برازیل میں عالمی ماحولیاتی کانفرنس کا اختتام، موسمیاتی تبدیلی روکنے کے لیے کیا پیش رفت ہوئی؟
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
برازیل کے شہر بیلیم میں منعقد ہونے والی 2 ہفتوں پر مشتمل کوپ30 عالمی ماحولیاتی کانفرنس بالآخر ایک چھوٹے مگر اہم پیش رفت کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی، تاہم موسمیاتی بحران کے تباہ کن اثرات سے بچنے کے لیے یہ اقدام ناکافی قرار دیا جا رہا ہے۔
دنیا بھر کے 194 ممالک صرف اس بات پر متفق ہو سکے کہ فوسل فیول کے مرحلہ وار خاتمے کے لیے رضاکارانہ طور پر ایک ’روڈمیپ‘ پر بات چیت شروع کی جائے گی، اس اجلاس میں امریکا نے اپنا کوئی وفد نہیں بھیجا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان کو غیر معمولی موسمیاتی تباہ کاریوں کا سامنا ہے، وزیراعظم کا بین الاقوامی ماحولیاتی کانفرنس سے خطاب
کانفرنس آخری رات بحرانی صورتِ حال سے دوچار رہی، جب 80 سے زائد ترقی یافتہ و ترقی پذیر ممالک اور تیل پیدا کرنے والے روس اور ان کے اتحادی ممالک کے درمیان سخت تعطل پیدا ہوگیا۔ طویل مذاکرات کے بعد فریقین کسی نہ کسی حد تک اتفاق رائے تک پہنچے، جس پر ماحولیاتی کارکنوں نے اطمینان کا اظہار کیا۔
ترقی پذیر ممالک کو موسمیاتی موافقت (adaptation) کے لیے مالی امداد میں اضافہ تو ملا، مگر مطلوبہ رفتار سے نہیں۔ اب انہیں 2035 تک سالانہ 120 ارب ڈالر ملیں گے، حالانکہ وہ یہ رقم 2030 تک چاہتے تھے۔
جنگلات کی کٹائی روکنے کے لیے روڈمیپ کا اخراج جنگلات کے تحفظ کے علمبردار ممالک کے لیے شدید صدمہ ثابت ہوا۔
اختتامی متن میں عالمی درجہ حرارت میں 1.
یہ بھی پڑھیے: عالمی وبا اور موسمیاتی تبدیلیوں نے ترقی کے حاصل شدہ ثمرات کو الٹ دیا، اسحاق ڈار
کانفرنس نے ’جسٹس ٹرانزیشن‘ کی شمولیت کے ذریعے مزدوروں اور کمزور طبقات کے لیے منصفانہ تبدیلی کی اہمیت کو تسلیم کیا، تاہم اہم شقیں چین اور روس کی مخالفت کے باعث شامل نہ ہوسکیں۔
ماحولیاتی ماہرین کے مطابق عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں یہ سمجھوتا پیش رفت تو ضرور ہے، مگر موسمیاتی بحران کی شدت کے مقابلے میں شدید ناکافی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
COP30 عالمی ماحولیاتی کانفرنس کوپ30
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: عالمی ماحولیاتی کانفرنس کوپ30 عالمی ماحولیاتی کانفرنس پیش رفت کے لیے
پڑھیں:
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
سٹی 42 : آزاد جموں و کشمیر کے عام انتخابات میں استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق ہو گیا۔
استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر کے صدر و سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس خان اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر و سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے درمیان طویل ملاقات کے بعد مختلف انتخابی حلقوں میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے اصولی فارمولے کی منظوری دے دی گئی۔ دونوں جماعتوں نے انتخابات کے بعد بھی باہمی سیاسی تعاون، مشاورت اور مشترکہ حکمت عملی کے تحت آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے۔
پاکستان کے ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی مثبت شرح میں کمی آگئی
کن انتخابی حلقوں میں کس جماعت کے امیدوار کی حمایت کی جائے گی، اس کا حتمی فیصلہ دونوں جماعتوں کی مشترکہ رابطہ کمیٹی جلد اعلان کرے گی۔
دونوں قائدین نے مسلح افواج پاکستان اور قومی سلامتی کے اداروں کو ملک میں امن کے قیام، مسئلہ کشمیر اجاگر کرنے کیلئے کی جانے والی کوششوں کی تعریف کی، مسئلہ کشمیر سمیت اہم امور پر جاندار موقف دنیا کے سامنے ٹھوس طریقے سے سامنے لانے پر خراج تحسین پیش کیا.