برازیل: کوپ 30 موسمیاتی کانفرنس کے مقام پر آتشزدگی
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برازیلیا (انٹرنیشنل ڈیسک) برازیل کے شہر بیلیم میں جاری کوپ 30 موسمیاتی کانفرنس کے مقام پر آتشزدگی کے باعث مندوبین کو دوسری جگہ منتقل کردیا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق بیلیم میں کوپ 30 کے کانفرنس سینٹر میں آگ لگی، جس کے بعد مندوبین کو بحفاظت نکالا گیا اور کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔برازیل کی وزارت سیاحت نے بتایا کہ کانفرنس سینٹر میں لگی آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور کسی کو نقصان نہیں پہنچا ہے۔کانفرنس کے منتظمین نے بھی تصدیق کردی ہے کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور برازیل کے فائر بریگیڈ نے کانفرنس کے مقام کو مکمل طور پر خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔سیکیورٹی اسٹاف کا کہنا تھا کہ الرٹ عین اس جگہ پر کیا گیا جہاں دنیا بھر سے آئے ہوئے کئی ممالک اور اداروں کے نمائندے موجود تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مندوبین، مبصرین اور صحافیوں نے اپنے بیگز اور دیگر سامان اٹھایا اور باہر نکل گئے ۔ فوری طور پر واضح نہیں کہ مندوبین مباحثہ جاری رکھیں گے یا مؤخر کیا جائے گا۔ جائے وقوع کی ٹی وی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سابقہ ائرپورٹ کے مقام پر قائم کانفرنس سینٹر کے اندر سے آگ کے شعلے اور دھواں بلند ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ ایمزون سٹی میں جاری کانفرنس جمعہ کو شیڈول کے مطابق اختتام پزیر ہو رہی تھی لیکن تقریباً کانفرنس میں شریک 200 ممالک کے درمیان موسمیاتی فنڈنگ بڑھانے اور فوسل فیولز سے دور جانے جیسے مسائل پر اتفاق رائے حاصل کرنے کے لیے مقرر کردہ بدھ کی خود ساختہ آخری تاریخ پر اجلاس مکمل نہ ہو سکا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کانفرنس کے کے مقام
پڑھیں:
حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
حیدرآباد الیکٹرک سپلائی کمپنی (حیسکو) میں تنخواہوں اور الاؤنسز کی مد میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔
قومی اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں آڈٹ حکام نے انکشاف کیا کہ حیسکو میں گھوسٹ ملازمین، ڈبل تنخواہوں کے ذریعے قومی خزانے کو نقصان پہنچایا گیا اور وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)99 کروڑ 62 لاکھ کی مبینہ کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے۔
آڈٹ حکام نے مزید انکشاف کیا کہ حیسکو کی اندرونی انکوائری میں مزید 6 کروڑ 78 لاکھ روپے کی مشتبہ ادائیگیاں ہوئی ہیں۔
چیئرمین کمیٹی شاہدہ اختر کی زیرصدارت اجلاس میں ایف آئی اے حکام نے بتایا کہ اس معاملے میں ایف آئی آرز کی تعداد 5 ہوگئی تھی، 151 ملزمان تھے جن میں سے 14 کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر ضمانت پر ہیں، ایک ارب روپے میں سے 13 کروڑ روپے کی ریکوری ہوئی ہے۔
رکن کمیٹی قاسم نون نے کہا کہ 13 کروڑ روپے کچھ بھی نہیں ہیں، سخت ایکشن لیا جائے، سید امین الحق نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین کی تصدیق بھی کی گئی کہ وہ موجود ہیں۔
سینیٹر افنان اللہ خان نے کہا کہ وزارت کو چاہیے کہ وہ مداخلت کرے اور ذمہ داران کا تعین کرے۔
چیئرمین کمیٹی شاہد اختر نے کہا کہ یہ تو آڈٹ نے نشان دہی کر دی ہے، لگتا ہے کہ پاور ڈویژن کا کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں ہے، جس پر سی ای او حیسکو نے بتایا کہ 756 ملین روپے کی ذمہ داری بھی فکس ہو چکی ہے۔
شاہدہ اختر نے کہا کہ عدالت کے حکم تک یہ آڈٹ پیرا زیر التوا رہے گا، رکن کمیٹی سید حسین طارق نے سوال کیا کہ حیسکو میں بائیو میٹرک سسٹم کیوں نہیں ہے۔
پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کی رکن شازیہ مری نے کہا کہ ہم ڈسکوز کو یہاں کمنٹس کے لیے نہیں احتساب کے لیے بلاتے ہیں، یہ لوگوں کو چور کہتے ہیں اور اپنی پرفارمنس کے گیت گاتے نہیں تھکتے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے ہدایت کی کہ 13 کروڑ روپے کی ریکوری کی آڈٹ سے تصدیق کرائی جائے، جو ریکوری رہ گئی ہے وہ معاملہ زیر التوا رہے گا۔