میں ہورہا ہے۔ حکومت دانشمندی کا مظاہرہ کرے اور اس ایشو کو خوش اسلوبی سے طے کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پاکستان کے مولانا وفاق المدارس کرنے کے لیے عصری علوم مدارس کے مدارس کی مدارس کا نے والے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اسلام آباد میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  •  محسن نقوی  کا نیشنل پولیس اکیڈمی اسلام آباد کا دورہ، ایم سی ایم سی کورس پر نظرثانی کی اصولی منظوری
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • حج سے واپسی کا آغاز، 370 حجاج کرام اسلام آباد پہنچ گئے
  • یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے امور خارجہ آج اسلام آباد پہنچیں گی