اسلام آباد(نیوزڈیسک)وفاقی دارالحکومت میں پہلے سیون اسٹارہوٹل اور نیا کنونشن سینٹر تعمیر کرنے کی منظوری دیدی گئی۔ چیئرمین سی ڈی اے محمد علی رندھاوا نے کہا تمام منصوبے اعلیٰ معیار کے مطابق اور مقررہ مدت میں مکمل کئے جائیں گے ۔ نئے کنونشن سینٹر میں ایکسپو اور ایگزیبیشن مرکز بھی شامل ہو گا۔

اعلامیہ کے مطابق 19 ارب 37 کروڑ روپے لاگت سے جدید کنونشن سینٹر 18 ماہ میں مکمل کیا جائے گا ۔ جو قومی اور بین الاقوامی تقریبات کا مرکزی مقام بنے گا ۔ واضح رہے کہ 2027 میں شنگھائی تعاون تنظیم کا سربراہی اجلاس نئے کنونشن سینٹر میں ہی ہوگا۔

ایس سی او اجلاس کے پیش نظر وفاقی دارالحکومت میں پہلا سیون اسٹار ہوٹل تعمیر کرنے کے لیے بھی اہم پیش رفت سامنے آئی ہے ۔ سی ڈی اے نے عالمی فرموں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ یا جوائنٹ وینچر کے تحت منصوبہ مکمل کرنے کی دعوت دے دی ہے۔

ریڈ زون میں تعمیر کیے جانے والے اس سیون اسٹار ہوٹل میں عالمی معیار کے کانفرنس ہال، سیمینار ہال، بینکوئٹ ہال اور کمروں کے ساتھ ملٹی اسٹوری پارکنگ اور جدید سیکیورٹی سسٹمز بھی نصب کئے جائیں گے ۔ ہوٹل کے لیے عالمی ٹینڈر بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں اسلام آباد کے مختلف مقامات پر 6 اسٹیل پیڈسٹرین برج تعمیر کرنے کی منظوری بھی دی گئی، جن پر 5 ارب چوہتر کروڑ روپے کی لاگت آئے گی ۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا

اسلام آباد:

ہائیکورٹ نے جاری اشتہار کے مطابق اینٹی نارکوٹکس فورس (اے این ایف) میں نئی بھرتیوں پر عملدرآمد سے روک دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ اسامیوں کی بھرتی کے لیے جاری کیے گئے اشتہار پر مرکزی درخواست کے حتمی فیصلے تک عملدرآمد معطل رہے گا۔ جسٹس محمد اعظم خان نے یہ احکامات جاری کرتے ہوئے متفرق درخواست پر رجسٹرار آفس کے اعتراضات بھی دور کر دیے۔

حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ عدالت درخواست کے میرٹ پر دیے بغیر متفرق درخواست کو منظور کررہی ہے۔ عدالت نے اشتہار پر عملدرآمد روکنے کی متفرق درخواست منظور کرتے ہوئے اسے نمٹا دیا، جبکہ مرکزی کیس کی سماعت کے لیے 22 اگست کی تاریخ مقرر کر دی گئی۔

واضح رہے کہ اے این ایف کے کانسٹیبل محمد شفیق خان نے اپنے وکیل محمد علی رضا کے ذریعے اسامیوں کے اشتہار کو عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے۔ درخواست میں وزارتِ داخلہ، وزارتِ قانون اور ڈائریکٹر جنرل اے این ایف کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ گزشتہ 10 سال سے اے این ایف میں ایک ہی عہدے پر خدمات انجام دے رہا ہے، لیکن اسے کوئی ترقی نہیں دی گئی۔ اس نے بتایا کہ محکمہ کے 665 کانسٹیبلز کی سینیارٹی فہرست میں اس کا نمبر 232 ہے، اس کے باوجود محکمانہ ترقی کا حق نظر انداز کیا گیا۔

درخواست میں کہا گیا کہ ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی کا اجلاس بلائے بغیر نئی براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار جاری کرنا غیر قانونی ہے۔ مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اے این ایف کے سروس رولز کے تحت پہلے سے موجود ملازمین کی ترقی کا حق ختم کرکے براہِ راست بھرتیوں کا اشتہار دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ دیگر اداروں سے ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران کی غیر قانونی انٹری روک کر سویلین ملازمین کا سروس اسٹرکچر بحال کیا جائے۔ عدالت اے این ایف کا جاری کردہ حالیہ بھرتیوں کا اشتہار غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کرے اور تمام خالی اسامیوں پر محکمانہ ترقیوں کے لیے ڈیپارٹمنٹل پروموشن کمیٹی فوری تشکیل دینے کا حکم جاری کرے۔

متعلقہ مضامین

  • اسلام آباد ہائیکورٹ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کو نئی بھرتیوں سے روک دیا
  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • سرداریار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راولپنڈی میں ہوٹل سے سرکاری ادارے کے اہلکار کی پھندا لگی لاش برآمد
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • دبئی کا بڑا اعلان؛ دوستوں اور رشتہ داروں کو سیاحت پر بلائیں، ہزاروں درہم انعام پائیں
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ