بانی پی ٹی آئی کیخلاف دائر ہتک عزت کے دعویٰ میں اسپیکر پنجاب اسمبلی طلب
اشاعت کی تاریخ: 16th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251116-01-13
لاہور (صباح نیوز) لاہور کی سیشن عدالت نے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف دائر ہتک عزت کے دعویٰ میں اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کو طلب کر لیا۔ ہفتہ کو لاہور کی سیشن عدالت میں وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بانی پی ٹی آئی کے خلاف دائر ہتک عزت کے دعویٰ پر سماعت ہوئی،ایڈیشنل سیشن جج یلماز غنی نے کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر بانی پی ٹی آئی کے وکیل کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا کہ اُن کے وکیل محمد حسین کچھ دیر میں پہنچیں گے لہٰذا جرح کے لیے مہلت دی جائے جسے عدالت نے منظور کر لیا۔ بعد ازاں سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو وکیلِ بانی پی ٹی آئی محمد حسین نے وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے بیان پر جرح کا آغاز کیا، عطا اللہ تارڑ نے عدالت کے روبرو حلف لیا۔ جرح کے دوران وکیل بانی پی ٹی آئی کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ پیش کیا گیا ریکارڈ نہ ان کے حق میں ہے اور نہ خلاف اور نہ ہی اُن کے دستخط شدہ ہے، اس پر عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ یہ عوامی نوعیت کی تصدیق شدہ دستاویزات ہیں جو ہتک عزت کے دعویٰ کو ثابت کرتی ہیں۔ وکیل بانی پی ٹی آئی نے اخباری تراشوں اور دیگر ریکارڈ پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ یہ نہ ان کی طرف سے جاری کیے گئے اور نہ ہی ان کے خلاف تحریر کیے گئے، عطا اللہ تارڑ نے مؤقف دہرایا کہ تمام دستاویزات عوامی ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ یو ایس بی سے متعلق سوال پر عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ وہ خود حفیظ سینٹر سے خرید کر لائے تھے اور اس میں موجود مواد ذرائع ابلاغ سے حاصل کردہ ہے، وکیلِ بانی پی ٹی آئی نے ان کی سیاسی وابستگی اور بیان کی صداقت سے متعلق سوالات کیے جن پر عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ ان کا بیان سیاسی وابستگی کی وجہ سے نہیں بلکہ حقائق کی بنیاد پر ہے۔ مزید سوالات نہ کیے جانے پر عدالت نے جرح مکمل ہونے کے بعد متعلقہ دستاویزات پر وفاقی وزیر عطا اللہ تارڑ کے دستخط کروائے اور سپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان کو طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 29 نومبر تک ملتوی کر دی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: عطا اللہ تارڑ نے ہتک عزت کے دعوی بانی پی ٹی ا ئی کی جانب سے
پڑھیں:
ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔
امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔
یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔
امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔
پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔