این ای ڈی کا ٹیکنالوجی پارک آئی ایم ایف کی شرائط کی زد میں آگیا
اشاعت کی تاریخ: 17th, November 2025 GMT
این ای ڈی یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی میں حکومت سندھ اور کویتی حکومت کے اشتراک سے قائم ہونے والا ٹیکنالوجی پارک آئی ایم ایف کی شرائط کے سبب تعطل کا شکار ہورہا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق اس ٹیکنالوجی پارک کو نہ صرف این ای ڈی یونیورسٹی بلکہ سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی سے تعلق رکھنے والے طلبہ اور ریسرچرز کے لیے ایک گیم چینجر کہا جارہا ہے تاہم پاکستان میں ٹیکس سے مستثنی ٹیکنالوجی اور اکنامک زونز کا استثنی ختم کرنے کی آئی ایم ایف کی نئی شرط کے سبب حتمی معاہدے اور تعمیرات شروع ہونے سے قبل منصوبے میں تعطل پیدا ہوگیا ہے۔
ابتدائی معاہدے کے تحت حکومت پاکستان کو اس منصوبے پر 10 سال تک کوئی ٹیکس نہیں لینا تھا اور اسے Tax holiday کا نام دیا گیا تھا، جس میں کسٹم ڈیوٹی، انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس سمیت دیگر ٹیکسز سے استثنی شامل تھا۔
این ای ڈی یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹر غضنفر حسین نے " ایکسپریس" کے رابطہ کرنے پر ٹیکنالوجی پارک پر آئی ایم ایف کی شرط عائد ہونے کی تصدیق کی اور بتایا کہ "یہ ایک عارضی تعطل ہے ہم کسی بھی صورت پیچھے مڑ کر نہیں دیکھیں گے‘۔
انہوں نے کہا کہ این ای ڈی میں پہلے ہی سے 5 ٹیکنالوجی کمپنیاں کام کررہی ہیں جو اس منصوبے کا ہی حصہ ہیں، ہمیں امید ہے کہ سندھ حکومت اور بالخصوص وزیر اعلی سندھ اس معاملے کو وفاقی حکام اور آئی ایم ایف کی سطح پر حل کرلیں گے اور منصوبہ نہیں رکے گا بلکہ جلد شروع ہوجائے گا۔
واضح رہے کہ این ای ڈی یونیورسٹی کے مرکزی کیمپس میں ممکنہ طور پر بننے والے اس ٹیکنالوجی پارک کی عمارت کی بلندی اب 20 منزل سے کم کر کے 10 منزل کردی گئی ہے جبکہ عمارت کا رقبہ 1.
سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایس بی سی اے کی جانب سے یونیورسٹی روڈ پر ریسرچ و انوویشن کے لیے بننے والے ٹیکنالوجی پارک کی بلندی پر اعتراضات اٹھائے تھے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ڈی یونیورسٹی ٹیکنالوجی پارک آئی ایم ایف کی
پڑھیں:
پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش
فوٹو: فائلپبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش کردی اور ہدایت کی ہے کہ تمام ڈسکوز ملازمین کو تنخواہوں کی ڈیجیٹل ادائیگی یقینی بنائیں۔
پی اے سی اجلاس کے دوران سیکریٹری پاور ڈویژن کا کہنا تھا کہ حکومت بجلی بنانے اور تقسیم کے کاروبار سے نکل رہی ہے۔ تین ڈسکوز کی نجکاری کیلئے معاملات حتمی مراحل میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حیسکو اور سیپکو کی نجکاری کیلئے فنانشل ایڈوائزر مقرر کر رہے ہیں۔ حکومت صرف ٹیسکو اور کیسکو کو اپنے پاس رکھے گی۔ کابینہ کا فیصلہ ہے کہ ٹیسکو اور کیسکو کی نجکاری نہیں کی جائے گی۔
سیکریٹری پاور ڈویژن نے بتایا کہ 2027 کے آغاز میں تین ڈسکوز کی نجکاری مکمل ہوجائے گی۔ گیپکو، فیسکو اور آئیسکو کی نجکاری 2027 کے آغاز میں ہوجائے گی، تمام ڈسکوز کی نجکاری تیزی سے ہوگی۔