عمران حکومت کے فیصلے روحانیت کا لبادہ اوڑھے بشریٰ کرتیں، رپورٹ حقائق پر مبنی: خواجہ آصف، رانا ثناء، عطا تارڑ، اعظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
اسلام آباد‘ فیصل آباد (نوائے وقت رپورٹ + آئی این پی + نوائے وقت رپورٹ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ دی اکانومسٹ کوئی عام جریدہ نہیں۔ بیرسٹر گوہر اور پی ٹی آئی کو اکانومسٹ کے خلاف ضرور قانونی ایکشن لینا چاہئے۔ اگر بیرسٹر گوہر نہ گئے تو میں خود عدالت جاؤں گا۔ یہ ثابت ہونا چاہئے کہ عدالتوں نے بھی اس خبرکی تصدیق کی ہے۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے خواجہ آصف نے کہا پی ٹی آئی کو ضرور برطانیہ میں کیس کرنا چاہئے۔ میرا اندازہ ہے کہ یہ عدالت نہیں جائیں گے۔ یہ بھی پتا چلنا چاہئے کہ گوگی کہاں سے آئی اور کہاں چلی گئی۔ انہوں نے کہا جو استعفے نہیں دے رہے وہ اپنی جاب پوری ہونے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس سٹوری کے حوالے سے بھی فیض حمید سے تحقیقات ہو سکتی ہیں۔ دریں اثناء مشیر وزیراعظم و سینیٹر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نظام ہے جو کرو گے وہ بھرو گے۔ نفرت اوربغض کی سیاست نے ملک کو کچھ نہیں دیا، ایک آدمی کہتا تھا مجھ پر منشیات کا درست کیس بنایا گیا، اب معافیاں مانگ رہا ہے، کرپشن ختم کرنیکے نام پر فرح گوگی اور پنکی کے کردارلائے گئے۔ علاوہ ازیں وفاقی وزیر اطلاعات عطاء تارڑ نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کے سیاسی و حکومتی فیصلے ملکی مفاد کی بنیاد پر نہیں بلکہ روحانیت کے لبادے پر بشریٰ بی بی کے احکامات پر ہوا کرتے تھے اور بشریٰ بی بی اکثر سیاسی فیصلوں پر اثر اندز ہوتی تھیں۔ میڈیا سے گفتگو کے دوران دی اکانومسٹ کی رپورٹ پر ردعمل دیتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عثمان بزدار کو وزیر اعلی ٰپنجاب بنانے کا فیصلہ بھی بشریٰ بی بی کے کہنے پر کیا گیا تھا، یہ کون سی دین کی تعلیم تھی جس کا ذکر جریدے میں ہوا ہے؟، بشریٰ بی بی اکثر سیاسی فیصلوں پر نہ صرف اثر انداز ہوتی تھیں بلکہ ان پر عملدرآمد بھی کرواتی تھیں۔انہوں نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آئی کے سیاسی وحکومتی فیصلے ملکی مفاد میں نہیں کرتے تھے بلکہ یہ فیصلے روحانیت کا لبادہ اوڑھے ان کی اہلیہ کرتی تھیں، تمام معاشی اور سیاسی فیصلے بھی بشریٰ بی بی کرتی تھیں ۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ عمران نے شہباز شریف پر جھوٹا الزام لگایا تھا کہ وزیر اعظم نے انہیں 10 ارب روپے آفر کیے، شہباز شریف نے ان کے خلاف 2017 ء میں ہتک عزت کا کیس دائر کیا، جھوٹے، من گھڑت اور بے بنیاد الزام سے شہباز شریف کی ساکھ متاثر کی گئی اور ان کے خلاف پروپیگنڈا کیا گیا جو اخبارات میں بھی شائع ہوا۔ ان الزامات کی بنیاد پر سیاست کی گئی جھوٹے الزامات کا جواب دینا ہوگا، بیرون ملک بیٹھے شخص کے خلاف لندن کی عدالت نے بھی فیصلہ دیا، اس جھوٹے شخص کو ہرجانہ دینا پڑاب لکہ کورٹ کے اخراجات بھی ادا کرنا پڑے۔ پارلیمان اس ملک کا بالادست ادارہ ہے جسے آئین اور قانون سازی کا حق ہے، جو بھی ترامیم ہو رہی ہیں اور ہوں گی مکمل طور پر میرٹ پر ہوں گی۔ علاوہ ازیں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے برطانوی جریدے کی بشریٰ بی بی کے بارے میں رپورٹ کو 100 فیصد درست اور حقائق کے مطابق قرار دے دیا کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے بعد بشریٰ بی بی کے کارناموں کے چرچے عالمی میڈیا میں ہورہے ہیں۔برطانوی جریدے کی رپورٹ نے جعلی پیرخانے اور روحانیت میں چھپی شیطانیت سے پردہ اٹھایا ہے۔جو مخالفین کو کہتا تھا چھوڑو گا نہیں وہ خود جعلی طریقے سے اپنی زوجہ تک پہنچائی جانے والی معلومات کو روحانیت سمجھتا تھا۔ چار سال تک کوچ اور پیرنی نے بانی پی ٹی آئی کو بیوقوف بنایا۔ تبدیلی اور کرپشن کے خاتمے کے دعویدار سے بشریٰ بی بی حلال کرپشن کرواتی رہی۔پنکی،گوگی ،کوچ اور بزدار نے ملکر بانی پی ٹی آئی کوچار سال ڈگڈی پر نچایا۔ جادو ٹونے سے جعلی پیر خانے چلتے ملک اور معیشت نہیں چلتے۔ مخالفین کو دیوار میں چنوانے والوں کی روحانیت تین سال سے دفن ہو گئی ہے۔ مریم نواز اور رانا ثناء اللہ کو اسی بشریٰ بی بی کی فرمائش پر مینٹل ٹارچر کیا جاتا تھا۔آج مریم نواز کی حکومت میں بشریٰ بی بی کو جیل میں بی کلاس کی مکمل سہولیات مہیا کی جارہی ہیں ،یہ اپنا اپنا ظرف ہے۔ علاوہ ازیں پی پی کی رہنما شیری رحمان نے کہا کہ بانی پر بشریٰ کے اثرو رسوخ پر حیران ہوں۔ غیرمنتخب شخصیت ملک کے فیصلے کر رہی تھیں۔ ہر تقرری اور فیصلے بشریٰ کرتی تھیں۔ شرم آتی ہے بات کس سطح تک پہنچی۔ سازیہ مری نے بھی تنقید کی۔ دریں اثناء چیئرمین پاکستان تحریکِ انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے متعلق شائع ہونے والی تہلکہ خیز رپورٹ کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا اعلان کردیا۔ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان نے کہا کہ یہ آرٹیکل شر انگیز اور جھوٹ پر مبنی ہے، اس آرٹیکل کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے بشریٰ بی بی کو نہیں توڑا جا سکے گا، اس وقت جب وہ جیل میں ہیں اس قسم کے آرٹیکل کے آنے کی ہم مذمت کرتے ہیں، اس قسم کے آرٹیکل سپانسرڈ ہوتے ہیں اور ہم قانونی چارہ جوئی کریں گے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس آرٹیکل کا مقصد بشریٰ بی بی اور بانی پی ٹی آئی کی کردار کشی ہے۔ بشریٰ بی بی بہادری کے ساتھ اور اہلیہ ہونے کی وجہ سے جیل میں ہیں۔ اس آرٹیکل کا مقصد بشریٰ بی بی کی کردار کشی کرنا ہے۔ اس سے قبل بھی عدت جیسے گھٹیا الزامات لگائے گئے جس سے وہ بری ہوئیں۔ عدت جیسے الزمات جھوٹے ثابت ہوئے، یہ بھی من گھڑت کہانی ہے۔ وقت ثابت کرے گا کہ یہ باتیں بھی غلط بیانی پر مبنی اور بے بنیاد ہیں۔ ایسے وقت پر آرٹیکل کا آنا شر انگیزی ہے، یہ ایک قسم کی کردار کشی ہے۔ دریں اثناء خیبر پی کے حکومت کے وزیر اطلاعات شفیع اللّٰہ جان نے اپنے بیان میں کہا کہ دی اکانومسٹ میں شائع حالیہ رپورٹ حقائق کے منافی، غیر مصدقہ کہانیوں اور سیاسی پروپیگنڈے پر مبنی ہے جس میں عمران خان اور پاکستان تحریک انصاف کی طرز حکمرانی کو جانب دارانہ انداز میں مسخ کر کے پیش کیا گیا۔ رپورٹ میں سنسنی خیز الزامات، گم نام ذرائع، گھریلو عملے کی افواہوں اور سیاسی مخالفین کے بیانات کو ‘‘حقیقت’’ بنا کر پیش کیا گیا ہے، جو صحافتی اصولوں کے سراسر منافی ہے، گھریلو معاملات سے متعلق افواہوں کو تجزیے کا حصہ بنانا قابل مذمت ہے۔ مزید برآں بشریٰ بی بی کے قریبی حلقوں نے اس کی تردید کی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی وزیر اطلاعات بیرسٹر گوہر دی اکانومسٹ نے کہا کہ پی ٹی آئی بی بی کے کیا گیا کے خلاف ا رٹیکل کہ بانی
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف