مقبوضہ کشمیر کی تاریخ میں کمسن شہید بچی کی کہانی، بھارتی جبر کا سیاہ باب
اشاعت کی تاریخ: 23rd, November 2025 GMT
23 نومبر 2018 کو کپران شوپیاں کی صبح نے مقبوضہ کشمیر کے زخمی دل پر ایک اور نشان چھوڑ دیا۔ ظالم بھارتی افواج کی پیلٹ گن سے متاثرہ اٹھارہ ماہ کی حبہ نثار بھی مقبوضہ کشمیر کی آزادی میں اپنا حصہ ڈال چکی ہے۔
کمسن حبہ نہ کسی احتجاج میں شامل تھی اور نہ ہی کسی دہشت گردی کا حصہ تھی۔ بھارتی بے رحم افواج کے چھاپے میں چلنے والی پیلٹ گن نے ایک ننھی جان کو بھی نہ بخشا۔ دھاتی چھرا آنکھ میں پیوست ہوتے ہی ننھی سی جان مقبوضہ کشمیر کی سب سے کم سن متاثرہ بن گئی۔ حبہ کا قصور صرف یہ کہ وہ اس مقبوضہ وادی میں پیدا ہوئی جہاں جابر حکمران کی طاقت معصومیت نہیں دیکھتی۔
نام نہاد ہجوم کنٹرول کے نام پر چلائی جانے والی پیلٹ گنز گھروں اور ماؤں کی گود میں پہنچتی ہیں۔ یہ زخمی آنکھ سفاک مودی کی اس خونریز پالیسی کا ثبوت ہے جو انسانیت کی حرمت روند رہی ہے۔
سوال تو یہ ہے کہ بھارتی بربریت سے اگر شیر خوار بچی بھی محفوظ نہیں تو انصاف کی روشنی کون لوٹائے گا؟ معصوم حبہ نثار کی آنکھ آج بھی انسانیت رکھنے والی عالمی برادری کی خاموشی پر سوال اٹھا رہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر کی وادی میں بہتا خون قابض مودی کی سفاک پالیسیوں کا زندہ ثبوت ہے
مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز اور مودی کے جبر پر آخر عالمی برادری کب توجہ دے گی؟
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مقبوضہ کشمیر کی
پڑھیں:
’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
پاکستان کے معروف ریپر اور گلوکار طلحہ انجم نے نئی دہلی میں تعلیمی نظام کے خلاف احتجاج کرنے والے بھارتی طلبا سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کے حوصلے اور ثابت قدمی کو سراہا ہے۔ انہوں نے طلبا پر ہونے والی پولیس کارروائی کے بعد ایک پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ وہ ان کے غصے اور احساسات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔
طلحہ انجم نے اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر بھارتی طلبا کے احتجاج کی ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں مظاہرین پر آنسو گیس اور لاٹھی چارج ہوتے دکھایا گیا۔ ویڈیو کے ساتھ انہوں نے لکھا کہ ’بھارت کے طلبا مظاہرین کے نام، مجھے آپ کی ثابت قدمی کا بے حد احترام ہے، میں آپ کی مایوسی اور غصے کو سمجھ سکتا ہوں، اور یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ کے ساتھ کیا کیا جا رہا ہے، مضبوط رہیں۔‘
طلحہ انجم پاکستان کے سب سے زیادہ سنے جانے والے موسیقاروں میں شمار ہوتے ہیں اور اسٹریمنگ پلیٹ فارم اسپاٹیفائی پر ان کی مقبولیت کئی ریکارڈ قائم کر چکی ہے۔ بھارت میں بھی ان کے مداحوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔ گزشتہ برس نیپال میں ایک کنسرٹ کے دوران ایک مداح کی جانب سے بھارتی پرچم پیش کیے جانے پر وہ خبروں میں آئے تھے، بعد ازاں انہوں نے پاکستان میں اس معاملے پر وضاحت بھی کی تھی۔
سماجی اور انسانی مسائل پر کھل کر مؤقف اختیار کرنے والے طلحہ انجم اس سے قبل بھی کئی معاملات پر آواز بلند کر چکے ہیں۔ اپریل میں صومالیہ کے ساحل کے قریب قزاقوں کے قبضے میں جانے والے پاکستانی ملاحوں کی رہائی کے لیے انہوں نے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا تھا اور وزارتِ خارجہ سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مستقل ہیلپ لائن قائم کرنے کی اپیل بھی کی تھی۔
دوسری جانب بھارت میں تعلیمی امتحانات کے مبینہ پیپر لیکس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ گزشتہ ماہ سے جاری ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے پلیٹ فارم سے ہونے والے اس دھرنے میں طلبہ وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ حالیہ دنوں پارلیمنٹ کی جانب مارچ کی کوشش کے دوران پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔