Islam Times:
2026-06-03@08:44:21 GMT

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کل

اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT

آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کل

پیپلز پارٹی کو مزید ارکان کی حمایت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کل کے اجلاس میں سیاسی منظر نامہ واضح ہونے کا امکان ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد کشمیر میں سیاسی درجہ حرارت اس وقت اپنے عروج پر ہے، آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کل طلب کر لیا گیا۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس کل دوپہر 3 بجے ہو گا، جس میں نئے قائدِ ایوان کا انتخاب عمل میں لایا جائے گا۔ پیپلز پارٹی نے وزیراعظم انوارالحق کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرا رکھی ہے اور وزارتِ عظمیٰ کیلئے فیصل ممتاز راٹھور کو اپنا امیدوار نامزد کیا ہے، تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کیلئے 27 ارکان کی عددی اکثریت درکار ہے۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کو اس وقت 37 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے، پیپلز پارٹی کے 17، فارورڈ بلاک کے 11 اور مسلم لیگ نواز کے 9 ارکان تحریک عدم اعتماد کی حمایت کر رہے ہیں، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی اور مسلم کانفرنس کی اسمبلی میں ایک، ایک نشست موجود ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ارکان کی تعداد 5 ہے۔ دوسری جانب سابق وزیر اطلاعات پیر مظہر سعید بھی کابینہ سے مستعفی ہو چکے ہیں، جس کے بعد وزیراعظم انوارالحق کی حکومت میں شامل ارکان کی تعداد 8 رہ گئی ہے، پیپلز پارٹی کو مزید ارکان کی حمایت بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ کل کے اجلاس میں سیاسی منظر نامہ واضح ہونے کا امکان ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی ارکان کی کی حمایت

پڑھیں:

مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ

بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔

بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔

بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔

نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔

مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا

ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔

رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔

سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی