data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

مظفرآباد: وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد کے سلسلے میں پیپلز پارٹی دوبارہ سرگرم ہوگئی ہے اور باقاعدہ طور پر تحریک جمع کرانے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے اپنے اراکین اسمبلی کو فوری طور پر مظفرآباد پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ عدم اعتماد کی قرارداد پر اراکین کے دستخط بھی مکمل کر لیے گئے ہیں، جبکہ نئے قائدِ ایوان کا نام قرارداد جمع کراتے وقت درج کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم چوہدری انوار الحق نے بھی اپنے اسٹاف سے الوداعی ملاقاتیں شروع کردی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے صدر چوہدری یاسین کو وزارتِ عظمیٰ کے لیے مضبوط امیدوار سمجھا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ ن بھی اس عدم اعتماد کی تحریک میں پیپلز پارٹی کی حمایت کرے گی، اور امکان ہے کہ تحریک آج ہی اسمبلی میں جمع کرادی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان میں آئینی ترمیم کے باعث تحریک جمع کرانے کا عمل کچھ روز تاخیر کا شکار ہوا تھا۔

تحریک کامیاب بنانے کے لیے سادہ اکثریت یعنی 27 ووٹ درکار ہیں، تاہم پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ انہیں آزاد کشمیر اسمبلی میں 36 سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہے، جس کے باعث تحریک کی کامیابی کے امکانات واضح نظر آ رہے ہیں۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پیپلز پارٹی

پڑھیں:

مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ

بی جے پی(BJP) کی کٹھ پتلی مودی سرکار کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ سامنے آنے لگا، جہاں بھارت میں نوجوانوں کی تحریک بےقابو ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔

بھارتی نوجوانوں نے مودی سرکارکو چیلنج کرتے ہوئے کاکروچ پارٹی کی جانب سے نئی دہلی میں احتجاج کی کال دے دی گئی ہے۔ خدشہ ہے کہ پارٹی آہستہ آہستہ زور پکڑتی جائے گی کیونکہ بھارت کے اندر بےتحاشا تضادات اور گروہ بندی پائی جاتی ہے ۔

بھارت میں مودی سرکار نے ان گروہ بندیوں کو کم کرنے کے بجائے ان کو مزید مذہبی بنیادوں پر ہوا دے دی ہے، جہاں نوجوان جو نسلی، ذات اور مذہب کی بنیاد پر دھتکارے جا چکے ہیں، انہیں بھارت میں اپنا مستقبل تاریک نظر آتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کے کاکروچ پارٹی بےحد مقبول ہوتی جا رہی ہے ۔

نیپال اور بنگلادیش کے بعد بھارت میں کاکروچ پارٹی کی جین زی انقلابی تحریک زورپکڑنے لگی ہے۔ عالمی جریدے رائٹرزکےمطابق کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دِپکے نے کہا ہے کہ ہم اس تحریک سے پیچھے نہیں ہٹیں گےاورمیں جلد بھارت آکراس تحریک کوآگے بڑھاؤں گا۔

مزیدپڑھیں:انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا

ابھیجیت دِپکے کا کہنا ہے کہ خدشہ ہےکہ مجھےایئرپورٹ سے ہی گرفتارکرکےجیل بھیج دیا جائے گا لیکن مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔

رائٹرز کے مطابق بے روزگاری،کرپشن اورپیپرلیک نے کروڑوں طلبہ کی زندگیوں کومذاق بنا دیا، یہی بحران اس تحریک کے اصل محرکات ہیں۔

سینئر وکیل پرشانت بھوشن کے مطابق مودی سرکاربھارت میں کسی بھی جین زی انقلاب سے بہت ڈری ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی بے روزگاری اورکرپشن پر نوجوانوں کا غصہ تباہ حال نظام کے خلاف ان کا حقیقی ردِعمل ہے۔ بھارت کی گرتی ہوئی معاشی صورتحال، گرتی ساکھ اورمودی سرکارکی انتہا پسندانہ پالیسیاں عوامی غم و غصے کی بنیاد بن رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • مہاجرین کی 12 نشستوں کا مستقبل کیا ہوگا؟ آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت آج اہم فیصلوں کے لیے سر جوڑ کر بیٹھے گی
  • وفاقی بجٹ پر پیپلز پارٹی کے خدشات دور کرنے کیلئے حکومت اور پی پی پی کے مذاکرات نتیجہ خیز نہ ہوسکے
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • 5 جون کا وفاقی بجٹ اجلاس مؤخر، نئی تاریخ کا فیصلہ نہ ہوسکا
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی